1 ‌سنن النسائي كِتَابُ الْإِمَامَةِ بَابُ الْعُذْرِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ

حکم: صحیح

852 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَرْقَمَ كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ يَوْمًا فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلَاةِ...

سنن نسائی: کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل (باب: عذر کی بنا پر جماعت ترک کرنا)

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

852. حضرت عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن ارقم ؓ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تھے۔ ایک دن نماز کا وقت ہوگیا تو وہ قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر واپس آئے اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کی ضرورت محسوس کرے تو نماز سے پہلے قضائے حاجت کرلے۔“...


2 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْمَسَاجِدِوَالْجَمَاعَاتِ بَابُ التَّغْلِيظِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاع...

حکم: صحیح

793 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ، إِلَّا مِنْ عُذْرٍ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: مسجد اور نماز باجماعت کے مسائل

(باب: نماز با جماعت سے پیچھے رہ جانا سخت گناہ ہے)

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

793. حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اذان سن کر (نماز کے لیے مسجد میں) نہیں آتا، اس کی کوئی نماز نہیں، سوائے کسی عذر کی صورت کے۔‘‘