1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ مَنْ سَمَّى بِأَسْمَاءِ الأَنْبِيَاءِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6194. حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ: قُلْتُ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى: رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «مَاتَ صَغِيرًا، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهُ، وَلَكِنْ لاَ نَبِيَّ بَعْدَهُ»...

صحیح بخاری : کتاب: اخلاق کے بیان میں (باب: جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے )

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6194. حضرت اسماعیل بن ابو خالد سے روایت ہے میں نے ابن ابی اوفی ؓ سے پوچھا: کیا تم نے نبی ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم ؓ کو دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ ان کی وفات بچپن میں ہوگئی تھی۔ اگر محمد ﷺ کے بعد کسی بھی نبی کی آمد کا فیصلہ ہوتا تو آپ کے صاحبزادے زندہ رہتے لیکن آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ...


2 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى ابْنِ رَسُولِ...)

حکم: صحیح()(الألباني)

1510. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى: رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَبِيٌّ، لَعَاشَ ابْنُهُ، وَلَكِنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ»...

سنن ابن ماجہ : کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل (باب : رسول اللہﷺ کے فرزند کی وفات اور جنازے کا بیان )

مترجم: ١. فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1510. حضرت اسماعیل بن ابو خالد ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم ؓ کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ تو بچپن ہی میں فوت ہوگئے تھے۔ اگرتقدیر یہ ہوتی کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی اور نبی ہو تو آپ کےر(یہ) فرزند زندہ رہتے، لیکن نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ ...


3 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى ابْنِ رَسُولِ...)

حکم: صحیح()(الألباني)

1511. حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ _ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ _ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا، وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ الْقِبْطُ، وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ»...

سنن ابن ماجہ : کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل (باب : رسول اللہﷺ کے فرزند کی وفات اور جنازے کا بیان )

مترجم: ١. فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1511. حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے فرزند ابراہیم ؓ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا جنازہ پڑھا اور فرمایا: ’’اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی مقرر ہے اور اگر وہ زندہ رہتا تو نبی صدیق ہوتا اور اگر وہ زندہ رہتا تو اس کے ماموں قبطی آزاد ہو جاتے، پھر کسی قبطی کو غلام نہ بنایا جاتا۔‘‘ ...