4 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالمُزَارَعَةِ بَابُ تَحْرِيمِ مَطْلِ الْغَنِيِّ، وَصِحَّةِ الْحَ...

حکم: صحیح

1564 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ»،

صحیح مسلم:

کتاب: سیرابی کے عوض پیدوار میں حصہ داری اور مزارعت

(باب: مالدار کا ٹال مٹول کرنا حرام ہے ‘ِحوالہ (مقرو...)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1564. اعرج (عبدالرحمٰن بن ہرمز مدنی) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’غنی آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مال دار (سے وصولی) پر لگایا جائے تو اسے لگ جانا چاہئے۔‘‘


7 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ بَابٌ فِي الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَغَيْرِهِ

حکم: حسن

3628 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: >لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ<. قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضُهُ: يُغَلَّظُ لَهُ، وَعُقُوبَتَهُ: يُحْبَسُ لَهُ....

سنن ابو داؤد:

کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل

(باب: قرضے وغیرہ میں مقروض کو قید کر لینا)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3628. سیدنا عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا اس کی بے عزتی اور سزا کو حلال کر دیتا ہے۔“ ابن مبارک نے کہا: اس کی بے عزتی کو حلال کر دیتا ہے۔ یعنی اس کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے۔ اور اس کو سزا دینا حلال ہے۔ یعنی اسے قید کیا جا سکتا ہے۔...


8 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الْبُيُوعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي مَطْلِ الْغَنِيِّ أَنَّهُ ظُلْ...

حکم: صحیح

1308 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَالشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ...

جامع ترمذی: كتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل (باب: مال دار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول ...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1308. ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺفرمایا: ’’مال دار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۱؎ اور جب تم میں سے کوئی کسی مالدارکی حوالگی میں دیا جائے توچاہئے کہ اس کی حوالگی اسے قبول کرے‘‘ ۲؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابن عمر اور شرید بن سوید ثقفی‬ ؓ س‬ے بھی احادیث آئی ہیں۔...


9 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الْبُيُوعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي مَطْلِ الْغَنِيِّ أَنَّهُ ظُلْ...

حکم: صحیح

1309 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتْبَعْهُ وَلَا تَبِعْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَمَعْنَاهُ إِذَا أُحِيلَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا أُحِيلَ الرَّجُلُ عَلَى مَلِيءٍ فَاحْتَالَهُ فَقَدْ بَرِئَ الْمُحِيلُ وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ عَلَى الْمُحِيلِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ و...

جامع ترمذی: كتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل (باب: مال دار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول ...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1309. عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’مال دار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ اور جب تم کسی مال دار کے حوالے کئے جاؤ تو اسے قبول کرلو، اور ایک بیع میں دوبیع نہ کرو‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔۲۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی قرض وصول کرنے میں کسی مالدار کے حوالے کیاجائے تواسے قبول کرنا چاہئے۔۳۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب آدمی کوکسی مال دار کے حوالے کیا جائے اور وہ حوالہ قبول کرلے تو حوالے کرنے والا بری ہوجائے گا اور قرض خواہ کے لیے درست نہیں...


10 ‌سنن النسائي كِتَابُ الْبُيُوعِ بَابٌ حُسْنُ الْمُعَامَلَةِ وَالرِّفْقُ فِي الْمُط...

حکم: حسن

4696 أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ، عَنْ إِسْمَعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا، وَبَائِعًا، وَقَاضِيًا، وَمُقْتَضِيًا الْجَنَّةَ»...

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

(باب: لین دین اور قرض کی واپسی کا مطالبہ اچھے طریقے...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4696. حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی کو اس بنا پر جنت میں داخل کر دیا کہ وہ خریدتے، بیچتے، ادا کرتے اور طلب کرتے وقت نرم رویہ رکھتا تھا۔“