صحيح البخاري: كِتَابُ الغُسْلِ (بَابُ مَنْ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
261 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ، قَالَ: قَالَ لِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَتَانِي ابْنُ عَمِّكَ يُعَرِّضُ بِالحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ. قَالَ: كَيْفَ الغُسْلُ مِنَ الجَنَابَةِ؟ فَقُلْتُ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ ثَلاَثَةَ أَكُفٍّ وَيُفِيضُهَا عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ» فَقَالَ لِي الحَسَنُ إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعَرِ، فَقُلْتُ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْكَ شَعَرًا»
صحیح بخاری
:
کتاب: غسل کے احکام و مسائل
باب: اس کے بارے میں جو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہائے
)مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
261. حضرت ابو جعفر ؓ کا بیان ہے کہ ہم سے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا: میرے پاس تمہارے چچا زاد آئے تھے، ان کا اشارہ حسن بن محمد ابن حنفیہ کی طرف تھا، انهوں نے پوچھا: غسل جنابت کا کیا طریقہ ہے؟ میں نے کہا: نبی ﷺ تین چلو لیتے اور انہیں اپنے سر پر بہاتے تھے، پھر اپنے تمام بدن پر پانی ڈالتے تھے۔ حسن نے کہا: میں تو بہت بالوں والا شخص ہوں۔ میں نے جواب دیا: نبی ﷺ کے بال تم سے زیادہ تھے۔
آج کے قارئین
1,107
اس ہفتے کے قارئین
14,863
اس ماہ کے قارئین
63,683
ٹوٹل قارئین
32,178,580