1 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الطَّهَارَةِ (بَابٌ فِي الْأَذَى يُصِيبُ النَّعْلَ)

حکم: صحیح()(الألباني)

385. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ح وحَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي ح، وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ الْمَعْنَى قَالَ: أُنْبِئْتُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلِهِ الْأَذَى، فَإِنَّ التُّرَابَ لَهُ طَهُورٌ»...

سنن ابو داؤد : کتاب: طہارت کے مسائل (جوتے کو نجاست لگ جائے تو۔۔۔؟ )

مترجم: ١. فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

385. جناب سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے جوتے سے نجاست کو روندے تو مٹی اسے پاک کرنے والی ہے۔“


2 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الطَّهَارَةِ (بَابٌ فِي الْأَذَى يُصِيبُ النَّعْلَ)

حکم: صحیح()(الألباني)

386. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ يَعْنِي الصَّنْعَانِيَّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ قَالَ: «إِذَا وَطِئَ الْأَذَى بِخُفَّيْهِ، فَطَهُورُهُمَا التُّرَابُ»...

سنن ابو داؤد : کتاب: طہارت کے مسائل (جوتے کو نجاست لگ جائے تو۔۔۔؟ )

مترجم: ١. فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

386. سیدنا سعید بن ابی سعید اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا۔ اس روایت میں ہے ”جب کوئی اپنے موزوں سے نجاست کو روندے تو مٹی پاک کرنے والی ہے۔“


4 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ)

حکم: صحیح()(الألباني)

650. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ قَالُوا رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ...

سنن ابو داؤد : کتاب: نماز کے احکام ومسائل (باب: جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا مسئلہ )

مترجم: ١. فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

650. سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ ﷺ نے (دوران نماز میں) اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ لیے۔ جب صحابہ کرام‬ ؓ ن‬ے آپ ﷺ کو دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتارے؟“ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے جوتے اتارے ہیں تو ہم نے بھی اتار دیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک جبرائیل ؑ میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کے جوتے میں گندگی لگی ہے۔“ ( لفظ «قذر» ...