صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ غَسْلِ المَرْأَةِ أَبَاهَا الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
ترجمة الباب: وَقَالَ أَبُو العَالِيَةِ: «امْسَحُوا عَلَى رِجْلِي، فَإِنَّهَا مَرِيضَةٌ»
248 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَسَأَلَهُ النَّاسُ، وَمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ أَحَدٌ: بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، «كَانَ عَلِيٌّ يَجِيءُ بِتُرْسِهِ فِيهِ مَاءٌ، وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِهِ الدَّمَ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ فَأُحْرِقَ، فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ»
صحیح بخاری
:
کتاب: وضو کے بیان میں
باب: اس بارے میں کہ عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا جائز ہے۔
)مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
ترجمۃ الباب:
ابوالعالیہ نے ( اپنے لڑکوں سے ) کہا کہ میرے پیروں پر مالش کرو کیونکہ وہ مریض ہو گئے۔
248. حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے، لوگوں نے ان سے سوال کیا: نبی ﷺ کے زخم پر کون سی دوا استعمال کی گئی تھی؟ انھوں نے فرمایا: اس کے متعلق مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی شخص نہیں رہا۔ حضرت علی ؓ اپنی ڈھال میں پانی لاتے تھے اور سیدہ فاطمہ ؓ آپ کے چہرہ مبارک سے خون دھوتی تھیں۔ پھر ایک بوریا لایا گیا اور اسے جلانے کے بعد اس کی راکھ کو آپ کے زخم میں بھر دیا گیا۔
آج کے قارئین
2,782
اس ہفتے کے قارئین
20,613
اس ماہ کے قارئین
29,254
ٹوٹل قارئین
32,144,151