صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ كِتَابَةِ العِلْمِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
114 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: هَلْ عِنْدَكُمْ كِتَابٌ؟ قَالَ: لاَ، إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ، أَوْ فَهْمٌ أُعْطِيَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ، أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ. قَالَ: قُلْتُ: فَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: العَقْلُ، وَفَكَاكُ الأَسِيرِ، وَلاَ يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ
صحیح بخاری
:
کتاب: علم کے بیان میں
باب:(دینی)علم کوقلم بند کرنے کے جوازمیں
)مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
114. حضرت ابو جحیفہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی ؓ سے دریافت کیا: آیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے؟ انہوں نے فرمایا: ’’نہیں، ہاں ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور وہ فہم ہے جو ایک مسلمان مرد کو دی جاتی ہے یا جو کچھ اس صحیفے میں موجود ہے۔ میں نے پوچھا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: دیت کے احکام، قیدی کو چھڑانے کا بیان اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔‘‘
آج کے قارئین
1,525
اس ہفتے کے قارئین
11,796
اس ماہ کے قارئین
53,095
ٹوٹل قارئین
31,778,813