آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابُ مَنْ قَالَ إِنَّ الإِيمَانَ هُوَ العَمَلُ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة  

ترجمة الباب: لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ الجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ [الزخرف: 72] وَقَالَ عِدَّةٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [الحجر: 93] عَنْ قَوْلِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَقَالَ: ﴿لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ العَامِلُونَ﴾ [الصافات: 61]

26   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ العَمَلِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ». قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «حَجٌّ مَبْرُورٌ.»

صحیح بخاری :

کتاب: ایمان کے بیان میں

(

باب:اس شخص کے قول کی تصدیق میں جس نے کہا ہے کہ ایمان عمل( کا نام )ہے

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’اور یہ جنت ہے اپنے عمل کے بدلے میں تم جس کے مالک ہوئے ہو ۔‘‘ اور بہت سے اہل علم حضرات ارشاد باری تعالیٰ فوربک الخ کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ یہاں عمل سے مراد "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" کہنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’عمل کرنے والوں کو اسی جیسا عمل کرنا چاہئے۔‘‘

26.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا۔‘‘ سوال کیا گیا: پھر کون سا؟ فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔‘‘ پوچھا گیا: پھر کون سا؟ فرمایا: ’’وہ حج جو قبول ہو۔‘‘

مزیدتفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے قارئین

1,006

اس ہفتے کے قارئین

2,082

اس ماہ کے قارئین

2,083

ٹوٹل قارئین

31,626,123

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں