صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ الوُضُوءِ مِنْ غَيْرِ حَدَثٍ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
218 حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ، «صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ العَصْرَ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَا بِالأَطْعِمَةِ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى المَغْرِبِ، فَمَضْمَضَ، ثُمَّ صَلَّى لَنَا المَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
صحیح بخاری
:
کتاب: وضو کے بیان میں
باب: بغیر حدث کے بھی نیا وضو کرنا جائز ہے۔
)مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
218. حضرت سوید بن نعمان ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ہم خیبر کے سال رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ جب ہم مقام صہباء پر پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز عصر پڑھائی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے کھانے (زاد سفر) منگوائے، چنانچہ ستو کے علاوہ اور کوئی چیز پیش نہ کی جا سکی۔ پس ہم نے کھایا اور پیا۔ پھر نبی ﷺ مغرب کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ نے کلی کی اور مغرب کی نماز پڑھائی اور وضو نہیں فرمایا۔
آج کے قارئین
1,123
اس ہفتے کے قارئین
12,882
اس ماہ کے قارئین
27,702
ٹوٹل قارئین
32,054,012