1 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ السُّنَّةِ بَابُ فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِؓ

حکم: صحیح

99 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ» ، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي نَفْسَهُ...

سنن ابن ماجہ: کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت (

باب: حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے فضائل ومناقب

)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

99. حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’میں ہر دوست کی دوستی سے مستغنی ہوں۔ اگر میں کسی (انسان) کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا، لیکن تمہارا ساتھی اللہ کا خلیل ہے۔‘‘ حدیث کے راوی وکیع ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ساتھی سے خود کو مراد لیا ہے۔...


2 ‌مسند احمد مُسْنَدُ الْعَشْرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ مُسْنَدُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ ع...

حکم: إسناده ضعيف،

877 حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ يَعْنِي الْفَرَّاءَ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يُؤَمَّرُ بَعْدَكَ قَالَ إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجِدُوهُ أَمِينًا زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَا أُرَاكُمْ فَاعِلِينَ تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَأْخُذُ بِكُمْ الطَّر...

مسند احمد: جنت کی بشارت پانےوالےدس صحابہ کی مسند (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مرویات)

مترجم: مولانا محمد ظفر اقبال

877. حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کے بعد ہم کسے امیر مقرر کریں؟ فرمایا اگر ابوبکر کو امیر بناؤ گے توانہیں امین پاؤ گے، دنیا سے بے رغبت اور آخرت کا مشتاق پاؤ گے، اگر عمر کو امیر بناؤ گے تو انہیں طاقتور اور امین پاؤ گے، وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے اور اگر تم علی کو امیر بناؤ گے، لیکن میرا خیال ہے کہ تم ایسا نہیں کرو گے، تو انہیں ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ پاؤ گے، جو تمہیں صراط مستقیم پر لے کر چلیں گے۔...