1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ بَدْءِ الأَذَانِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

604. حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: كَانَ المُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا المَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلاَةَ لَيْسَ يُنَادَى لَهَا، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ اليَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلاَ تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلاَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ»...

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب:اس بیان میں کہ اذان کیونکر شروع ہوئی۔ )

مترجم: BukhariWriterName

604. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جب مسلمان مدینہ منورہ آئے تو نماز کے وقت کا اندازہ کر کے اس کے لیے جمع ہوا کرتے تھے کیونکہ اس وقت نماز کے لیے باقاعدہ اذان کا اہتمام نہ تھا۔ ایک دن انہوں نے اس کے متعلق باہمی مشورہ کیا تو کسی نے کہا: عیسائیوں کی طرح ایک ناقوس بنا لیا جائے۔ اور کچھ لوگوں نے کہا: یہودیوں کے بگل کی طرح ایک نر سنگھا رکھ لیا جائے، مگر حضرت عمر ؓ نے فرمایا: تم ایک آدمی کو کیوں نہیں بھیجتے جو نماز کی اطلاع دے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے بلال! اٹھو اور نماز کی اطلاع دو۔"...


2 صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ بدْءِ الْأَذَانِ)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

377. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ، وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُ...

صحیح مسلم : کتاب: نماز کے احکام ومسائل (باب: اذان کی ابتداء )

مترجم: MuslimWriterName

377. حضرت عبد اللہ بن عمر﷜ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو جاتے اور نمازوں کے اوقات کا انتظار کرتے، کوئی اس کا اعلان نہیں کرتا تھا۔ ایک دن انہوں نے اس کے بارے میں گفتگو کی تو بعض نے کہا: عیسائیوں کے گھنٹے کے مانند ایک گھنٹا لے لو اور بعض نے کہا: یہود کے قرنا جیسا قرنا، البتہ حضرت عمر﷜ نے کہا: تم ایک آدمی ہی کیوں نہیں بھیج دیتے جو نماز کا اعلان کرے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے بلال! اٹھو اور نماز کا اعلان کرو۔‘‘...


3 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الأَذَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي بَدْءِ الأَذَانِ​)

حکم: حسن

189. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالرُّؤْيَا فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ لَرُؤْيَا حَقٍّ فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَإِنَّهُ أَنْدَى وَأَمَدُّ صَوْتًا مِنْكَ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَكَ وَلْيُنَادِ بِذَلِكَ قَالَ فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِدَاءَ بِلَالٍ بِالصَّلَاةِ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ...

جامع ترمذی : كتاب: اذان سے متعلق احکام ومسائل (باب: اذان کی ابتدا کا بیان​ )

مترجم: TrimziWriterName

189. عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم نے (مدینہ منورہ میں ایک رات) صبح کی توہم رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور میں نے آپ کو اپنا خواب بتایا ۱؎ توآپ نے فرمایا:' یہ ایک سچا خواب ہے، تم اٹھو بلال کے ساتھ جاؤ وہ تم سے اونچی اور لمبی آواز والے ہیں۔ اور جو تمہیں بتایاگیا ہے ، وہ ان پرپیش کرو، وہ اسے زور سے پکارکرکہیں'، جب عمربن خطاب ؓ نے بلال ؓ کی اذان سنی تو اپنا تہ بند کھینچتے ہوئے رسول اللہﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول!قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بناکربھیجاہے، میں نے (بھی )اسی طرح دیکھا ہے جو انہوں نے کہا، رسول اللہﷺ نے فرمایا:' اللہ کا شکر ...


4 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الأَذَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي بَدْءِ الأَذَانِ​)

حکم: صحیح

190. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى وَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بِلَالُ قُمْ فَنَاد...

جامع ترمذی : كتاب: اذان سے متعلق احکام ومسائل (باب: اذان کی ابتدا کا بیان​ )

مترجم: TrimziWriterName

190. عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: جس وقت مسلمان مدینہ آئے تووہ اکٹھے ہوکر اوقاتِ صلاۃ کا اندازہ لگاتے تھے، کوئی صلاۃ کے لیے پکار نہ لگاتا تھا، ایک دن ان لوگوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی ۱؎ چنانچہ ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: نصاریٰ کے ناقوس کی طرح کوئی ناقوس بنالو، بعض نے کہا:کہ تم یہودیوں کے قرن کی طرح کوئی قرن(یعنی کسی جانور کا سینگ) بنالو۔ ابن عمر ؓ کہتے ہیں: اس پرعمربن خطاب ؓ نے کہا: کیا تم کوئی آدمی نہیں بھیج سکتے جو صلاۃ کے لیے پکارے۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: 'بلال اٹھو جاؤ صلاۃ کے لیے پکارو'۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عمر ؓ کی (اُس) روایت سے حسن صحیح غریب...


5 سنن النسائي: كِتَابُ الْأَذَانِ (بَابُ بَدْءِ الْأَذَانِ)

حکم: صحیح

626. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى وَقَالَ بَعْضَهُمْ بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بِل...

سنن نسائی : کتاب: اذان سے متعلق احکام و مسائل (باب: اذان کی ابتداء کا بیان )

مترجم: NisaiWriterName

626. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہوتے اور نماز کے وقت کا اندازہ لگاتے تھے۔ کوئی شخص اس (نماز) کا اعلان نہ کرتا تھا۔ ایک دن انھوں نے اس مسئلے کے بارے میں بات چیت کی۔ چنانچہ کسی نے کہا: عیسائیوں جیسا ناقوس (گھنٹہ) بنالو۔ کسی نے کہا: بلکہ یہودیوں جیسا نرسنگا (دھوتو) بنالو۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: تم (نماز کے وقت) کوئی آدمی (گلیوں میں) کیوں نہیں بھیج دیتے جو نماز کا اعلان کرے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بلال! اٹھو اور نماز کا اعلان کرو۔‘‘ ...


6 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَذَانِ وَالسُّنَّةُ فِيهِ (بَابُ بَدْءِ الْأَذَانِ)

حکم: حسن

706. حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ هَمَّ بِالْبُوقِ وَأَمَرَ بِالنَّاقُوسِ فَنُحِتَ فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ فِي الْمَنَامِ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فَقُلْتُ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ تَبِيعُ النَّاقُوسَ قَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِهِ قُلْتُ أُنَادِي بِهِ إِلَى الصَّلَا...

سنن ابن ماجہ : کتاب: آذان کے مسائل اور اس کا طریقہ (باب: اذان کا آغاز )

مترجم: MajahWriterName

706. سیدنا عبداللہ بن زید ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے نرسنگا بجوانے کا ارادہ فرمایا، اور ناقوس( کی تیاری) کا حکم دیا تو وہ تراش لیا گیا۔( اس کے بعد) سیدنا عبداللہ بن زید ؓ کو خواب آیا۔ وہ فرماتے ہیں: مجھے( خواب میں) دو سبز کپڑے پہنے ہوئے ایک مرد نظر آیا، وہ ناقوس آٹھائے ہوئے تھا۔ میں نے اسے (خواب میں) کہا: اللہ کے بندے! ناقوس بیچو گے؟ اس نے کہا: آپ اس کا کیا کریں گے؟ میں نے کہا: میں آپ کو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: آپ یوں کہیں( اللہ اکبر اللہ اکبر)’’اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘(اشھد ان لا الہ الا اللہ)’’میں...


7 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَذَانِ وَالسُّنَّةُ فِيهِ (بَابُ بَدْءِ الْأَذَانِ)

حکم: ضعیف وبعضه صحيح

707. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَشَارَ النَّاسَ لِمَا يُهِمُّهُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَذَكَرُوا الْبُوقَ فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ الْيَهُودِ ثُمَّ ذَكَرُوا النَّاقُوسَ فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ النَّصَارَى فَأُرِيَ النِّدَاءَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَطَرَقَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَ...

سنن ابن ماجہ : کتاب: آذان کے مسائل اور اس کا طریقہ (باب: اذان کا آغاز )

مترجم: MajahWriterName

707. سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے مشورہ کیا کیوں کہ نماز (باجماعت) کے لئے( آنے میں) انہیں مشکل پیش آتی تھی۔ (کیوں کہ بیک وقت جمع نہیں ہو پاتے تھے۔) حاضرین نے نرسنگے کا ذکر کیا لیکن آپ ﷺ نے یہودیوں (سے موافقت) کی وجہ سے اسے نا پسند فرمایا۔ پھر انہوں نے ناقوس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے نصاری کی وجہ سے اسے نا پسند فرمایا۔ اسی رات ایک انصاری صحابی سیدنا عبداللہ بن زید ؓ کو اور سیدنا عمر بن خطاب ؓ کو (خواب میں) اذان دکھائی گئی۔ انصاری صحابی رسول اللہ ﷺ کے پاس رات کو آئے ( اور اپنا خواب سنایا) چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال ؓ کو حکم دیا اور انہوں...