آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ مَنْ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالعِلْمِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة  

ترجمة الباب:

60   حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمُ بْنُ الفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا فَأَدْرَكَنَا - وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا الصَّلاَةُ - وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا.

صحیح بخاری :

کتاب: علم کے بیان میں

(

باب:اس کے بارے میں جس نے علمی مسائل کے لئے اپنی آواز کو بلند کیا

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

60.   حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک سفر میں نبیﷺ  ہم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ پھر آپ ہمیں اس حالت میں ملے کہ ہم سے نماز میں دیر ہو گئی تھی اور ہم (جلدی جلدی) وضو کر رہے تھے۔ ہم اپنے پاؤں (خوب دھونے کی بجائے ان) پر مسح کی طرح تر ہاتھ پھیرنے لگے۔ یہ دیکھ کر آپ نے بآواز بلند دو یا تین مرتبہ فرمایا: ’’دوزخ میں جانے والی ایڑیوں پر افسوس!‘‘

مزیدتفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے قارئین

1,334

اس ہفتے کے قارئین

1,335

اس ماہ کے قارئین

8,109

ٹوٹل قارئین

31,683,974

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں