1 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الْأَدَبِ بَابُ مَنْ يُؤْمَرُ أَنْ يُجَالِسَ

حکم: حسن

4832 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ<....

سنن ابو داؤد:

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان

(باب: کیسے لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے ؟)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

4832. سیدنا ابوسعید ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”صرف مومن آدمی کی صحبت اختیار کر اور تیرا کھانا بھی کوئی متقی ہی کھائے۔“


2 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي صُحْبَةِ الْمُؤْمِنِ​

حکم: حسن

2395 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ سَالِمٌ أَوْ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ...

جامع ترمذی:

كتاب: زہد،ورع، تقوی اور پرہیز گاری کے بیان میں

(باب: مومن کی صحبت اختیارکرنے کابیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2395. ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا: ’’مومن کے سوا کسی کی صحبت اختیار نہ کرو، اور تمہارا کھانا صرف متقی ہی کھائے‘‘۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔