قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ بَدْءِ الوَحْيِ (بَابٌ: كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)

حکم : أحاديث صحيح بخاري كلها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَوْلِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ ﴿إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ﴾ [النساء: 163]

1. حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى المِنْبَرِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ.»

صحیح بخاری: کتاب: وحی کے بیان میں (

باب: اس بارے میں کہ رسول اللہﷺ پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی

)

مترجم:

ترجمۃ الباب:

اور اللہ عزوجل کا یہ فرمان کہ ’’ہم نے بلاشبہ (اے محمدﷺ!) آپ کی طرف وحی کا نزول اسی طرح کیا ہے جس طرح حضرت نوحؑ اور ان کے بعد آنے والے تمام نبیوں کی طرف کیا تھا۔‘‘

1. 

حضرت علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو منبر پر یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ’’اعمال کا مدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو اس کی نیت ہی کے مطابق پھل ملے گا، پھر جس شخص نے دنیا کمانے یا کسی عورت سے شادی رچانے کے لیے وطن چھوڑا تو اس کی ہجرت اسی کام کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔‘‘