1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

71. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، خَطِيبًا يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي، وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ، لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ»...

صحیح بخاری : کتاب: علم کے بیان میں (باب:اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

71. حضرت معاویہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے دوران خطبہ میں کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت کر دیتا ہے۔ اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دینے والا تو اللہ ہی ہے۔ اور (اسلام کی) یہ جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی، جو ان کا مخالف ہو گا انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم، یعنی قیامت آ جائے۔‘‘ ...


3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ (بَابُ فِيْ تَضْيِيعِ الصَّلاَةِ عَنْ وَقْتِهَا)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

530. حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ أَبُو عُبَيْدَةَ الحَدَّادُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، أَخِي عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِدِمَشْقَ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكَ؟ فَقَالَ: «لاَ أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا أَدْرَكْتُ إِلَّا هَذِهِ الصَّلاَةَ وَهَذِهِ الصَّلاَةُ قَدْ ضُيِّعَتْ» وَقَالَ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ البُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ نَحْوَهُ...

صحیح بخاری : کتاب: اوقات نماز کے بیان میں (باب:اس بارے میں کہ بے وقت نماز پڑھنا ‘نماز کو ضائع کرنا ہے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

530. حضرت امام زہری سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں ایک دن دمشق میں حضرت انس ؓ  کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: اس وقت رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، ہاں نماز تھی، اسے بھی اب ضائع کیا جا رہا ہے۔ بکر بن خلف نے کہا: ہمیں محمد بن بکر برسانی نے، ان کو عثمان بن ابی درواد نے اسی طرح حدیث بیان کی۔ ...


4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ (بَابُ وَقْتِ العَصْرِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

549. حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، يَقُولُ: صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ العَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي العَصْرَ، فَقُلْتُ: يَا عَمِّ مَا هَذِهِ الصَّلاَةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ: «العَصْرُ، وَهَذِهِ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ»...

صحیح بخاری : کتاب: اوقات نماز کے بیان میں (باب: نماز عصر کے وقت کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

549. حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم نے ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی۔ وہاں سے فراغت کے بعد ہم حضرت انس بن مالک ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ وہ نماز عصر پڑھ رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا: چچا جان! یہ کون سی نماز ہے جو آپ نے اس وقت ادا کی ہے؟ فرمایا: یہ عصر کی نماز ہے۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہ نماز اسی وقت ادا کرتے تھے۔ ...


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابٌ: مَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ لاَ يُرِيدُ إ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

677. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ: جَاءَنَا مَالِكُ بْنُ الحُوَيْرِثِ - فِي مَسْجِدِنَا هَذَا - فَقَالَ: إِنِّي لَأُصَلِّي بِكُمْ وَمَا أُرِيدُ الصَّلاَةَ، أُصَلِّي كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَقُلْتُ لِأَبِي قِلاَبَةَ: كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي؟ قَالَ: مِثْلَ شَيْخِنَا هَذَا، قَالَ: وَكَانَ شَيْخًا، «يَجْلِسُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، قَبْلَ أَنْ يَنْهَضَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى»...

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب: کوئی شخص صرف یہ بتلانے کے لیے کہ نبی کریمﷺنماز کیوں کر پڑھا کرتے تھے اور آپ کا طریقہ کیا تھا نماز پڑھائے تو کیسا ہے؟ )

مترجم: BukhariWriterName

677. حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس اس مسجد میں ایک دفعہ حضرت مالک بن حویرث ؓ  تشریف لائے اور فرمانے لگے: میں تمہارے سامنے نماز پڑھتا ہوں، حالانکہ میری نیت نماز پڑھنے کی نہیں۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ تمہیں وہ طریقہ بتاؤں جس طریقے سے نبی ﷺ نماز پڑھا کرتے تھے۔ (راوی حدیث ایوب نے کہا: ) میں نے ابوقلابہ سے سوال کیا: انہوں نے کس طرح نماز پڑھی تھی؟ ابوقلابہ نے جواب دیا: ہمارے اس بزرگ (عمرو بن سلمہ) کی طرح۔ ہمارے وہ بزرگ جب پہلی رکعت میں سجدے سے سر اٹھاتے تو کھڑے ہونے سے پہلے ذرا بیٹھ جایا کرتے تھے۔ ...


6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ وُجُوبِ القِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالمَأْمُوم...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

755. حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ المَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: شَكَا أَهْلُ الكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَعَزَلَهُ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَمَّارًا، فَشَكَوْا حَتَّى ذَكَرُوا أَنَّهُ لاَ يُحْسِنُ يُصَلِّي، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ هَؤُلاَءِ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لاَ تُحْسِنُ تُصَلِّي، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: أَمَّا أَنَا وَاللَّهِ «فَإِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْرِمُ عَنْهَا، أُصَلِّي صَلاَةَ العِشَاءِ، فَأَرْكُدُ فِي الأُولَيَ...

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب: امام اور مقتدی کے لیے قرآت کا واجب ہونا، حضر اور سفر ہر حالت میں، سری اور جہری سب نمازوں میں۔ )

مترجم: BukhariWriterName

755. حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ اہل کوفہ نے حضرت عمر ؓ سے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ  کی شکایت کی تو حضرت عمر ؓ نے انہیں معزول کر کے حضرت عمار بن یاسر ؓ کو ان (کوفیوں) پر تعینات کر دیا۔ الغرض ان لوگوں نے حضرت سعد ؓ  کی بہت شکایات کیں۔ یہ بھی کہہ دیا کہ وہ اچھی نماز نہیں پڑھتے۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے انہیں بلا بھیجا اور کہا: اے ابواسحاق! یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم نماز اچھی طرح نہیں پڑھتے ہو: انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں انہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز پڑھاتا تھا۔ میں نے اس میں ذرہ بھر بھی کوتاہی کو روا نہیں رکھا۔ میں نماز عشاء پڑھاتا تو پہلی...


7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ القِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

758. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ سَعْدٌ: «كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلاَتَيِ العَشِيِّ لاَ أَخْرِمُ عَنْهَا، أَرْكُدُ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ» فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ...

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب: نماز ظہر میں قرات کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

758. حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا: میں اہل کوفہ کو (بعد از دوپہر) شام کی دونوں نمازیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی طرح پڑھاتا تھا، یعنی ان میں کسی قسم کی کمی نہیں کرتا تھا۔ میں پہلی دو رکعات میں دیر لگاتا اور آخری دو رکعات میں تخفیف کرتا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: میرا بھی تمہارے متعلق یہی گمان تھا۔ ...


8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ الجَهْرِ فِي العِشَاءِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

766. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ العَتَمَةَ، فَقَرَأَ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ: «سَجَدْتُ خَلْفَ أَبِي القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ»...

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب: نماز عشاء میں بلند آواز سے قرآن پڑھنا۔ )

مترجم: BukhariWriterName

766. حضرت ابورافع سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کے ہمراہ نماز عشاء پڑھی تو انہوں نے سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ ﴿١﴾) پڑھی اور اس میں سجدہ کیا۔ جب میں نے ان سے سجدے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کے پیچھے سجدہ کیا ہے، لہذا میں ہمیشہ اس میں سجدہ کرتا رہوں گا تاآنکہ (قیامت کے دن) میری آپ سے ملاقات ہو جائے۔ ...


9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ القِرَاءَةِ فِي العِشَاءِ بِالسَّجْدَةِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

768. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ العَتَمَةَ، فَقَرَأَ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: «سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ»...

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب: نماز عشاء میں سجدہ کی سورۃ پڑھنا )

مترجم: BukhariWriterName

768. حضرت ابورافع سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کے ہمراہ نماز عشاء پڑھی تو انہوں نے سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ ﴿١﴾) پڑھی اور اس میں سجدہ کیا۔ میں نے عرض کیا: یہ کون سا سجدہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کے پیچھے اس میں سجدہ کیا ہے، اس لیے اب تو میں اس سورت میں سجدہ کرتا رہوں گا تاآنکہ قیامت کے دن میری آپ سے ملاقات ہو جائے۔ ...


10 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ يُطَوِّلُ فِي الأُولَيَيْنِ وَيَحْذِفُ فِي ا...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

770. حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ: لَقَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى الصَّلاَةِ، قَالَ: «أَمَّا أَنَا، فَأَمُدُّ فِي الأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، وَلاَ آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ: صَدَقْتَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ظَنِّي بِكَ...

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب: عشاء کی پہلی دو رکعات لمبی اور آخری دو رکعات مختصر کرنی چاہئیں۔ )

مترجم: BukhariWriterName

770. حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے فرمایا: اہل کوفہ نے آپ کے متعلق ہر معاملہ حتی کہ نماز کے متعلق بھی شکایت کی ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے جواب دیا: میں پہلی دو رکعات میں طوالت اور آخری دو رکعات میں اختصار کرتا ہوں۔ اور جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز کی اقتدا کی ہے کبھی اس کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: آپ نے سچ کہا۔ میرا بھی آپ کے متعلق یہی گمان تھا۔ ...