1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ الثِّيَابِ البِيضِ لِلْكَفَنِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1264. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ مِنْ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهِنَّ قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب:اس بارے میں کہ کفن کے لیے سفید کپڑے ہونے مناسب ہیں )

مترجم: BukhariWriterName

1264. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا جو یمنی سحولی روئی سے بنے ہوئے تھے ،ان میں نہ تو قمیص تھی اور نہ عمامہ۔


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ مَوْتِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1387. حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ فِي كَمْ كَفَّنْتُمْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ وَقَالَ لَهَا فِي أَيِّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ قَالَ فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا قَالَتْ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ قَالَ أَرْجُو فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ فَنَظَرَ إِلَى ثَوْبٍ عَلَيْهِ كَانَ يُمَرَّضُ فِيهِ بِهِ رَدْعٌ مِنْ ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: پیر کے دن مرنے کی فضیلت کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

1387. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ،انھوں نےفرمایا:میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوئی تو انھوں نے فرمایا:تم نے نبی کریم ﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟میں نے جواب دیا:تین سحولی چادروں میں ،جن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ ہی تھا۔پھر انھوں نے فرمایا:نبی کریم ﷺ نے کس روز وفات پائی تھی؟حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:پیر کے دن۔ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:آج کون سا دن ہے؟انھوں نے جواب دیا:آج پیر کا دن ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں امید کرتا ہوں کہ اس وقت سے لے کر رات تک وفات پاجاؤں گا۔پھر انھوں...


6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ ﷺ وَوَفَاتِهِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4462. حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَتَغَشَّاهُ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام وَا كَرْبَ أَبَاهُ فَقَالَ لَهَا لَيْسَ عَلَى أَبِيكِ كَرْبٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ يَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ يَا أَبَتَاهْ مَنْ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهْ يَا أَبَتَاهْ إِلَى جِبْرِيلَ نَنْعَاهْ فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ...

صحیح بخاری : کتاب: غزوات کے بیان میں (باب: نبی کریم کی بیماری اور آپ کی وفات )

مترجم: BukhariWriterName

4462. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ سخت بیمار ہوئے اور آپ پر غشی طاری ہوئی تو سیدہ فاطمہ‬ ؓ ن‬ے کہا: ہائے میرے والد کو سخت تکلیف ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: "اے فاطمہ! آج کے بعد تمہارے والد کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔" پھر جب آپ ﷺ وفات پا گئے تو سیدہ فاطمہ نے فرمایا: اے میرے ابا جان! جس نے اپنے رب کی دعوت کو قبول کر لیا۔ اے میرے ابوجان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا ہے۔ اے والد گرامی! ہم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو آپ کے انتقال کی خبر دیتے ہیں۔ پھر جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو سیدہ فاطمہ‬ ؓ ن‬ے حضرت انس ؓ سے فرمایا: اے انس! تمہارے دل رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالنے کے لیے کیون...


7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابٌ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4470. بَاب حَدَّثَنَا أَصْبَغُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّهُ قَالَ لَهُ مَتَى هَاجَرْتَ قَالَ خَرَجْنَا مِنْ الْيَمَنِ مُهَاجِرِينَ فَقَدِمْنَا الْجُحْفَةَ فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ فَقُلْتُ لَهُ الْخَبَرَ فَقَالَ دَفَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ خَمْسٍ قُلْتُ هَلْ سَمِعْتَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ أَخْبَرَنِي بِلَالٌ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فِي السَّبْعِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ...

صحیح بخاری : کتاب: غزوات کے بیان میں (باب )

مترجم: BukhariWriterName

4470. حضرت (عبدالرحمٰن بن عسیلہ) صنابحی ؓ سے روایت ہے، ان سے ابوالخیر نے کہا: آپ نے کب ہجرت کی تھی؟ انہوں نے کہا: ہم یمن سے ہجرت کر کے نکلے اور جحفه پہنچے تو ایک سوار نظر آیا۔ میں نے اس سے حالات پوچھے تو اس نے کہا: پانچ روز ہوئے ہیں ہم نے نبی ﷺ کو دفن کر دیا ہے۔ میں (ابوالخیر) نے کہا: کیا آپ نے لیلۃ القدر کے متعلق کچھ سنا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، مجھے نبی ﷺ کے مؤذن حضرت بلال ؓ نے بتایا تھا کہ لیلۃ القدر آخری عشرے کی ساتویں رات ہے۔...


8 صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

941. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ مِنْ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ أَمَّا الْحُلَّةُ فَإِنَّمَا شُبِّهَ عَلَى النَّاسِ فِيهَا أَنَّهَا اشْتُرِيَتْ لَهُ لِيُكَفَّنَ فِيهَا فَتُرِكَتْ الْحُلَّةُ وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ فَأَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ ...

صحیح مسلم : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: میت کو غسل دینا )

مترجم: MuslimWriterName

941. ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد (عروہ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو سحول (یمن ) سے لا ئے جا نے والے تین سفید سوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا ان میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ البتہ حُلے (ہم رنگ چادروں پر مشتمل جوڑے) کے حوالے سے لو گ اشتباہ میں پڑگئے بلا شبہ وہ آپ کے لیے خرید ا گیا تھا تا کہ آپ کو اس میں کفن دیا جا ئے ۔پھر اس حلے کو چھوڑ دیا گیا اور آپ کو سحول کے تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا اور اس (حلے )کو عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لے لیا اور کہا: میں اس کو (اپنے پاس) محفوظ ...


9 صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

941.01. و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ يَمَنِيَّةٍ كَانَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ نُزِعَتْ عَنْهُ وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولٍ يَمَانِيَةٍ لَيْسَ فِيهَا عِمَامَةٌ وَلَا قَمِيصٌ فَرَفَعَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ فَقَالَ أُكَفَّنُ فِيهَا ثُمَّ قَالَ لَمْ يُكَفَّنْ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُكَفَّنُ فِيهَا فَتَصَدَّقَ بِهَا...

صحیح مسلم : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: میت کو غسل دینا )

مترجم: MuslimWriterName

941.01. علی بن مسہر نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد (عروہ ) سے حدیث سنا ئی انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک یمنی حلے میں لپیٹا (کفن دیا) گیا پھر اس کو اتاردیا گیا اور آپ کو سحول کے تین سفید یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ ۔عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ حلہ اٹھا لیا اور کہا: مجھے اس میں کفن دیا جا ئے گا پھر کہا: رسول اللہ ﷺ کو اس میں کفن نہیں دیا گیا تو مجھے اس میں کفن دیا جا ئے گا !چنانچہ انھوں نے اس کو صدقہ کردیا ۔...