1 ‌سنن النسائي كِتَابُ الْقَسَامَةِ بَابُ مَا جَاءَ فِي كِتَابِ الْقِصَاصِ مِنَ الْمُج...

حکم: صحیح

4864 أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النَّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا} [النساء: 93] فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ وَمَا نَسَخَهَا شَيْءٌ»...

سنن نسائی:

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

(باب: قصاص سے متعلقہ روایات جو صرف مجتبیٰ نسائی میں...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4864. حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: کوفے والوں کا اس آیت کے بارے میں اختلاف ہوگیا: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا﴾ ”جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر ے۔“ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف کوچ کیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انھوں نے فرمایا: یہ آیت آخری نازل ہونے والی آیات میں شامل ہے۔ اس کو کسی اور آیت نے منسوخ نہیں کیا۔...


2 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الدِّيَاتِ بَابُ مَا لَا قَوَدَ فِيهِ

حکم: حسن

2637 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ ابْنِ صُهْبَانَ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا قَوَدَ فِي الْمَأْمُومَةِ وَلَا الْجَائِفَةِ وَلَا الْمُنَقِّلَةِ...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل

(باب: جس صورت میں قصاص نہیں)

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2637. عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دماغ کی جھلی تک پہنچ جانے والے زخم کا قصاص نہیں، نہ جسم کے اندرونی خلا( مثلا پیٹ) تک پہنچ جانے والے زخم میں اور نہ ہڈی کو اپنی جگہ سے ہٹا دینے والی چوٹ میں قصاص ہے۔