آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ مَنْ أَجَابَ السَّائِلَ بِأَكْثَرَ مِمَّا سَأَلَهُ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة  

ترجمة الباب:

137   حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ: مَا يَلْبَسُ المُحْرِمُ؟ فَقَالَ: «لاَ يَلْبَسُ القَمِيصَ، وَلاَ العِمَامَةَ، وَلاَ السَّرَاوِيلَ، وَلاَ البُرْنُسَ، وَلاَ ثَوْبًا مَسَّهُ الوَرْسُ أَوِ الزَّعْفَرَانُ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا تَحْتَ الكَعْبَيْنِ»

صحیح بخاری :

کتاب: علم کے بیان میں

(

باب: سائل کو اس کے سوال سے زیادہ جواب دینا‘(تا کہ اسے تفصیلی معلومات ہوجائیں)

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

137.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہی سے روایت ہے، نبی ﷺ سے ایک شخص نے پوچھا: جو شخص احرام باندھے وہ کیا پہنے؟ آپ نے فرمایا:’’نہ کُرتا، نہ پگڑی، نہ پاجامہ، نہ ٹوپی اور نہ وہ کپڑا جس میں ورس یا زعفران لگی ہو۔ اور اگر جوتی نہ ہو تو موزے پہن لے اور انہیں اوپر سے کاٹ لے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔‘‘

مزیدتفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے قارئین

1,922

اس ہفتے کے قارئین

1,923

اس ماہ کے قارئین

56,001

ٹوٹل قارئین

31,840,619

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں