1 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابٌ فِي الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ إِذَا وُضِعَ فِي ...)

حکم: صحیح

3213. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ح و حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَضَعَ الْمَيِّتَ فِي الْقَبْرِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ...

سنن ابو داؤد : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: قبر میں اتارتے ہوئے میت کے لیے دعا کرنا )

مترجم: DaudWriterName

3213. سیدنا ابن عمر ؓ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ جب میت کو قبر میں اتارتے ‘ تو یوں فرمایا کرتے «بسم الله ، وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم» ” اللہ کے نام سے اور رسول اللہ ( ﷺ ) کے طریقے پر ۔ “ اور یہ لفظ مسلم بن ابراہیم کے ہیں ۔


2 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْجَنَائِزِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَب...)

حکم: صحیح

1046. حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّةً إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ قَالَ مَرَّةً بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ وَقَالَ مَرَّةً بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيّ...

جامع ترمذی : كتاب: جنازے کے احکام ومسائل (باب: جب میت قبر میں رکھ دی جائے تو کونسی دعا پڑھی جائے؟​ )

مترجم: TrimziWriterName

1046. عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ جب میت قبر میں داخل کردی جاتی (اورکبھی راوی حدیث ابوخالد کہتے: جب میت اپنی قبر میں رکھ دی جاتی تو آپ کبھی : 'بسم الله وبالله وعلى ملة رسول الله'، پڑھتے اورکبھی 'بسم الله وبالله وعلى سنة رسول الله ﷺ' (اللہ کے نام سے، اللہ کی مدد سے اور رسول اللہ ﷺ کے طریقہ پر میں اسے قبر میں رکھتاہوں) پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی ابن عمر سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی ہے اوراسے ابوالصدیق ناجی نے بھی ابن عمر سے روایت کیا ہے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے،۳- نیز یہ صدیق ا...


3 سنن النسائي: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابٌ اسْتِئْذَانُ الْبِكْرِ فِي نَفْسِهَا)

حکم: صحیح

3261. أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدَ مَوْتِ نَافِعٍ بِسَنَةٍ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ حَلْقَةٌ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا...

سنن نسائی : کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل (باب: کنواری لڑکی سے اس کے نکاح کے بارے میں اجازت لی جائے )

مترجم: NisaiWriterName

3261. حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’بیوہ عورت اپنے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ اختیار رکھتی ہے اور نابالغ یا کنواری لڑکی سے بھی اجازت ہوگا۔‘‘


4 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ)

حکم: صحیح

1550. حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ، قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ» وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّةً: إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ...

سنن ابن ماجہ : کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل (باب : میت کو قبر میں اتارنے کا بیان )

مترجم: MajahWriterName

1550. عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ’’جب میت کو قبر میں داخل کیا جاتا تو نبی ﷺ فرماتے تھے :(بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ) ’’اللہ کے نام سے اور اس کے رسول کی ملت پر۔‘‘ روائ حدیث ابو خالد نے ایک روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: جب میت کو لحد میں رکھاجاتا تو آپ فرماتے:( بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ) ’’اللہ کے نام سے اور اس کے رسول کے طریقے کے مطابق۔‘‘ اور راوئ حدیث ہشام نے اپنی روایت میں یوں بیان کیا:( بِسْمِ اللَّهِ وَفِى سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ) ’’اللہ کے نام سے ، اللہ کی راہ میں اور اللہ کے ...


5 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ)

حکم: ضعیف

1553. حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: حَضَرْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي جِنَازَةٍ، فَلَمَّا وَضَعَهَا فِي اللَّحْدِ، قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ» فَلَمَّا أُخِذَ فِي تَسْوِيَةِ اللَّبِنِ عَلَى اللَّحْدِ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمَّ جَافِ الْأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهَا، وَصَعِّدْ رُوحَهَا، وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا» قُلْتُ: يَا ابْنَ عُمَرَ أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى ا...

سنن ابن ماجہ : کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل (باب : میت کو قبر میں اتارنے کا بیان )

مترجم: MajahWriterName

1553. سعید بن مسیب ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں ایک جنازے میں عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ حاضر تھا۔ جب انہوں نے میت کو قبر میں رکھا تو فرمایا: (بِسْمِ اللَّهِ وَفِى سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ) ’’اللہ کے نام سے ، اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول ﷺ کی ملت پر۔‘‘ جب لحد پر کچی اینٹیں لگانا شروع کی گئیں تو فرمایا:(اللَّهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ جَافِ الأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهَا وَصَعِّدْ رُوحَهَا وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا) ’’اے اللہ! اسے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے پناہ دے، اے اللہ! اس کے پہلوؤں سے ( قبر ک...