3 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ لَا يَعِيبُ الطَّعَامَ

حکم: صحیح

2064 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ كَانَ إِذَا اشْتَهَى شَيْئًا أَكَلَهُ وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ...

صحیح مسلم:

کتاب: مشروبات کا بیان

(باب: کھانے میں عیب نہیں نکالنا چا ہیے)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2064. جریر نے اعمش سے، انھوں نے ابوحازم سے، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگرکوئی چیز آپﷺ کو پسند آتی تو آپ اس کو کھا لیتے اور اگر ناپسند ہوتی تو اسے چھوڑ دیتے ۔


6 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ لَا يَعِيبُ الطَّعَامَ

حکم: صحیح

2064.03 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى آلِ جَعْدَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ طَعَامًا قَطُّ كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِنْ لَمْ يَشْتَهِهِ سَكَتَ...

صحیح مسلم:

کتاب: مشروبات کا بیان

(باب: کھانے میں عیب نہیں نکالنا چا ہیے)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2064.03. آل جعدہ کے آزاد کردہ غلام ابویحییٰ نے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نکالا ہو۔ اگر آپﷺ کو کوئی کھانا مرغوب ہوتا (اچھا لگتا) تو اسے کھا لیتے اور اچھا نہ لگتا تو خاموش رہتے۔


9 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الْعَيْبِ لِلنِّعْمَةِ​

حکم: صحیح

2031 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِلَّا تَرَكَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو حَازِمٍ هُوَ الْأَشْجَعِيُّ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ...

جامع ترمذی: كتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں (باب: اللہ کی نعمت میں عیب نہ لگانے کابیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2031. ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کبھی بھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا ، جب آپﷺ کو پسند آتا توکھا لیتے نہیں تو چھوڑدیتے۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔


10 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْأَحْكَامِ بَابُ مَنْ بَنَى فِي حَقِّهِ مَا يَضُرُّ بِجَارِهِ

حکم: صحیح

2340 حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ

سنن ابن ماجہ: کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل (باب: اپنی زمین میں ایسی عمارت بنانا جس سے ہمسائے ک...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2340. حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ دیا: نہ (پہلے پہل) کسی کو نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا جائز ہے، نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا۔