مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 6
کل صفحات: 1 - کل احادیث: 6
1 صحيح مسلم كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ
حکم: صحیح
939 و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ فَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ...
صحیح مسلم:
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)
939. یزید بن زریع نے ایوب سے انھوں نے محمد بن سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، انھوں نے کہا: جب ہم رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپﷺ نے فرمایا: ’’اس کو تین پانچ یا اگر تمھاری رائے ہو تو اس سے زائد مرتبہ پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو اور آخری بار میں کافور یا کافور میں سے کچھ ڈال دینا اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کر دینا۔ جب ہم فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپﷺ کو اطلاع دی تو آپﷺ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: ’’ اس کو اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو‘‘<...
2 صحيح مسلم كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ
حکم: صحیح
939.01 و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ
صحیح مسلم:
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)
939.01. حفصہ بنت سیرین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، انھوں نے کہا: ہم نے ان (کے بالوں) کی کنگھی کر کے تین گندھی ہوئی لٹیں بنا دیں۔
3 صحيح مسلم كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ
حکم: صحیح
939.02 و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ كُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتْ ابْنَتُهُ بِمِثْلِ حَ...
صحیح مسلم:
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)
939.02. مالک بن انس، حماد اور ابن علیہ نے ایوب سے انھوں نے محمد سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، انھوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ کی بیٹیوں میں سے ایک وفات پا گئیں۔ ابن علیہ کی حدیث میں (یوں) ہے (ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے) کہا: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپﷺ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں اور مالک کی حدیث میں ہے کہا: جب آپﷺ کی بیٹی وفات پا گئیں تو آپﷺ ہمارے پاس تشریف لائے۔ (اس سے آگے) ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے محمد،ان سے ایوب اور ان سے یزید کی حدیث کے مانند ہے۔...
4 صحيح مسلم كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ
حکم: صحیح
939.03 و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ فَقَالَتْ حَفْصَةُ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ
صحیح مسلم:
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)
939.03. حماد نے ایوب سے، انھوں نے حفصہ سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس (سابقہ حدیث) کی طرح روایت بیان کی، اس کے سوا کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’تین، پانچ سات یا اگر تمھاری رائے ہو تو اس سے زائد بار (غسل دینا)‘‘ حفصہ نے ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا: ہم نے ان کے سر (کے بالوں) کی تین گندھی ہوئی لٹیں بنا دیں۔...
5 سنن أبي داؤد كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ فِي سَتْرِ الْمَيِّتِ عِنْدَ غُسْلِهِ
حکم: ضعیف
3140 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أُخْبِرْتُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ وَلَا تَنْظُرَنَّ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ
سنن ابو داؤد:
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)
3140. سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ران عریاں نہ کر اور نہ کبھی کسی زندہ یا میت کی ران کو دیکھ۔“
6 سنن ابن ماجه كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ
حکم: ضعیف جداً
1460 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ، وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ، وَلَا مَيِّتٍ»
سنن ابن ماجہ: کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل (باب : میت کو غسل دینے کا بیان)
مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)
1460. حضرت علی ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’اپنی ران ظاہر نہ کرو اور کسی زندہ یا مردہ کی ران کو نہ دیکھو۔‘‘
مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 6
کل صفحات: 1 - کل احادیث: 6