قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: کِتَابُ الكُسُوفِ (بَابُ الصَّدَقَةِ فِي الكُسُوفِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

1044. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الْأُولَى ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ انْجَلَتْ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلبَكَيْتُمْ كَثِيرًا

مترجم:

1044.

حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایک دفعہ سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں بہت طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا تو وہ بھی بہت طویل کیا۔ رکوع کے بعد قیام کیا تو وہ بھی بہت طویل تھا لیکن پہلے قیام سے کچھ مختصر۔ پھر آپ نے طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے قدرے کم تھا۔ پھر سجدہ بھی بہت طویل کیا۔ دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا جیسا کہ پہلی رکعت میں کیا تھا۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو آفتاب صاف ہو چکا تھا۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ’’بلاشبہ یہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ دونوں کسی کے مرنے جینے سے گرہن زدہ نہیں ہوتے۔ جس وقت تم ایسا دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، اس کی کبریائی کا اعتراف کرو، نماز پڑھو اور صدقہ و خیرات کرو۔‘‘ پھر آپ نے فرمایا: ’’اے امت محمد! اللہ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں ہے کہ اس کا غلام یا اس کی باندی بدکاری کرے، اے امت محمد! اللہ کی قسم! اگر تم اس بات کو جان لو جو میں جانتا ہوں تو تمہیں ہنسی بہت کم آئے اور رونا بہت زیادہ آئے۔‘‘