1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ: المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ ل...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

10. حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ هُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عَبْدُ الأَعْلَ...

صحیح بخاری : کتاب: ایمان کے بیان میں (باب: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دیگر مسلمان بچے رہیں (کوئی تکلیف نہ پائیں) )

مترجم: BukhariWriterName

10. حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اور مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔‘‘ ابوعبداللہ (امام بخاری ﷫) نے فرمایا: اور ابو معاویہ نے کہا: ہمیں (یہ) حدیث داود نے بیان کی، ان کو عامر (شعبی) نے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے سنا، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ اور عبدالاعلیٰ نے داؤد سے بیان کی، انہوں نے عامر (شعبی) سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے۔


2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ مِنَ الإِسْلاَمِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

12. حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ.»...

صحیح بخاری : کتاب: ایمان کے بیان میں (باب: اس بیان میں کہ (بھوکے ناداروں کو) کھانا کھلانا بھی اسلام میں داخل ہے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

12. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا، کون سا اسلام بہتر ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ’’تم کھانا کھلاؤ اور سب کو سلام کرو، (عام اس سے کہ) تم اسے پہچانتے ہو یا نہیں پہچانتے ہو۔‘‘


3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابُ : قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «أَنَا أَعْلَمُكُمْ ب...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

20. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَرَهُمْ، أَمَرَهُمْ مِنَ الأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ، قَالُوا: إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللَّهِ أَنَا.»...

صحیح بخاری : کتاب: ایمان کے بیان میں (باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں۔ )

مترجم: BukhariWriterName

20. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب صحابہ کرام ؓ کو حکم دیتے تو انہی کاموں کا حکم دیتے جن کو وہ بآسانی کر سکتے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارا حال آپ جیسا نہیں ہے۔ اللہ نے آپ کی اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمایا ہے۔ یہ سن کر آپ ﷺ اس قدر ناراض ہوئے کہ آپ کے چہرہ مبارک پر غصے کا اثر ظاہر ہوا، پھر آپ نے فرمایا: ’’میں تم سب سے زیادہ پرہیزگار اور اللہ کو جاننے والا ہوں۔‘‘ ...


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ :الدِّينُ يُسْرٌ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

39. حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ مُطَهَّرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الغِفَارِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ.»...

صحیح بخاری : کتاب: ایمان کے بیان میں (باب :اس بیان میں کہ دین آسان ہے )

مترجم: BukhariWriterName

39. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’بےشک دین اسلام بہت آسان ہے۔ اور جو شخص دین میں سختی کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا، اس لیے میانہ روی اختیار کرو اور (اعتدال کے ساتھ) قریب رہو اور خوش ہو جاؤ۔ صبح اور دوپہر کے بعد اور کچھ رات میں عبادت کرنے سے مدد حاصل کرو۔


6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابُ: حُسْنِ إِسْلاَمِ المَرْءِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

41. قَالَ مَالِكٌ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا أَسْلَمَ العَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلاَمُهُ، يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ سَيِّئَةٍ كَانَ زَلَفَهَا، وَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ القِصَاصُ: الحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهَا. ...

صحیح بخاری : کتاب: ایمان کے بیان میں (باب :آدمی کے اسلام کی خوبی( کےدرجات کیا ہیں )

مترجم: BukhariWriterName

41. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فر رہے تھے: ’’جب کوئی بندہ مسلمان ہو جاتا ہے، پھر اسلام پر اچھی طرح کاربند رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے جن کا اس نے قبل از اسلام ارتکاب کیا تھا۔ اور اس کے بعد پھر قصاص کا اصول چلتا ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک دیا جاتا ہے۔ اور برائی کا بدلہ تو برائی کے مطابق ہی دیا جاتا ہے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فر لے۔‘‘ ...


7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابُ: حُسْنِ إِسْلاَمِ المَرْءِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

42. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلاَمَهُ: فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا....

صحیح بخاری : کتاب: ایمان کے بیان میں (باب :آدمی کے اسلام کی خوبی( کےدرجات کیا ہیں )

مترجم: BukhariWriterName

42. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی اپنے اسلام کو اچھا کرے تو وہ ہر اچھائی جس کو وہ بجا لائے گا، دس گنا سے سات سو گنا تک لکھی جائے گی اور ہر وہ برا کام جو وہ کرتا ہے تو وہ اتنا ہی لکھا جاتا ہے (جتنا اس نے کیا ہے)۔‘‘


8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ: أَحَبُّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلّ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

43. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، قَالَ: «مَنْ هَذِهِ؟» قَالَتْ: فُلاَنَةُ، تَذْكُرُ مِنْ صَلاَتِهَا، قَالَ: «مَهْ، عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لاَ يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا» وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَادَامَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ ....

صحیح بخاری : کتاب: ایمان کے بیان میں (باب:اللہ کو دین( کا) وہ (عمل)سب سے زیادہ پسند ہے جس کو پابندی سے کیا جائے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

43. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ ایک مرتبہ ان کے پاس تشریف لائے، وہاں ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ نے پوچھا: ’’یہ کون ہے؟‘‘ حضرت عائشہ ؓ نے کہا: یہ فلاں عورت ہے اور اس کی (کثرت) نماز کا حال بیان کرنے لگیں۔ آپ نے فرمایا: ’’رک جاؤ! تم اپنے ذمے صرف وہی کام لو جو (ہمیشہ) کر سکتے ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں اکتاتا، تم ہی عبادت کرنے سے تھک جاؤ گے۔ اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب، اطاعت کا وہ کام ہے جس کا کرنے والا اس پر ہمیشگی کرے۔‘‘...


9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ: مَا جَاءَ إِنَّ الأَعْمَالَ بِالنِّيَّةِ وَ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

56. حَدَّثَنَا الحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فَمِ امْرَأَتِكَ.»...

صحیح بخاری : کتاب: ایمان کے بیان میں (باب:اس بات کے بیان میں کہ عمل بغیر نیت اور خلوص کے صحیح نہیں ہوتے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جو نیت کرے گا )

مترجم: BukhariWriterName

56. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہیں اس نفقے پر ضرور اجر دیا جائے گا جس سے تمہارا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو حتیٰ کہ اس لقمے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو۔‘‘ ...


10 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: الدِّينُ النَّصِيحَةُ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

58. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ يَوْمَ مَاتَ المُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، قَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَالوَقَارِ، وَالسَّكِينَةِ، حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ، فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمُ الآنَ. ثُمَّ قَالَ: اسْتَعْفُوا لِأَمِيرِكُمْ، فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ العَفْوَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: أُبَايِعُكَ عَلَى الإِسْلاَمِ فَشَرَطَ عَلَيَّ: «وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُس...

صحیح بخاری : کتاب: ایمان کے بیان میں (باب:آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان کہ دین سچے دل سے اللہ کی فرمابرداری اور اس کے رسول اور مسلمان حاکموں اور تمام مسلمانوں کی خیر خواہی کا نام ہے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

58. زیاد بن علاقہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جریر بن عبداللہ البجلی ؓ سے سنا، جس دن حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کی وفات ہوئی تو وہ خطبے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمدوثنا کی اور کہا: تمہیں صرف ایک اللہ سے ڈرنا چاہئے جس کا کوئی شریک نہیں، نیز تمہیں دوسرے ا...