1 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ بَابٌ فِِي الْقَضَاءِ

حکم: صحیح

3640 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُثْمَانَ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ وَعَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: اخْتَصَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فِي حَرِيمِ نَخْلَةٍ،- فِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا:- فَأَمَرَ بِهَا، فَذُرِعَتْ، فَوُجِدَتْ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ،- وَفِي حَدِيثِ الْآخَرِ:- فَوُجِدَتْ خَمْسَةَ أَذْرُعٍ، فَقَضَى بِذَلِكَ. قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: فَأَمَرَ بِجَرِيدَةٍ مِنْ جَرِيدِهَا فَذُرِعَتْ....

سنن ابو داؤد:

کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل

(باب: قضاء سے متعلق دیگر احکام و مسائل)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3640. سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جھگڑا لائے۔ ان کا ایک کھجور کے درخت کے اردگرد احاطے (زمین کی حدود جو اس درخت کے ساتھ لازم اور ملحق ہو سکتی ہے) کے بارے میں تنازع تھا۔ تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس درخت کا (طول) ناپا جائے۔ اسے ناپا گیا تو وہ سات ہاتھ ہوا۔ دوسری حدیث میں ہے کہ وہ پانچ ہاتھ ہوا۔ تو آپ ﷺ نے اس کا فیصلہ فرما دیا۔ راوی حدیث عبدالعزیز بن محمد نے کہا: پس آپ ﷺ نے اس درخت کی ایک چھڑی کے بارے میں حکم دیا، اسی سے اسے ناپا گیا۔...


2 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الرُّهُونِ بَابُ حَرِيمِ الشَّجَرِ

حکم: صحیح

2488 حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي إِسْحَقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ لِلرَّجُلِ فِي النَّخْلِ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ مِنْ أُولَئِكَ مِنْ الْأَسْفَلِ مَبْلَغُ جَرِيدِهَا حَرِيمٌ لَهَا...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: رہن ( گروی رکھی ہوئی چیز) سے متعلق احکام ومسائل

(باب: درخت کا حریم ( درخت سے متعلق رقبہ ))

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2488. حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ اگر کھجوروں کے باغ میں ایک، دو یا تین درخت کسی دوسرے شخص کے ہوں، اور ان میں اختلاف ہو جائے (کہ کس کی کتنی زمین ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ دیا کہ ہر درخت کی جڑ سے لے کر جہاں تک اس کی شاخیں پہنچتی ہیں، وہ اس درخت کا رقبہ ہے۔