مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 7
کل صفحات: 1 - کل احادیث: 7
1 جامع الترمذي أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ دُعَاءِ اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَاخْتَرْ لِي
حکم: صحیح
3517 حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا يَحْيَى أَنَّ زَيْدَ بْنَ سَلَّامٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوُضُوءُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُه...
جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں (باب: اس دعاء کے بیان میں((اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَاخ...)
مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)
3517. ابومالک اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’وضو آدھا ایمان ہے، اور (اَلْحَمْدُ ِللہِ) (اللہ کی حمد) میزان کو ثواب سے بھر دے گا اور (سُبْحَانَ اللهِ) اور (اَلْحَمْدُ ِلله) یہ دونوں بھر دیں گے آسمانوں اور زمین کے درمیان کی جگہ کو یا ان میں سے ہر ایک بھر دے گا آسمانوں اور زمین کے درمیان کی ساری خلا کو (اجر و ثواب سے) نماز نور ہے، اور صدقہ دلیل اور کسوٹی ہے (ایمان کی) اور صبر روشنی ہے اور قرآن تمہا...
2 جامع الترمذي أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابٌ فِيهِ حَدِيثَانِ التَسبِيحِ نِصفَ المِيزَانِ...
حکم: ضعیف
3519 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ عَدَّهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ فِي يَدِهِ التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ...
جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں (باب: اس میں دو حدیثیں ہیں’’سبحان اللہ نصف میزان ہے...)
مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)
3519. بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے ہاتھ کی انگلیوں یا اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر گن کر بتایا کہ (سُبْحَانَ اللہ) نصف میزان رہے گا اور(اَلْحَمْدُ لِلّٰه) اس پورے پلڑے کو بھردے گا اور (اَللہُ اَکْبَر) آسمان و زمین کے درمیان کی ساری جگہوں کو بھر دے گا، روزہ آدھا ہے، اور پاکی نصف ایمان ہے۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور اس حدیث کو شعبہ اور سفیان ثوری نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔...
3 سنن النسائي كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ وُجُوبِ الزَّكَاةِ
حکم: صحیح
2437 أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُنْمٍ أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالزَّكَاةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ...
سنن نسائی:
کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل
مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)
2437. حضرت ابو مالک اشعری ؓ سے منقول ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اچھی طرح وضو کرنا نصف ایمان ہے۔ الحمد للہ کہنا میزان (ترازو) کو بھر دیتا ہے۔ سبحان اللہ اور اللہ اکبر کہنا آسمان وزمین کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، زکاۃ (ایمان کی) دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن مجید حجت ہے تیرے حق میں یا تیرے خلاف۔“...
4 سنن ابن ماجه كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْوُضُوءِ
حکم: صحیح
277 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةَ وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ...
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں
مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)
277. حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’سیدھی راہ پر قائم رہو اور تم (کما حقہ) قائم نہیں رہ سکو گے، اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی حفاظت مومن ہی کرتا ہے۔‘‘
5 سنن ابن ماجه كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْوُضُوءِ
حکم: صحیح
278 حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةَ وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ...
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں
مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)
278. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سیدھی راہ پر قائم رہو، اور تم (کما حقہ) قائم نہیں رہ سکو گے، اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارا افضل عمل نماز ہے اور وضو کی حفاظت مومن ہی کرتا ہے۔‘‘
6 سنن ابن ماجه كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْوُضُوءِ
حکم: ضعیف
279 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ أَسِيدٍ عَنْ أَبِي حَفْصٍ الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ قَالَ اسْتَقِيمُوا وَنِعِمَّا إِنْ اسْتَقَمْتُمْ وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ...
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں
مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)
279. حضرت ابو امامہ ؓ سے مرفوعاً روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سیدھی راہ پر قائم رہو اور کتنا اچھا ہو اگر تم قائم رہ سکو، اور تمہارا بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی حفاظت مومن ہی کرتا ہے۔‘‘
7 سنن ابن ماجه كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ الْوُضُوءِ شَطْرُ الْإِيمَانِ
حکم: صحیح
280 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ أَخِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءُ الْمِيزَانِ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالزَّكَاةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ ف...
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں
مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)
280. حضرت ابو مالک اشعری ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ پورا (اچھی طرح) وضو کرنا نصف ایمان ہے اور الحمدللہ سے (اعمال کا) ترازو بھر جاتا ہے اور تسبیح و تکبیر سے آسمان اور زمین پر ہو جاتے ہیں، نماز نور ہے، زکاة دلیل ہے، صبر روشنی ہے، قرآن تیرے حق میں یا تیرے خلاف ایک حجت ہے، ہر شخص صبح کو اپنے آپ کو فروخت کرتا ہے، خود کو آزاد کر لیتا ہے یا تباہ کر لیتا ہے۔‘‘...
مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 7
کل صفحات: 1 - کل احادیث: 7