صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ الوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ، وَمَنْ لَمْ يَرَ مِنَ النَّعْسَةِ وَالنَّعْسَتَيْنِ، أَوِ الخَفْقَةِ وُضُوءًا)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
212 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ، حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ، لاَ يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ»
صحیح بخاری
:
کتاب: وضو کے بیان میں
باب: سونے کے بعد وضو کرنے کے بیان میں اور بعض علماء کے نزدیک ایک یا دو مرتبہ کی اونگھ سے یا (نیند کا) ایک جھونکا آ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
)مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
212. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو، اس دوران میں اگر اسے اونگھ آ جائے تو وہ سو جائے تاکہ اس کی نیند پوری ہو جائے کیونکہ اگر کوئی اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو وہ نہیں جانتا کہ وہ اپنے لیے استغفار کر رہا ہے یا خود کو بددعا دے رہا ہے۔‘‘
آج کے قارئین
486
اس ہفتے کے قارئین
15,241
اس ماہ کے قارئین
9,460
ٹوٹل قارئین
32,035,770