آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابٌ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة  

ترجمة الباب:

221   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: «إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ» ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: «لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا.

صحیح بخاری :

کتاب: وضو کے بیان میں

(

باب

)

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

221.   حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ کا گزر دو قبروں سے ہوا، آپ نے فرمایا:’’ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور عذاب بھی کسی بڑی بات کے سلسلے میں نہیں ہے۔ ایک تو ان میں سے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا پھرتا تھا۔‘‘  پھر آپ نے ایک تازہ شاخ لی اور درمیان سے چیر کر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ ارشاد ہوا: ’’ جب تک یہ شاخیں خشک نہ ہوں، شاید ان کے عذاب میں تخفیف ہو جائے۔‘‘

مزیدتفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے قارئین

375

اس ہفتے کے قارئین

376

اس ماہ کے قارئین

35,650

ٹوٹل قارئین

32,061,960

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں