صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ إِلَى الكَعْبَيْنِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
189 حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ، عَنْ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ لَهُمْ وُضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ«فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ مِنَ التَّوْرِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثَلاَثَ غَرَفَاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى المِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الكَعْبَيْنِ»
صحیح بخاری
:
کتاب: وضو کے بیان میں
باب: اس بارے میں کہ ٹخنوں تک پاؤں دھونا ضروری ہے۔
)مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
189. عمرو بن ابی حسن سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید ؓ سے نبی ﷺ کے وضو کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے پانی کا برتن منگوایا اور انہیں نبی ﷺ کا وضو کر کے دکھایا، چنانچہ برتن کو جھکا کر اپنے ہاتھ میں پانی لیا اور ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر برتن میں ہاتھ ڈال کر پانی لیا۔ اس سے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اسے صاف کیا۔ یہ سب کام تین چلوؤں سے کیے۔ پھر برتن میں ہاتھ ڈالا اور چہرہ مبارک کو تین بار دھویا۔ بعد ازاں دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دو مرتبہ دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ ڈالا اور اقبال و ادبار کے ساتھ ایک مرتبہ سر کا مسح کیا۔ اس کے بعد اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے۔
آج کے قارئین
1,684
اس ہفتے کے قارئین
9,023
اس ماہ کے قارئین
31,436
ٹوٹل قارئین
31,971,868