صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ مَنْ سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ يَفْهَمْهُ فَرَاجَعَ فِيهِ حَتَّى يَعْرِفَهُ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
106 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَتْ لاَ تَسْمَعُ شَيْئًا لاَ تَعْرِفُهُ، إِلَّا رَاجَعَتْ فِيهِ حَتَّى تَعْرِفَهُ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ أَوَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: {فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8] قَالَتْ: فَقَالَ: إِنَّمَا ذَلِكِ العَرْضُ، وَلَكِنْ: مَنْ نُوقِشَ الحِسَابَ يَهْلِكْ
صحیح بخاری
:
کتاب: علم کے بیان میں
باب: اس بارے میں کہ ایک شخص کوئی بات سنے اور نہ سمجھے تو دوبارہ دریافت کرلےتا کہ وہ اسے (اچھی طرح)سمجھ لے‘یہ جائز ہے۔
)مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
106. ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ ؓ جب کوئی ایسی بات سنتیں جسے سمجھ نہ پاتیں تو دوبارہ پوچھتیں تاکہ سمجھ لیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن جس سے محاسبہ ہوا، اسے عذاب دیا جائے گا۔‘‘ تو اس پر حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے:’’اس کا حساب آسانی سے لیا جائے گا۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’(یہ حساب نہیں ہے) بلکہ اس سے مراداعمال کی پیشی ہے، لیکن جس سے حساب میں جانچ پڑتال کی گئی وہ یقینا ہلاک ہو جائے گا۔‘‘
آج کے قارئین
2,710
اس ہفتے کے قارئین
10,776
اس ماہ کے قارئین
37,431
ٹوٹل قارئین
31,763,149