صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ غَسْلِ الدَّمِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
233 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلاَمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَ بِحَيْضٍ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلاَةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي» - قَالَ: وَقَالَ أَبِي: - «ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاَةٍ، حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الوَقْتُ»
صحیح بخاری
:
کتاب: وضو کے بیان میں
باب: حیض کا خون دھونا ضروری ہے
)مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
233. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ اکثر مستحاضہ رہتی ہوں اور اس کی وجہ سے پاک نہیں ہو سکتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ نہیں، نماز مت چھوڑ۔ یہ ایک رگ کا خون ہے، حیض نہیں۔ پھر جب تیرے حیض کا وقت آ جائے تو نماز چھوڑ دے اور جب وقت گزر جائے تو (اپنے بدن اور کپڑوں سے) خون دھو کر نماز ادا کر۔‘‘ ہشام نے کہا: میرے والد (عروہ بن زبیر) نے کہا: (آپ نے فرمایا:) ’’پھر ہر نماز کے لیے وضو کر حتی کہ وہی (حیض کا) وقت پھرآ جائے۔‘‘
آج کے قارئین
2,768
اس ہفتے کے قارئین
18,126
اس ماہ کے قارئین
73,686
ٹوٹل قارئین
32,099,996