آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ الفَهْمِ فِي العِلْمِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة  

ترجمة الباب:

73   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى المَدِينَةِ فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ، فَقَالَ: «إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً، مَثَلُهَا كَمَثَلِ المُسْلِمِ»، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ القَوْمِ، فَسَكَتُّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ النَّخْلَةُ»

صحیح بخاری :

کتاب: علم کے بیان میں

(

باب:علم میں سمجھداری سے کام لینے کا بیان

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

73.   حضرت مجاہد کہتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ مدینے تک رہا لیکن میں نے انہیں ایک حدیث کے سوا اور کوئی چیز رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔ انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ کی خدمت میں کھجور کا گودا لایا گیا۔ آپ نے فرمایا: ’’درختوں میں ایک ایسا درخت ہے جس کی مثال مسلمان کی طرح ہے۔‘‘ میں نے ارادہ کیا کہ بتاؤں وہ کھجور ہے لیکن میں لوگوں میں سب سے چھوٹا تھا، اس لیے خاموش رہا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’وہ کھجور کا درخت ہے۔‘‘

مزیدتفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے قارئین

528

اس ہفتے کے قارئین

10,600

اس ماہ کے قارئین

29,044

ٹوٹل قارئین

31,704,909

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں