صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ مَنِ اسْتَحْيَا فَأَمَرَ غَيْرَهُ بِالسُّؤَالِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
135 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَأَمَرْتُ المِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: «فِيهِ الوُضُوءُ»
صحیح بخاری
:
کتاب: علم کے بیان میں
باب: اس بیان میں کہ مسائل شرعیہ بیان کرنے میں جو شخص(کسی معقول وجہ سے) شرمائے وہ کسی دوسرے آدمی کےذریعہ سے معلوم کر لے۔
)مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
135. حضرت علی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا؛ میری مذی بہت نکلا کرتی تھی۔ میں نے حضرت مقداد ؓ سے کہا کہ وہ نبی ﷺ سے اس کا حکم پوچھیں، چنانچہ انہوں نے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ’’مذی کے لیے وضو کرنا چاہئے۔‘‘
آج کے قارئین
2,021
اس ہفتے کے قارئین
16,185
اس ماہ کے قارئین
50,577
ٹوٹل قارئین
31,835,195