1 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ

حکم: ضعیف

1439 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَادَ رَجُلًا، فَقَالَ: «مَا تَشْتَهِي؟» قَالَ: أَشْتَهِي خُبْزَ بُرٍّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ خُبْزُ بُرٍّ، فَلْيَبْعَثْ إِلَى أَخِيهِ» ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اشْتَهَى مَرِيضُ أَحَدِكُمْ شَيْئًا، فَلْيُطْعِمْهُ»...

سنن ابن ماجہ: کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل (باب : مریض کی عیادت کا بیان)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1439. حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو اس سے فرمایا: ’’تمہارا کس چیز کو جی چاہتا ہے؟‘‘ اس نے کہا: گندم کی روٹی کو جی چاہتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جس کسی کے پاس گندم کی روٹی ہو، وہ اپنے بھائی کے پاس بھیجے۔‘‘ پھر نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب کسی کا مریض کسی چیز کی خواہش کرے تو وہ اسے کھلا دے۔‘‘...


2 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ

حکم: ضعیف

1440 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ: «أَتَشْتَهِي شَيْئًا؟ أَتَشْتَهِي كَعْكًا؟» قَالَ: نَعَمْ، فَطَلَبُوا لَهُ...

سنن ابن ماجہ: کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل (باب : مریض کی عیادت کا بیان)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1440. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ ایک بیمار کے پاس اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ نے فرمایا: ’’تمہارا کسی چیز کو جی چاہتا ہے؟ کیا کعک کی خواہش ہے؟‘‘ اس نے کہا: ہاں، چنانچہ صحابہ‬ ؓ ن‬ے اسے کعک (ایک خاص قسم کی روٹی) منگوادی۔


3 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الطِّبِّ بَابُ الْمَرِيضِ يَشْتَهِي الشَّيْءَ

حکم: ضعیف

3440 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَادَ رَجُلًا، فَقَالَ لَهُ: «مَا تَشْتَهِي؟» فَقَالَ: أَشْتَهِي خُبْزَ بُرٍّ، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ خُبْزُ بُرٍّ، فَلْيَبْعَثْ إِلَى أَخِيهِ» ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اشْتَهَى مَرِيضُ أَحَدِكُمْ شَيْئًا، فَلْيُطْعِمْهُ»...

سنن ابن ماجہ: کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل (باب: اگر بیمار کا کسی چیز کو جی چاہے)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3440. حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے ایک آدمی کی عیادت فرمائی تو اس سے پوچھا: ’’تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ ’’اس نے کہا: گندم کی روٹی کو جی چاہتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جس کے پاس گندم کی روٹی ہو وہ اپنے بھائی کے ہاں بھیج دے۔‘‘ پھر نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب کسی کا مریض کسی چیز کی خواہش ظاہر کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے کھلا دے۔‘‘...


4 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الطِّبِّ بَابُ الْمَرِيضِ يَشْتَهِي الشَّيْءَ

حکم: ضعیف

3441 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ، قَالَ: «أَتَشْتَهِي شَيْئًا» قَالَ: أَشْتَهِي كَعْكًا، قَالَ: «نَعَمْ» فَطَلَبُوا لَهُ...

سنن ابن ماجہ: کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل (باب: اگر بیمار کا کسی چیز کو جی چاہے)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3441. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک بیمار کی عیادت کے لیے اس کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے؟ کیا تمہارا جی کیک کھانے کو چاہتا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ہاں، چنانچہ اس کے لیے کیک منگوایا گیا۔