صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابٌ هَلْ يُجْعَلُ لِلنِّسَاءِ يَوْمٌ عَلَى حِدَةٍ فِي العِلْمِ؟)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
104 حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ قَالَتِ النِّسَاءُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ نَفْسِكَ، فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا لَقِيَهُنَّ فِيهِ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُنَّ: «مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلاَثَةً مِنْ وَلَدِهَا، إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ» فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: وَاثْنَتَيْنِ؟ فَقَالَ: «وَاثْنَتَيْنِ»
صحیح بخاری
:
کتاب: علم کے بیان میں
باب: اس بیان میں کہ کیا عورتوں کی تعلیم کے لئے کوئی حاص دن مقرر کیا جاسکتاہے؟
)مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
104. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ چند عورتوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: مرد آپ سے فائدہ اٹھانے میں ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے لیے کوئی دن مقرر فرما دیں۔ آپ نے ان کی ملاقات کے لیے ایک دن کا وعدہ کر لیا، چنانچہ اس دن آپ نے انہیں نصیحت فرمائی اور شریعت کے احکام بتائے۔ آپ نے انہیں جو باتیں تلقین فرمائی، ان میں ایک یہ بھی تھی: ’’تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی تو وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ سے حجاب بن جائیں گے۔‘‘ ایک عورت نے عرض کیا: اگر کوئی دو بھیجے تو؟ آپ نے فرمایا: ’’دو کا بھی یہی حکم ہے۔‘‘
آج کے قارئین
278
اس ہفتے کے قارئین
3,868
اس ماہ کے قارئین
30,523
ٹوٹل قارئین
31,756,241