1 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْإِيمَانِ بَابُ تَحْرِيمِ الْكِبْرِ وَبَيَانِهِ

حکم: صحیح

91 وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ فُضَيْلٍ الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ» قَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ: «إِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، ...

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

(باب: تکبر کی حرمت کا بیان)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

91. یحییٰ بن حمادؒ نے کہا: ہمیں شعبہؒ نے ابان بن تغلبؒ سے حدیث سنائی، انہوں نے فضیل بن عمرو فقیمیؒ سے، انہوں نے ابراہیم نخعیؒ سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ’’جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا، وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔‘‘ ایک آدمی نے کہا: انسان چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کے جوتے اچھے ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’اللہ خود جمیل ہے، وہ جمال کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر: حق کو قبول نہ کرنا اورلوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔‘‘...


2 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابٌ فِي غَسْلِ الثَّوْبِ وَفِي الْخُلْقَانِ

حکم: صحیح

4062 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ وَكِيعٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ نَحْوَهُ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا قَدْ تَفَرَّقَ شَعْرُهُ فَقَالَ أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ وَرَأَى رَجُلًا آخَرَ وَعَلْيِهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ فَقَالَ أَمَا كَانَ هَذَا يَجِدُ مَاءً يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل

(باب: پرانے ( میلے کچیلے اور گھٹیا ) کپڑے پہننے ( ک...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

4062. سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے بال بکھرے بکھرے سے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اسے کوئی چیز نہیں ملتی کہ اس سے اپنے بالوں کو سنوار لے؟“ اور آپ ﷺ نے ایک دوسرے آدمی کو دیکھا جس کے کپڑے میلے ہو رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اسے کوئی چیز نہیں ملتی کہ اس سے اپنے کپڑے دھو لے؟“...


3 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابٌ فِي غَسْلِ الثَّوْبِ وَفِي الْخُلْقَانِ

حکم: صحیح

4063 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ دُونٍ فَقَالَ أَلَكَ مَالٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ مِنْ أَيِّ الْمَالِ قَالَ قَدْ آتَانِي اللَّهُ مِنْ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ قَالَ فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ وَكَرَامَتِهِ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل

(باب: پرانے ( میلے کچیلے اور گھٹیا ) کپڑے پہننے ( ک...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

4063. جناب ابوالاحوص (عوف) اپنے والد (مالک بن نضلہ ؓ) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے گھٹیا کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا کس قسم کا؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ نے مجھے اونٹ، بکریاں، گھوڑے اور غلام ہر طرح کا مال عنایت فرمایا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ نے تمہیں مال دیا ہے تو اس کی نعمت اور احسان کا اثر تجھ پر نظر آنا چاہیئے۔“...


4 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ النَّومِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَطَرِ

حکم: صحیح

5100 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَسَرَ ثَوْبَهُ عَنْهُ حَتَّى أَصَابَهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ: >لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ<....

سنن ابو داؤد: كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل (باب: بارش کا بیان)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

5100. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی۔ تو رسول اللہ ﷺ نکلے اور اپنے جسم سے کپڑا ہٹا لیا حتیٰ کہ وہ آپ ﷺ کے جسم پر پڑنے لگی۔ ہم نے عرض کیا: اے ﷲ کے رسول! آپ نے ایسے کیوں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آئی ہے۔“...


5 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الْآدَابِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّظَافَةِ​

حکم: ضعیف

2799 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ قَال سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ يُحِبُّ الطَّيِّبَ نَظِيفٌ يُحِبُّ النَّظَافَةَ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ جَوَادٌ يُحِبُّ الْجُودَ فَنَظِّفُوا أُرَاهُ قَالَ أَفْنِيَتَكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ فَقَالَ حَدَّثَنِيهِ عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ نَظِّفُوا أَفْنِيَتَكُمْ قَالَ أَبُو عِيسَى...

جامع ترمذی: کتاب: آداب واحکام کا بیان (باب: صفائی ستھرائی کابیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2799. صالح بن ابی حسان کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا: اللہ طیّب (پاک) ہے اور پاکی (صفائی وستھرائی) کو پسند کرتا ہے۔ اللہ مہربان ہے اور مہربانی کو پسند کرتا ہے۔ اور اللہ سخی وفیاض ہے اور جودوسخا کو پسند کرتا ہے، تو پاک وصاف رکھو۔ (میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس سے آگے کہا) اپنے گھروں کے صحنوں اور گھروں کے سامنے کے میدانوں کو، اور یہود سے مشابہت نہ اختیار کرو‘‘۔ (صالح کہتے ہیں) میں نے اس (روایت ) کا مہاجر بن مسمار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے اس کو عامر بن سعد نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا۔ البتہ...