1 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا

حکم: صحیح

1184.03 وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: فَإِنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا، يَقُولُ: «لَبَّيْكَ اللهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَإِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، كَانَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَك...

صحیح مسلم: کتاب: حج کے احکام ومسائل (باب: تلبیہ ‘اس کا طریقہ اور وقت)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1184.03. ابن شہاب نے کہا: بلا شبہ سالم بن عبد اللہ بن عمر نے مجھے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے خبر دی انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں تلبیہ پکا رتے سنا کہ آپﷺ کے بال جڑے (گوندیا خطمی بو ٹی وغیرہ کے ذریعے سے باہم چپکے ) ہوئے تھے آپﷺ کہہ رہے تھے: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ ان کلمات پر اضا فہ نہیں فرماتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول اللہ ﷺ ذوالحلیفہ میں ...


2 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الحَجِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ مَتَى أَحْرَمَ النَّبِيُّ ﷺ​

حکم: ضعیف

819 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يُحْرِمَ الرَّجُلُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ...

جامع ترمذی: كتاب: حج کے احکام ومسائل (باب: نبی اکرم ﷺ نے احرام کب باندھا؟​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

819. عبداللہ بن عباس‬ ؓ ک‬ہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز کے بعد احرام باندھا۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن غریب ہے۔۲- ہم عبدالسلام بن حرب کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث روایت کی ہو۔۳- جس چیز کو اہل علم نے مستحب قرار دیا ہے وہ یہی ہے کہ آدمی نماز کے بعد احرام باندھے۔...


3 ‌سنن النسائي کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ بَابٌ كَيْفَ التَّلْبِيَةُ

حکم: صحیح

2747 أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ إِنَّ سَالِمًا أَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَاهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ يَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِم...

سنن نسائی: کتاب: مواقیت کا بیان (باب: لبیک کیسے کہا جائے؟)

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2747. حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو لبیک کہتے سنا۔ آپ فرما رہے تھے: [لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ! لَبَّيْكَ…لَا شَرِيكَ لَكَ] ”میں حاضر ہوں۔ اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ بلا شبہ تمام تعریفیں اور احسانات تیرے ساتھ خاص ہیں اور حکومت بھی تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔“ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ ذوالحلیفہ کی مسجد میں آپ کو لے کر کھڑی ہوتی تو آپ بلند آواز سے یہ کلمات ادا فرماتے۔...