آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الغُسْلِ (بَابُ الغُسْلِ بِالصَّاعِ وَنَحْوِهِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة  

ترجمة الباب:

256   حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَةَ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ، فَاغْتَسَلَتْ، وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَبَهْزٌ، وَالجُدِّيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، «قَدْرِ صَاعٍ»

صحیح بخاری :

کتاب: غسل کے احکام و مسائل

(

باب: اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے

)

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

256.   حضرت ابوسلمہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں اور حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے بھائی حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے بھائی نے نبی ﷺ کے غسل کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اسے اپنے سر پر بہایا۔ اس وقت ہمارے اور آپ کے درمیان پردہ حائل تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری ؓ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز (بن اسعد) اور (عبدالملک بن ابراہیم) جدی نے حضرت شعبہ سے قدر صاع کے الفاظ بیان کیے ہیں۔

مزیدتفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے قارئین

2,627

اس ہفتے کے قارئین

2,628

اس ماہ کے قارئین

51,448

ٹوٹل قارئین

32,166,345

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں