1 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الجَنَائِزِ بَابُ السُّرْعَةِ بِالْجِنَازَةِ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1315 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ...

صحیح بخاری:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(

باب: جنازے کو جلد لے چلنا

)

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1315. حضرت ابو ہریرہ ؓ  سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:’’جنازے کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف لے جارہے ہو اور اگر براہے تو بری چیز کو اپنی گردنوں سے اتار کر سبکدوش ہو جاؤگے۔‘‘


2 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ

حکم: صحیح

944 و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ لَعَلَّهُ قَالَ تُقَدِّمُونَهَا عَلَيْهِ وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ...

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: جنازے کو جلدی لیے جانا)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

944. سفیان بن عیینہ نے زہری سے انھوں نے سعید (بن مسیب) سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی، آپﷺ نے فرمایا: ’’جنازے (کو لے جانے) میں جلدی کرو، اگر وہ (میت) نیک ہے تو جس کی طرف تم اس کو لے جا رہے ہو وہ خیر ہے اگر وہ اس کے سوا ہے تو پھر وہ شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتاردو گے۔‘‘...


3 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ

حکم: صحیح

944.01 و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ كِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ...

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: جنازے کو جلدی لیے جانا)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

944.01. معمر اور محمد بن ابی حفصہ دو نوں نے زہری سے، انھوں نے سعید (بن مسیب) سے، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انھوں نے نبی ﷺ سے(یہی حدیث) روایت کی، لیکن معمر کی حدیث میں ہے انھوں نے کہا: میں اس کے سوا اور کچھ نہیں جانتا کہ انھوں (ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے اس حدیث کو مرفوع (رسول اللہ ﷺ سے) بیان کیا ہے۔...


4 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ

حکم: صحیح

944.02 و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَرَّبْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ كَانَ شَرًّا تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ...

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: جنازے کو جلدی لیے جانا)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

944.02. ابو امامہ بن سہل بن حنیف نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’جنا زے میں جلدی کرو اگر (میت) نیک ہے تو تم نے اسے بھلائی کے قریب کر دیا اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔‘‘...


5 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ

حکم: صحیح

3181 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ وَإِنْ تَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: جنازہ جلدی لے جانے کا بیان)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3181. سیدنا ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنازہ جلدی لے جاؤ، اگر وہ نیک اور صالح ہے تو تم اسے بھلائی کی طرف آگے لے جا رہے ہو اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار پھینک رہے ہو۔“


6 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ

حکم: صحیح

3182 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، وَكُنَّا نَمْشِي مَشْيًا خَفِيفًا، فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ، فَرَفَعَ سَوْطَهُ، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَرْمُلُ رَمَلًاس....

سنن ابو داؤد:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: جنازہ جلدی لے جانے کا بیان)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3182. سیدنا عیینہ بن عبدالرحمٰن اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عثمان بن ابی العاص ؓ کے جنازے میں شریک تھے اور ہم میت کو اٹھائے آہستہ آہستہ چل رہے تھے، سیدنا ابوبکر ؓ ہمیں پیچھے سے آن ملے تو انہوں نے اپنا کوڑا بلند کیا اور کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ گویا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اور (میت کو اٹھا کر) درمیانی چال سے دوڑ رہے ہوتے تھے۔...


7 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ

حکم: صحیح

3183 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ح، وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ عُيَيْنَةَ... بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَا: فِي جَنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، وَقَالَ: فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ بَغْلَتَهُ، وَأَهْوَى بِالسَّوْطِ.

سنن ابو داؤد:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: جنازہ جلدی لے جانے کا بیان)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3183. خالد بن حارث اور عیسیٰ بن یونس نے عیینہ بن عبدالرحمٰن سے یہ روایت نقل کی تو ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کے جنازے کا ذکر کیا۔ اور کہا کہ (ابوبکرہ ؓ) اپنا خچر دوڑا کر لائے اور اپنے کوڑے سے اشارہ کیا۔


8 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ

حکم: ضعیف

3184 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ يَحْيَى الْمُجَبِّرِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ فَقَالَ مَا دُونَ الْخَبَبِ إِنْ يَكُنْ خَيْرًا تَعَجَّلَ إِلَيْهِ وَإِنْ يَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ وَالْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَا تُتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ ضَعِيفٌ هُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَحْيَى الْجَابِرُ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذَا كُوفِيٌّ وَأَبُو مَاجِدَةَ بَصْرِي...

سنن ابو داؤد:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: جنازہ جلدی لے جانے کا بیان)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3184. سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ جنازے کے ساتھ چلنے کا کیا ادب ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”درمیانی سی تیز رفتار سے چلا جائے، اگر وہ نیک ہے تو بھلائی کی طرف جلدی لے جاتے ہو اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو دوزخیوں کے لیے ہلاکت ہے۔ جنازہ آگے آگے ہونا چاہیئے، پیچھے نہیں ہونا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ کوئی اس کے آگے چلے۔“ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے (یحییٰ الجمیر) یہ یحییٰ بن عبداللہ ہے اور یہی یحییٰ الجابر ہے۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں: یہ کوفی ہے۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں: ابوماجدہ بصریٰ، غیر معروف راوی ہے۔...


9 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الْجَنَائِزِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَشْيِ خَلْفَ الْجَنَازَةِ​

حکم: ضعیف

1011 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَحْيَى إِمَامِ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ عَنْ أَبِي مَاجِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَشْيِ خَلْفَ الْجَنَازَةِ قَالَ مَا دُونَ الْخَبَبِ فَإِنْ كَانَ خَيْرًا عَجَّلْتُمُوهُ وَإِنْ كَانَ شَرًّا فَلَا يُبَعَّدُ إِلَّا أَهْلُ النَّارِ الْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَا تَتْبَعُ وَلَيْسَ مِنْهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ قَالَ سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِي...

جامع ترمذی: كتاب: جنازے کے احکام ومسائل (باب: جنازے کے پیچھے چلنے کا بیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1011. عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے جنازے کے پیچھے چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:’’ایسی چال چلے جودُلکی چال سے دھیمی ہو۔ اگر وہ نیک ہے توتم اسے جلدی قبرمیں پہنچا دوگے اور اگر برا ہے توجہنمیوں ہی کو دور ہٹایا جاتا ہے۔ جنازہ کے پیچھے چلنا چاہئے، اس سے آگے نہیں ہوناچاہئے، جو جنازہ کے آگے چلے وہ اس کے ساتھ جانے والوں میں سے نہیں‘‘۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱۔ یہ حدیث عبداللہ بن مسعود ؓ سے صر ف اسی سند سے جانی جاتی ہے۔۲۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابوحامد کی اس حدیث کوضعیف بتاتے سناہے۔۳۔ م...


10 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الْجَنَائِزِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ​

حکم: صحیح

1015 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ يَكُنْ خَيْرًا تُقَدِّمُوهَا إِلَيْهِ وَإِنْ يَكُنْ شَرًّا تَضَعُوهُ عَنْ رِقَابِكُمْ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ...

جامع ترمذی: كتاب: جنازے کے احکام ومسائل (باب: جنازہ تیزی سے لے جانے کا بیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1015. ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: جنازہ تیزی سے لے کر چلو ۱؎، اگروہ نیک ہوگا تو اسے خیرکی طرف جلدی پہنچا دوگے، اور اگر وہ برا ہوگا تو اسے اپنی گردن سے اتار کر(جلد) رکھ دوگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔۲۔ اس باب میں ابوبکرہ سے بھی روایت ہے۔