1 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ لَا يُكَرَّرُ

حکم: صحیح

1279 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا»

صحیح مسلم: کتاب: حج کے احکام ومسائل (باب: سعی دوبارہ نہ کی جائے)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1279. ہمیں یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی: (کہا :) مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرما رہے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحا بہ نے صفا مروہ کے ایک (بار کے) طواف (سعی) کے سوا کو ئی اور طواف نہیں کیا۔...


4 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الحَجِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الْقَارِنَ يَطُوفُ طَوَافًا ...

حکم: صحیح

948 حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَجْزَأَهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ وَسَعْيٌ وَاحِدٌ عَنْهُمَا حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَلَى ذَلِكَ اللَّفْظِ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ وَهُوَ أَصَحُّ...

جامع ترمذی: كتاب: حج کے احکام ومسائل (باب: قارن کے ایک ہی طواف کرنے کا بیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

948. عبداللہ بن عمر‬ ؓ ک‬ہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:' جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا اس کے لیے ایک طواف اور ایک سعی کافی ہے یہاں تک کہ وہ ان دونوں کا احرام کھول دے'۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت کرنے میں عبدالعزیز دراوردی منفرد ہیں، اسے دوسرے کئی اور لوگوں نے بھی عبیداللہ بن عمر (العمری) سے روایت کیا ہے،لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیاہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔...