آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ كِتَابَةِ العِلْمِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة  

ترجمة الباب:

117   حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا اشْتَدَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ قَالَ: «ائْتُونِي بِكِتَابٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ» قَالَ عُمَرُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَهُ الوَجَعُ، وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللَّهِ حَسْبُنَا. فَاخْتَلَفُوا وَكَثُرَ اللَّغَطُ، قَالَ: «قُومُوا عَنِّي، وَلاَ يَنْبَغِي عِنْدِي التَّنَازُعُ» فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ، مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ كِتَابِهِ»

صحیح بخاری :

کتاب: علم کے بیان میں

(

باب:(دینی)علم کوقلم بند کرنے کے جوازمیں

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

117.   حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب نبی ﷺ بہت بیمار ہو گئے تو آپ نے فرمایا: ’’لکھنے کا سامان لاؤ تاکہ میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے۔‘‘ حضرت عمر ؓ نے کہا: نبی ﷺ پر بیماری کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے، وہ ہمیں کافی ہے۔ لوگوں نے اختلاف شروع کر دیا اور شوروغل مچ گیا۔ تب آپ نے فرمایا: ’’میرے پاس سے اٹھ جاؤ، میرے ہاں لڑائی جھگڑے کا کیا کام ہے؟‘‘ پھر حضرت ابن عباس ؓ نکلے، فرماتے تھے: تمام مصائب سے بڑی مصیبت وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کی تحریر کے درمیان حائل ہو گئی۔

مزیدتفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے قارئین

1,728

اس ہفتے کے قارئین

3,959

اس ماہ کے قارئین

1,729

ٹوٹل قارئین

31,786,347

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں