1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ (بَابُ المَسْجِدِ يَكُونُ فِي الطَّرِيقِ مِنْ غَيْر...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

476. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَرَفَيِ النَّهَارِ: بُكْرَةً وَعَشِيَّةً، ثُمَّ بَدَا لِأَبِي بَكْرٍ، فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ وَيَقْرَأُ القُرْآنَ، فَيَقِفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ المُشْرِكِينَ وَأَبْنَاؤُهُمْ، يَعْجَبُونَ مِنْهُ وَيَنْظُرُ...

صحیح بخاری : کتاب: نماز کے احکام و مسائل (باب: عام راستوں پر مسجد بنانا جب کہ کسی کو اس سے نقصان نہ پہنچے (جائز ہے)۔ )

مترجم: BukhariWriterName

476. حضرت عائشہ زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سے میں نے ہوش سنبھالا، اسی وقت میں نے یہ دیکھا کہ میرے سے میں نے یہ دیکھا کہ میرے والدین دین اسلام قبول کر چکے تھے۔ اور ہم پر کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں ہمارے ہاں رسول اللہ ﷺ دن کے دونوں حصوں میں، یعنی صبح و شام نہ آتے ہوں۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دل میں ایک بات آئی اور انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک کھلی جگہ میں مسجد بنا لی جس میں وہ نماز پڑھتے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے۔ مشرکین کے بچے اور عورتیں آتے جاتے ان کے پاس کھڑے ہو جاتے۔ وہ حضرت ابوبکر کی حالت پر تعجب کرتے اور انہیں غور سے دیکھتے۔ حضرت...


2 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ الكَفَالَةِ (بَابُ جِوَارِ أَبِي بَكْرٍ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2297.01. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ وَقَالَ أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلّ...

صحیح بخاری : کتاب: کفالت کے مسائل کا بیان (باب: نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں حضرت ابوبکر ؓ کو ( ایک مشرک کا ) امان دینا اور اس کے ساتھ آپ کا عہد کرنا )

مترجم: BukhariWriterName

2297.01. نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ (اُم المومنین ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالااپنے والدین کو اسی دین اسلام پر پایا اور ہم پر کوئی دن نہیں گزرتا تھا مگر رسول اللہ ﷺ صبح و شام دونوں وقت ہمارے ہاں تشریف لاتے تھے۔ جب مسلمانوں کا ابتلا بہت شدید ہو گیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے نکلے یہاں تک کہ جب وہ"برک غماد"پہنچے تو انھیں ابن دغنہ ملا جو قارہ قبیلے کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا: اے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ میری قوم نے مج...


3 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ مَنَاقِبِ الأَنْصَارِ (بَابُ هِجْرَةِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَصْحَابِهِ إِلَى ال...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3905. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ، إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ، بُكْرَةً وَعَشِيَّةً، فَلَمَّا ابْتُلِيَ المُسْلِمُونَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا نَحْوَ أَرْضِ الحَبَشَةِ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَرْكَ الغِمَادِ لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ وَهُوَ سَيِّدُ القَارَةِ، فَ...

صحیح بخاری : کتاب: انصار کے مناقب (باب: نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا )

مترجم: BukhariWriterName

3905. نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے والدین کو دین حق کی پیروی کرتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ اور ہم پر کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ صبح و شام دونوں وقت رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس نہ آتے ہوں۔ پھر جب مسلمانوں کو سخت اذیت دی جانے لگی تو حضرت ابوبکر ؓ حبشہ کی طرف ہجرت کی نیت سے (مکہ سے) نکلے۔ جب آپ برک الغماد کے مقام پر پہنچے تو انہیں ابن دغنہ ملا جو قبیلہ قارہ کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا: اے ابوبکر! کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ زمین کی سیروس...


4 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ مَنَاقِبِ الأَنْصَارِ (بَابُ هِجْرَةِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَصْحَابِهِ إِلَى ال...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3906. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ المُدْلِجِيُّ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ يَقُولُ: جَاءَنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، مَنْ قَتَلَهُ أَوْ أَسَرَهُ، فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ، أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ جُلُوسٌ، فَقَالَ يَا سُرَاقَةُ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ، أُرَاهَا مُحَمَّدًا ...

صحیح بخاری : کتاب: انصار کے مناقب (باب: نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا )

مترجم: BukhariWriterName

3906. حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ کا بیان ہے کہ ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آئے جو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے بارے میں اس امر کا اعلان کر رہے تھے کہ جو شخص انہیں قتل کر دے یا زندہ گرفتار کر کے لائے تو ہر ایک کے بدلے ایک سو اونٹ اسے بطور انعام دیے جائیں گے، چنانچہ میں ایک وقت اپنی قوم بنو مدلج کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک آدمی آیا اور ہمارے پاس کھڑا ہو گیا جبکہ ہم بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے کہا: اے سراقہ! میں نے ابھی ابھی ساحل پر چند لوگ دیکھے ہیں۔ میں انہیں محمد اور ان کے ساتھی خیال کرتا ہوں۔ سراقہ کہتے ہیں: میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ہیں مگر میں نے ایسے...