1 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الضَّحَايَا بَابُ الْأُضْحِيَّةِ عَنْ الْمَيِّتِ

حکم: ضعیف

2790 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حَنَشٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ؟ فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ، فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ

سنن ابو داؤد:

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل

(باب: میت کی طرف سے قربانی)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2790. جناب حنش (حنش الکنانی، حنش صنعانی) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی ؓ کو دیکھا کہ وہ دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں ان کی طرف سے قربانی کیا کروں۔ چنانچہ میں آپ ﷺ کی طرف سے قربانی کیا کرتا ہوں۔...


2 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الْأَضَاحِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي الأُضْحِيَّةِ عَنِ الْمَيِّتِ​

حکم: ضعیف الاسناد

1495 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ أَمَرَنِي بِهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ أَبَدًا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُضَحَّى عَنْ الْمَيِّتِ وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُضَحَّى عَنْهُ و قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَحَبُّ إِ...

جامع ترمذی: كتاب: قربانی کے احکام ومسائل (باب: میت کی طرف سے قربانی کا بیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1495. علی ؓ سے روایت ہے کہ وہ دومینڈھوں کی قربانی کرتے تھے، ایک نبی اکرمﷺ کی طرف سے اور دوسرا اپنی طرف سے، توان سے اس بارے میں پوچھا گیا توانہوں نے بتایا کہ مجھے اس کا حکم نبی اکرمﷺ نے دیا ہے، لہٰذا میں اس کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث غریب ہے، ہم اس کو صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔۲۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: علی بن مدینی نے کہا: اس حدیث کو شریک کے علاوہ لوگوں نے بھی روایت کیا ہے، میں نے ان سے دریافت کیا: راوی ابوالحسناء کا کیا نام ہے؟ تو وہ اسے نہیں جان سکے، مسلم کہتے ہیں: اس کا نام حسن ہے۔۳۔ بعض اہل علم نے...