1 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ الِاسْتِتَارِ فِي الْخَلَاءِ

حکم: ضعیف

35 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ الْحُصَيْنِ الْحُبْرَانِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقْدَ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَسْتَد...

سنن ابو داؤد:

کتاب: طہارت کے مسائل

(باب: قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنا)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

35. سیدنا ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جو شخص سرمہ لگائے تو طاق سلائیاں لگائے، جس نے ایسا کیا تو بہتر کیا اور جس نے نہ کیا اس پر کوئی حرج نہیں اور جو استنجا کرنے میں ڈھیلے استعمال کرے، اسے چاہیے کہ طاق عدد لے، جس نے ایسا کیا تو بہتر کیا اور جس نے نہ کیا اس پر کوئی حرج نہیں اور جس نے کچھ کھایا اور پھر تنکے سے خلال کیا تو چاہیے کہ منہ کے ریزوں کو پھینک دے اور جو کچھ اپنی زبان سے صاف کرے تو وہ نگل لے، جس نے کیا خوب کیا اور جس نے نہ کیا اس پر کوئی حرج نہیں اور جو پاخانے کو آئے تو چاہیے کہ کوئی آڑ لے لے، اگر کچھ نہ پائے تو ریت ...


2 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْ النَّار...

حکم: ضعیف

193 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ قَالَ: ابْنُ السَّرْحِ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ ثُمَامَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا- مِصْرَ- عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ- مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ فِي مَسْجِدِ مِصْرَ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ- أَوْ سَادِسَ سِتَّةٍ - مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِ رَجُلٍ، فَمَرَّ بِلَالٌ، فَنَادَاهُ بِالصَّلَاةِ، فَخَرَجْنَا، فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ وَب...

سنن ابو داؤد:

کتاب: طہارت کے مسائل

(باب: آگ پر پکی چیز کے استعمال سے وضو نہ کرنا)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

193. عبید بن ثمامہ مرادی نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ جو کہ اصحاب رسول میں سے تھے، ہمارے ہاں مصر میں تشریف لائے۔ میں نے انہیں وہاں مسجد میں حدیث بیان کرتے سنا، کہہ رہے تھے کہ مجھے یاد ہے کہ میں ایک شخص کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مجلس میں ساتواں فرد تھا یا چھٹا تھا کہ بلال آئے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کو نماز کی اطلاع دی تو ہم نکلے اور ایک شخص کے پاس سے گزرے، اس کی ہنڈیا آگ پر رکھی تھی، رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا ”کیا تمہاری ہنڈیا تیار ہو گئی ہے؟“ اس نے کہا جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان! تو آپ نے اس سے گوشت کی ایک بوٹی لی اور کھاتے ہو...


3 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الْبُيُوعِ بَابٌ فِي اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ

حکم: صحیح

3332 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِي امْرَأَةٍ فَجَاءَ وَجِيءَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ يَدَهُ ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ فَأَكَلُوا فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فَمِهِ ثُمَّ قَالَ أَج...

سنن ابو داؤد:

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل

(باب: شبہات سے بچنے کی تاکید)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3332. جناب عاصم بن کلیب اپنے والد سے وہ ایک انصاری جوان سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں گئے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو قبر پر دیکھا، آپ ﷺ قبر کھودنے والے کو ہدایات دے رہے تھے: ”پائینتی کی طرف سے کھلی کرو، سر کی طرف سے کھلی کرو۔“ جب آپ ﷺ واپس ہوئے تو آپ ﷺ کو ایک عورت کی طرف سے دعوت دینے والا ملا۔ تو آپ ﷺ اس کے ہاں تشریف لے آئے، کھانا پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا پھر لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ بڑھائے اور کھانے لگے۔ ہمارے بڑوں نے دیکھا کہ آپ ایک ہی لقمہ اپنے منہ میں گھمائے جا رہے ہیں ”مگر نگلتے نہیں“ آپ ﷺ نے فرمایا: ...


4 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ الِارْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ

حکم: ضعیف

338 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. وَزَادَ فِيهِ «وَمَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ لَاكَ فَلْيَبْتَلِعْ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

(باب: پیشاب اور پاخانہ کے لیےمناسب جگہ تلاش کرنا)

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

338. اسی حدیث کی ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: ’’جو سرمہ لگائے تو طاق تعداد میں لگائے۔ جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا۔ جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں۔ اور جو شخص زبان کے ذریعے سے (دانتوں کے درمیان سے) کچھ نکالے تو اسے چاہیے کہ نگل لے۔‘‘