صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ غَسْلِ المَنِيِّ وَفَرْكِهِ، وَغَسْلِ مَا يُصِيبُ مِنَ المَرْأَةِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
235 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ المَنِيِّ، يُصِيبُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَتْ: «كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ، وَأَثَرُ الغَسْلِ فِي ثَوْبِهِ» بُقَعُ المَاءِ
صحیح بخاری
:
کتاب: وضو کے بیان میں
باب: منی کا دھونا اور اس کا کھرچنا ضروری ہے، نیز جو چیز عورت سے لگ جائے اس کا دھونا بھی ضروری ہے۔
)مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
235. حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے، انھوں نے حضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا: جس کپڑے کو منی لگ جائے تو (کیسے پاک کیا جائے؟) حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑوں سے منی دھو ڈالتی، پھر آپ نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے اور دھونے کے نشان، یعنی پانی کے دھبے کپڑے پر باقی رہ جاتے۔
آج کے قارئین
2,464
اس ہفتے کے قارئین
2,465
اس ماہ کے قارئین
79,270
ٹوٹل قارئین
32,105,580