1 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ خَرْصِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ

حکم: حسن

1890 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ، وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ، يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ، وَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ، فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَهَا وَيَكُونَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ وَلَكُمْ نِصْفُهَا، فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ، بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَ...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل

(باب: کھجور اور انگور کی پیداوار کا اندازہ کرنا)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1890. حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے خیبر فتح کیا تو ان سے یہ طے کیا کہ زمین اور تمام سونا چاندی نبی ﷺ کا ہو گا۔ خیبر والوں نے کہا: ہم لوگ زمین (کی کاشت اور دیکھ بھال) سے زیادہ واقف ہیں تو یہ زمین ہمیں (کاشت کے لیے) اس شرط پر دے دیجئے کہ ہم اس میں (زراعت کا) کام کریں اور پھلوں کا نصف ہمارا ہو، نصف تمہارا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے انہیں اس شرط پر وہ زمین دے دی۔ جب کجھوروں کے پھل اتارنے کا وقت آیا تو آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کو ان کے پاس بھیجا۔ انہوں نے کجھوروں (کے پھل) کا اندازہ لگایا، مدینے والے اندازہ لگانے کو خرص کہتے تھے، اور فرمایا...