1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ (بَابُ فِيْ تَضْيِيعِ الصَّلاَةِ عَنْ وَقْتِهَا)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

529. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلاَنَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: الصَّلاَةُ؟ قَالَ: أَلَيْسَ ضَيَّعْتُمْ مَا ضَيَّعْتُمْ فِيهَا

صحیح بخاری : کتاب: اوقات نماز کے بیان میں (باب:اس بارے میں کہ بے وقت نماز پڑھنا ‘نماز کو ضائع کرنا ہے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

529. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ جو باتیں نبی ﷺ کے عہد مبارک میں تھیں، ان میں سے اب میں کوئی بات نہیں پاتا۔ عرض کیا گیا: نماز تو باقی ہے؟ حضرت انس ؓ نے فرمایا: اس (نماز) کا جو حال تم نے کر رکھا ہے وہ تمہیں معلوم ہے۔


2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ (بَابُ فِيْ تَضْيِيعِ الصَّلاَةِ عَنْ وَقْتِهَا)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

530. حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ أَبُو عُبَيْدَةَ الحَدَّادُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، أَخِي عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِدِمَشْقَ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكَ؟ فَقَالَ: «لاَ أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا أَدْرَكْتُ إِلَّا هَذِهِ الصَّلاَةَ وَهَذِهِ الصَّلاَةُ قَدْ ضُيِّعَتْ» وَقَالَ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ البُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ نَحْوَهُ...

صحیح بخاری : کتاب: اوقات نماز کے بیان میں (باب:اس بارے میں کہ بے وقت نماز پڑھنا ‘نماز کو ضائع کرنا ہے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

530. حضرت امام زہری سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں ایک دن دمشق میں حضرت انس ؓ  کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: اس وقت رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، ہاں نماز تھی، اسے بھی اب ضائع کیا جا رہا ہے۔ بکر بن خلف نے کہا: ہمیں محمد بن بکر برسانی نے، ان کو عثمان بن ابی درواد نے اسی طرح حدیث بیان کی۔ ...


3 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَفْوِيتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

627. وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا، كَمَا حَبَسُونَا، وَشَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ...

صحیح مسلم : کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں (باب: نماز عصر چھوڑنے کے بارے میں سخت وعید )

مترجم: MuslimWriterName

627. ابوسامہ نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ہشام سے ، انھوں نے محمد سے انھوں نے عبیدہ سے اور انھوں نےحضرت علی ﷜ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ احزاب کےدن فرمایا : ’’اللہ تعالٰی ان (مشرکین )کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے ، جس طرح انھوں نے ہمیں درمیانی نماز (عصر )سے روکا اور (جنگ میں )مشغول کیے رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا ۔‘‘...


5 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَ...)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

627.02. وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: «شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتِ الشَّمْسُ، مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ نَارًا، أَوْ بُيُوتَهُمْ، أَوْ بُطُونَهُمْ» - شَكَّ شُعْبَةُ فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ...

صحیح مسلم : کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں (باب: ان کی دلیل جو کہتے ہیں الصلاۃ الوسطیٰ (درمیان کی نماز)عصر کی نماز ہے )

مترجم: MuslimWriterName

627.02. شعبہ نے کہے : ہمیں قتادہ سے سنا، وہ ابو حسان سے حدیث بیان کررہےتھے ، انھوں نے عبیدہ سے اور انھوں حضرت علی ﷜ سے روایت کی کہا : رسول اللہ ﷺ نے جنگ احزاب کے دن فرمایا : ’’ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز سے مشغول کیے رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا ‘اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو اور گھروں کو یا (فرمایا :)ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے ۔ ’’گھروں یا پیٹوں کے بارےمیں شعبہ کو شک ہوا ۔...


7 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَ...)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

627.05. وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى، سَمِعَ عَلِيًّا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ: «شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ»، أَوْ قَالَ: «قُبُورَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا»...

صحیح مسلم : کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں (باب: ان کی دلیل جو کہتے ہیں الصلاۃ الوسطیٰ (درمیان کی نماز)عصر کی نماز ہے )

مترجم: MuslimWriterName

627.05. یحییٰ بن جزار نے حضرت علی ﷜ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقع پر جب آپ خندق کی گزر گاہوں میں سے کسی گزر گا ہ پر تشریف فر تھے ، فرمایا : انھوں نے ہمیں درمیانی ن (عصر )سے مشغول کر دیا حتی کہ سورج ڈوب گیا ، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو یا فرمایا : ان کی قبروں او ر پیٹوں کو آگ سے بھر دے ۔‘‘ ...


8 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَ...)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

628. وَحَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ، حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، أَوِ اصْفَرَّتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللهُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا»، أَوْ قَالَ: «حَشَا اللهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا...

صحیح مسلم : کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں (باب: ان کی دلیل جو کہتے ہیں الصلاۃ الوسطیٰ (درمیان کی نماز)عصر کی نماز ہے )

مترجم: MuslimWriterName

628. حضرت عبداللہ (بن مسعود )﷜ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : مشرکوں نے (جنگ میں مشغول رکھ کر )رسو ل اللہ ﷺ کو عصر کی نمازسے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’انھوں نےہمیں درمیانی نماز ، عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں میں آگ بھر دے ۔‘‘ یا فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔‘‘ (ملأ کی جگہ حشا کا لظف ارشاد فرمایا، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے ۔) فائدہ :نبی کریم ﷺ کی نظرمیں نماز عصرکی اہمیت کس قدر تھی ، ان احادیث سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ نیز یہ کہ آپ ﷺ نے طائف میں س...


9 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَه...)

حکم: صحیح

435. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَسَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَنَا الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَال لِبِلَالٍ: «اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ» قَالَ: فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ، وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ ا...

سنن ابو داؤد : کتاب: نماز کے احکام ومسائل (باب: جو شخص نماز کے وقت میں سوتا رہ جائے یا نماز(پڑھنا) بھول جائے؟ )

مترجم: DaudWriterName

435. سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ خیبر سے واپس لوٹ رہے تھے تو ایک رات ، رات بھر چلتے رہے ، حتیٰ کہ جب ہم کو نیند آنے لگی تو آپ ﷺ آرام کے لیے اتر گئے اور بلال سے فرمایا ” آج رات ہمارا پہرہ دینا ۔ “ بیان کرتے ہیں کہ پھر بلال کی آنکھیں بھی ان پر غالب آ گئیں ( یعنی سو گئے ) اور وہ اپنے اونٹ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ، چنانچہ نہ نبی کریم ﷺ جاگے ، نہ بلال ہی اور نہ کوئی اور صحابی ۔ حتیٰ کہ جب انہیں دھوپ لگی تو رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے جاگنے والے تھے آپ گھبرائے اور فرمایا ” اے بلال ! انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ، مجھے بھی اسی چیز نے پکڑ لیا جس نے آپ کو پک...


10 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَه...)

حکم: صحیح

436. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَحَوَّلُوا عَنْ مَكَانِكُمُ الَّذِي أَصَابَتْكُمْ فِيهِ الْغَفْلَةُ»، قَالَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ مَالِكٌ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَر، ٍ وَابْنِ إِسْحَاقَ لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ الْأَذَانَ فِي، حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ هَذَا، وَلَمْ يُسْنِدْهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا الْأَوْزَ...

سنن ابو داؤد : کتاب: نماز کے احکام ومسائل (باب: جو شخص نماز کے وقت میں سوتا رہ جائے یا نماز(پڑھنا) بھول جائے؟ )

مترجم: DaudWriterName

436. ۔ ابوہریرہ ؓ سے مذکورہ بالا قصے میں بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اس جگہ سے نکل چلو جہاں تم پر غفلت طاری ہوئی ہے ۔ “ اس کے بعد آپ ﷺ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اذان اور پھر اقامت کہی اور نماز پڑھی ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ اس روایت کو مالک سفیان بن عیینہ ، اوزاعی اور عبدالرزاق نے معمر اور ابن اسحاق سے نقل کیا ہے ۔ مگر کسی نے بھی زہری کی اس روایت میں اذان کا ذکر نہیں کیا ۔ اور معمر سے اوزاعی اور ابان عطار کے سوا کسی نے بھی اس کو بیان نہیں کیا ہے ۔...