آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ مَنْ سَأَلَ وَهُوَ قَائِمٌ عَالِمًا جَالِسًا)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة  

ترجمة الباب:

126   حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا القِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ غَضَبًا، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، فَرَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ، قَالَ: وَمَا رَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا، فَقَالَ: «مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ العُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

صحیح بخاری :

کتاب: علم کے بیان میں

(

باب: اس بارے میں کہ کھڑے ہو کر کسی عالم سے سوال کرنا جوبیٹھا ہوا ہو(جائز ہے)

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

126.   حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ کی راہ میں لڑنا کسے کہتے ہیں؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی غصے کی وجہ سے لڑتا ہے اور کوئی حمیت کے سبب جنگ کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف اپنا سر مبارک اٹھایا۔ ابو موسیٰ کہتے ہیں: آپ نے اپنا سر مبارک اس لیے اٹھایا تھا کہ وہ کھڑا تھا۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’جو شخص اس لیے لڑے کہ اللہ کا بول بالا ہو تو ایسی لڑائی اللہ عزوجل کی راہ میں ہے۔‘‘

مزیدتفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے قارئین

2,286

اس ہفتے کے قارئین

10,375

اس ماہ کے قارئین

24,801

ٹوٹل قارئین

31,809,419

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں