1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ :الدِّينُ يُسْرٌ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

39. حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ مُطَهَّرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الغِفَارِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ.»...

صحیح بخاری : کتاب: ایمان کے بیان میں (باب :اس بیان میں کہ دین آسان ہے )

مترجم: BukhariWriterName

39. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’بےشک دین اسلام بہت آسان ہے۔ اور جو شخص دین میں سختی کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا، اس لیے میانہ روی اختیار کرو اور (اعتدال کے ساتھ) قریب رہو اور خوش ہو جاؤ۔ صبح اور دوپہر کے بعد اور کچھ رات میں عبادت کرنے سے مدد حاصل کرو۔‘‘ ...


2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ: أَحَبُّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلّ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

43. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، قَالَ: «مَنْ هَذِهِ؟» قَالَتْ: فُلاَنَةُ، تَذْكُرُ مِنْ صَلاَتِهَا، قَالَ: «مَهْ، عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لاَ يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا» وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَادَامَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ ....

صحیح بخاری : کتاب: ایمان کے بیان میں (باب:اللہ کو دین( کا) وہ (عمل)سب سے زیادہ پسند ہے جس کو پابندی سے کیا جائے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

43. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ ایک مرتبہ ان کے پاس تشریف لائے، وہاں ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ نے پوچھا: ’’یہ کون ہے؟‘‘ حضرت عائشہ ؓ نے کہا: یہ فلاں عورت ہے اور اس کی (کثرت) نماز کا حال بیان کرنے لگیں۔ آپ نے فرمایا: ’’رک جاؤ! تم اپنے ذمے صرف وہی کام لو جو (ہمیشہ) کر سکتے ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں اکتاتا، تم ہی عبادت کرنے سے تھک جاؤ گے۔ اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب، اطاعت کا وہ کام ہے جس کا کرنے والا اس پر ہمیشگی کرے۔‘‘ ...


3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ (بَابُ حَقِّ الجِسْمِ فِي الصَّوْمِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1975. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ صُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَ...

صحیح بخاری : کتاب: روزے کے مسائل کا بیان (باب : روزے میں جسم کا حق )

مترجم: BukhariWriterName

1975. حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’عبداللہ! کیا مجھے یہ خبر نہیں پہنچی کہ آپ دن میں روزے سے ہوتے ہیں اور رات بھر نماز پڑھتے رہتے ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اللہ کے رسول ﷺ ! ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’ایسا مت کیا کرو، روزہ رکھو افطار بھی کرو، نماز پڑھو اور آرام بھی کروکیونکہ تم پر تمہارے جسم کا حق ہے۔ تم پر تمہاری آنکھوں کا حق ہے اور تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے اور تم پر تمہارے مہمان کا بھی حق ہے۔ تجھے یہی کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین روزے رکھے کیونکہ تیرے لیے ہر نیک ع...


4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ (بَابُ صَوْمِ الدَّهْرِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1976. حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَقُولُ وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ النَّهَارَ وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ فَقُلْتُ لَهُ قَدْ قُلْتُهُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ وَصُمْ مِنْ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَصُ...

صحیح بخاری : کتاب: روزے کے مسائل کا بیان (باب : ہمیشہ روزہ رکھنا ( جس کو صوم الدہر کہتے ہیں ) )

مترجم: BukhariWriterName

1976. حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص  ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو میری اس بات کی اطلاع دی گئی کہ میں نے قسم کھارکھی ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں گا دن کو روزہ رکھوں گا اور رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا۔ میں نے آپ سے عرض کیا: میرے والدین آپ پر فدا ہوں!میں نے یہ بات کہی ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس لیے روزہ رکھو اور افطار بھی کرو، نماز پڑھو اور آرام بھی کرو، نیز ہر مہینے میں تین روزے رکھو کیونکہ ہر نیکی کا دس گنا ثواب ملتا ہے اور ایسا کرناعمر بھر کے روزوں کے برابر ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رک...


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ (بَابُ حَقِّ الأَهْلِ فِي الصَّوْمِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1977. حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ عَطَاءً أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ فَقَالَ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ وَتُصَلِّي فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ فَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا وَإِنَّ لِنَفْسِكَ وَأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَظًّا قَالَ إِنِّي لَأَقْوَى لِذَلِكَ قَالَ فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ وَكَيْفَ قَ...

صحیح بخاری : کتاب: روزے کے مسائل کا بیان (باب : روزہ میں بیوی اور بال بچوں کا حق )

مترجم: BukhariWriterName

1977. حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص  ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کو میرے متعلق یہ خبر پہنچی کہ میں متواتر روزے رکھتا ہوں اور رات بھر نماز پڑھتا رہتا ہوں۔ آپ نے مجھے پیغام بھیجا یا میں خود آپ سے ملاتو آپ نے فرمایا: ’’مجھے تیرے متعلق یہ اطلاع ملی ہے کہ تم مسلسل روزے رکھتے ہو اور افطار نہیں کرتے اور نماز پڑھتے رہتے ہو؟روزے بھی رکھو، افطار بھی کرو، نماز بھی پڑھو اور آرام بھی کرو کیونکہ تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے، تمہاری جان کاتم پر حق ہے۔ تمہاری بیوی اور تمہارے بچوں کاتم پر حق ہے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمرو  ؓ نے عرض کیا: می...


6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ (بَابُ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1978. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُغِيرَةَ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صُمْ مِنْ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ قَالَ أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَمَا زَالَ حَتَّى قَالَ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا فَقَالَ اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ فَمَا زَالَ حَتَّى قَالَ فِي ثَلَاثٍ...

صحیح بخاری : کتاب: روزے کے مسائل کا بیان (باب : ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

1978. حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص  ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے انھیں فرمایا: ’’مہینے میں تین روزے رکھا کرو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمرو  ؓ نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ اس طرح سلسلہ کلام جاری رہا، آخر کار آپ نے فرمایا: ’’ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو۔‘‘ نیز آپ نےفرمایا: ’’ہر مہینے میں قرآن ختم کیا کرو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمرو  ؓ نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ اس طرح گفتگو چلتی رہی حتیٰ کہ آ پ نے فرمایا: ’’...


7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ (بَابُ صَوْمِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1979. حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْمَكِّيَّ وَكَانَ شَاعِرًا وَكَانَ لَا يُتَّهَمُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ الس...

صحیح بخاری : کتاب: روزے کے مسائل کا بیان (باب : حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ )

مترجم: BukhariWriterName

1979. حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص  ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ مجھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تم سارا سال روزے رکھتے ہو اور رات بھر نماز پڑھتے رہتے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ’’ایسا کرنے سے آنکھوں میں گڑھے پڑجائیں گے اور جان کمزور ہوجائےگی۔ جس نے ہمیشہ کے روزے رکھے اس نے گویا روزے نہیں رکھے۔ ہر مہینے میں تین دن روزے رکھ لینا اس سے زمانے بھر کے روزے رکھنے کا ثواب ملتا ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا: مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’حضرت داود ؑ کے روزوں جیسے روزے رکھو۔ وہ ایک دن روز...


8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَآتَيْنَا دَاوُدَ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3418. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَقُولُ وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ النَّهَارَ وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ النَّهَارَ وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ قُلْتُ قَدْ قُلْتُهُ قَالَ إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ وَص...

صحیح بخاری : کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں (باب : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اور دی ہم نے داودؑ کو زبور “ )

مترجم: BukhariWriterName

3418. حضرت عبداللہ بن عمرو  ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو میرے متعلق بتایا گیا کہ میں کہتا ہوں: اللہ کی قسم! میں جب تک زندہ رہوں گا دن کو روزہ رکھوں گا اوررات کو قیام کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ’’تو نے ایسا کہا ہے کہ اللہ کی قسم! میں زندگی بھر دن کو روزے سے رہوں گا اور رات قیام میں گزاروں گا؟‘‘ میں نےعرض کیا: میں نے ایسا کہا ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’تو اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ روزہ رکھو اور افطار بھی کرو، رات کو نماز پڑھو اور نیند بھی کرو، ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو۔ چونکہ ہر نیکی کا دس گنا اجر ملتا ہے، اس ل...


9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ {لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4614. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَاهَا كَانَ لَا يَحْنَثُ فِي يَمِينٍ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ كَفَّارَةَ الْيَمِينِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ لَا أَرَى يَمِينًا أُرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا قَبِلْتُ رُخْصَةَ اللَّهِ وَفَعَلْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ....

صحیح بخاری : کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں (باب: آیت (( لا یواخذکم اللہ باللغو )) الخ کی تفسیر”اللہ تم سے تمہاری فضول قسموں پر پکڑ نہیں کرتا“۔ )

مترجم: BukhariWriterName

4614. حضرت عائشہ‬ ؓ ہ‬ی سے روایت ہے کہ ان کے والد گرامی اپنی قسم کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے لیکن جب اللہ تعالٰی نے کفارہ قسم کا حکم نازل فرمایا تو حضرت ابوبکر ؓ نے کہا: اب اگر قسم کے علاوہ کوئی دوسری چیز مجھے اس سے بہتر معلوم ہوتی ہے تو میں اللہ کی دی ہوئی رخصت پر عمل کرتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے۔ ...


10 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَضَاحِيِّ (بَابُ مَا يُشْتَهَى مِنَ اللَّحْمِ يَوْمَ النَّحْر...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5549. حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ: «مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ» فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ - وَذَكَرَ جِيرَانَهُ - وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ؟ فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَلاَ أَدْرِي بَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا، أَوْ ق...

صحیح بخاری : کتاب: قربانی کے مسائل کا بیان (باب: قربانی کے دن گوشت کی خواہش کرنا جائز ہے ۔ )

مترجم: BukhariWriterName

5549. سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کی وہ دوبارہ قربانی کرے۔“ یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا۔ اللہ کے رسول! اس دن گوشت کی خواہش کی جاتی ہے اور اس نے اپنے ہمسایوں کی غربت کا ذکر کیا، اب تو میرے پاس یکسالہ ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے آپ ﷺ نے اس کو رخصت دی کہ وہی ذبح کر دے۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی ہے یا نہیں؟ اس نے بعد نبی ﷺ دو میںڈھوں کی طرف مائل ہوئے اور انہیں ذبح کیا اور لوگ بھی بکریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں تقسیم کر کے ذبح کیا۔ ...