1 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ مَنَاقِبِ الأَنْصَارِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺاللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْح...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3936. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ مَرَضٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَ بِي مِنْ الْوَجَعِ مَا تَرَى وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ لَا قَالَ فَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ قَالَ الثُّلُثُ يَا سَعْدُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ ذُرِّيَّتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَلَسْتَ بِنَافِق...

صحیح بخاری : کتاب: انصار کے مناقب (باب: نبی کریم ﷺ کی دعا کہ اے اللہ ! میرے اصحاب کی ہجرت قائم رکھ اور جومہاجر مکہ میں انتقال کر گئے‘ان کے لئے آپ کا اظہار رنج کرنا )

مترجم: BukhariWriterName

3936. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی ﷺ میری تیمارداری کے لیے تشریف لائے۔ میں اس بیماری میں موت کے قریب ہو گیا تھا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مرض کی شدت آپ خود ملاحظہ فر مارہے ہیں۔ میرے پاس مال کی فراوانی ہے اور میری صرف ایک بیٹی وارث ہے۔ کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں‘‘  عرض کی: نصف مال صدقہ کر دوں؟ فرمایا: ’’ایک تہائی (صدقہ کر دو) اور یہ تہائی بھی بہت ہے۔ تمہارا اپنی اولاد کو مال دار چھوڑ کر جانا اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو، وہ لوگوں کے...


3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَرْضَى (بَابُ قَوْلِ المَرِيضِ: إِنِّي وَجِعٌ، أَوْ وَا ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5666. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَبُو زَكَرِيَّاءَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ القَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: وَا رَأْسَاهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرَ لَكِ وَأَدْعُوَ لَكِ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَا ثُكْلِيَاهْ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي، وَلَوْ كَانَ ذَاكَ، لَظَلِلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلْ أَنَا وَا رَأْسَاهْ، لَقَدْ هَمَمْتُ - أَوْ أَرَدْتُ - أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي ...

صحیح بخاری : کتاب: امراض اور ان کے علاج کے بیان میں (باب: مریض کا یوں کہنا کہ مجھے تکلیف ہے یا یوں کہناکہ ” ہائے میرا سر دکھ رہا ہے یا میری تکلیف بہت بڑھ گئی “ )

مترجم: BukhariWriterName

5666. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے ایک مرتبہ کہا: میرا سر درد! اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو فوت ہو گئی اور میں زندہ رہا تو میں تمہارے لیے اللہ تعالٰی سے مغفرت طلب کروں گا اور دعا مانگوں گا۔“ سیدہ عائشہ‬ ؓ ن‬ے کہا: ہائے افسوس! اللہ کی قسم! میرے گمان کے مطابق اپ میرا مرنا پسند کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو اسی دن رات کسی بیوی کے ہاں بسر کریں گے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: بلکہ میں تو خود درد سر میں مبتلا ہوں۔ میں نے ارادہ کیا تھا کہ مٰیں ابو بکر اور ان کے بیٹے کو پیغام بھیجوں اور وصیت کروں کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے بعد کہنے والے کچھ اور کہیں اور تمنا کر...


4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَرْضَى (بَابُ قَوْلِ المَرِيضِ: إِنِّي وَجِعٌ، أَوْ وَا ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5668. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي، زَمَنَ حَجَّةِ الوَدَاعِ، فَقُلْتُ: بَلَغَ بِي مَا تَرَى، وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلاَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لاَ» قُلْتُ: بِالشَّطْرِ؟ قَالَ: «لاَ» قُلْتُ: الثُّلُثُ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ كَثِيرٌ، أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَلَنْ تُنْفِقَ نَف...

صحیح بخاری : کتاب: امراض اور ان کے علاج کے بیان میں (باب: مریض کا یوں کہنا کہ مجھے تکلیف ہے یا یوں کہناکہ ” ہائے میرا سر دکھ رہا ہے یا میری تکلیف بہت بڑھ گئی “ )

مترجم: BukhariWriterName

5668. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیےہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ حجتہ الوداع کے زمانے میں ایک سخت بیماری جس حد کو پہنچ چکی ہے اسے آپ دیکھ رہے ہیں۔ میں مالدار ہوں لیکن میری وارث صرف ایک لڑکی ہے کوئی اور دوسرا نہیں تو کیا میں دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے عرض کی: پھر آدھا مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: ایک تہائی کر دوں؟آپ ﷺ نے فرمایا: ”تہائی بہت کم ہے۔ اگر تم اپنےوارثوں کو غنی چھوڑ جاؤ تو یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامن...


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الدَّعَوَاتِ (بَابُ الدُّعَاءِ بِرَفْعِ الوَبَاءِ وَالوَجَعِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6373. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ، مِنْ شَكْوَى أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى المَوْتِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلَغَ بِي مَا تَرَى مِنَ الوَجَعِ، وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلاَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لاَ» قُلْتُ: فَبِشَطْرِهِ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْف...

صحیح بخاری : کتاب: دعاؤں کے بیان میں (باب: دعا سے وباء اور پریشانی دور ہو ہوجاتی ہے )

مترجم: BukhariWriterName

6373. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ حجتہ الوادع کے موقع پر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میری اس بیماری نے مجھے موت کے قریب کر دیا تھا۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ خود مشاہدہ فرما رہے ہیں کہ بیماری نے مجھے کہاں تک پہنچا دیا ہے۔ میں صاحب ثروت ہوں اور میری ایک ہی بیٹی میری وارث ہے۔ کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے عرض کی: اپنا نصف مال دے دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے عرض کی: ایک تہائی دے سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی بہت ہے۔ اگر تم ورثاء کو مال دار چھوڑو تو یہ...


6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَحْكَامِ (بَابُ الِاسْتِخْلاَفِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7217. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَارَأْسَاهْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرُ لَكِ وَأَدْعُو لَكِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَا ثُكْلِيَاهْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي وَلَوْ كَانَ ذَاكَ لَظَلَلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ أَنَا وَارَأْسَاهْ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ فَأَعْه...

صحیح بخاری : کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں (باب : ایک خلیفہ مرتے وقت کسی اور کو خلیفہ کرجائے تو کیسا ہے ؟ )

مترجم: BukhariWriterName

7217. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے ایک مرتبہ کہا: ہائے سر پھٹا جا رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم مرجاؤ اور میں زندہ رہا تو میں تمہارے لیے مغفرت مانگوں گا اور دعائے خیر کروں گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: افسوس! آپ تو میری موت کے طالب ہیں اور اگر ایسا ہوگیا تو آپ دن کی آخری حصےمیں ضرور کسی دوسری عورت  سے شادی کرلیں گے۔ نبی ﷺنے فرمایا: ایس نہیں بلکہ میں تو اپنے سر درد کا اظہار کرتا ہوں۔ میرا ارادہ ہوا تھا کہ میں ابو بکر اور اس کے بیٹے کو بلاؤں اور انہیں خلیفہ بنا دوں تاکہ کسی دعویٰ کرنے والے یا س کی خواہش رکھنے والے کے لیے گنجائ...


7 صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ (بَابُ جَوَازِ مُدَاوَاةِ الْمُحْرِمِ عَيْنَيْهِ)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

1204. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَلَلٍ، اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ عَيْنَيْهِ، فَلَمَّا كُنَّا بِالرَّوْحَاءِ اشْتَدَّ وَجَعُهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَسْأَلُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنِ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ، فَإِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ...

صحیح مسلم : کتاب: حج کے احکام ومسائل (باب: محرم کےلیے اپنی آنکھوں کے علاج کا جواز )

مترجم: MuslimWriterName

1204. سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ایوب بن مو سیٰ نے نُبَیْہ بن وہب سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا ہم ابان بن عثمان کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے جب ہم مَلَل کے مقام پر پہنچے تو عمر بن عبید اللہ کی آنکھوں میں تکلیف شروع ہو گئی، جب ہم رَوحا ء میں تھے تو ان کی تکلیف شدت اختیار کر گئی انھوں نے مسئلہ پو چھنے کے لیے ابان بن عثمان کی طرف قاصد بھیجا، انھوں نے ان کی طرف جواب بھیجا کہ دو نوں (آنکھوں) پر ایلوے کا لیپ کرو۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے اس شخص کے متعلق حدیث بیان کی تھی جو احرا م کی حا لت میں تھا، جب اس کی آنکھو...


8 صحيح مسلم: كِتَابُ السَّلَامِ (بَابُ اسْتِحْبَابِ وَضْعِ يَدِهِ عَلَى مَوْضِعِ ال...)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

2202. حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ مُنْذُ أَسْلَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَأَلَّمَ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ بِاسْمِ اللَّهِ ثَلَاثًا وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ...

صحیح مسلم : کتاب: سلامتی اور صحت کابیان (باب: دعا کے ساتھ ساتھ اپنا ہاتھ درد کی جگہ رکھنا مستحب ہے )

مترجم: MuslimWriterName

2202. سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے ایک درد کی شکایت کی، جو ان کے بدن میں پیدا ہو گیا تھا جب سے وہ مسلمان ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھو اور تین بار ((بسم اللہ)) کہو، اس کے بعد سات بار یہ کہو کہأَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ”میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کی برائی سے جس کو پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں“۔...


9 صحيح مسلم: كِتَابُ السَّلَامِ (بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَ...)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

2205.01. حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ جَاءَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي أَهْلِنَا وَرَجُلٌ يَشْتَكِي خُرَاجًا بِهِ أَوْ جِرَاحًا فَقَالَ مَا تَشْتَكِي قَالَ خُرَاجٌ بِي قَدْ شَقَّ عَلَيَّ فَقَالَ يَا غُلَامُ ائْتِنِي بِحَجَّامٍ فَقَالَ لَهُ مَا تَصْنَعُ بِالْحَجَّامِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّقَ فِيهِ مِحْجَمًا قَالَ وَاللَّهِ إِنَّ الذُّبَابَ لَيُصِيبُنِي أَوْ يُصِيبُنِي الثَّوْبُ فَيُؤْذِينِي وَيَشُقُّ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى تَبَرُّمَهُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَ...

صحیح مسلم : کتاب: سلامتی اور صحت کابیان (باب: ہر بیماری کی دوا ہے اور علاج مستحب ہے )

مترجم: MuslimWriterName

2205.01. عبدالرحمان بن سلیمان نے حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت کی ،کہا: کہ سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ ہمارے گھر میں آئے اور ایک شخص کو زخم کی تکلیف تھی (یعنی قرحہ پڑ گیا تھا)۔ سیدنا جابر ؓ نے کہا کہ تجھے کیا تکلیف ہے؟ وہ بولا کہ ایک قرحہ ہو گیا ہے جو کہ مجھ پر نہایت سخت ہے۔ سیدنا جابر ؓ نے کہا کہ اے غلام! ایک پچھنے لگانے والے کو لے کر آ۔ وہ بولا کہ پچھنے لگانے والے کا کیا کام ہے؟ سیدنا جابر ؓ نے کہا کہ میں اس زخم پر پچھنے لگوانا چاہتا ہوں، وہ بولا کہ اللہ کی قسم مجھے مکھیاں ستائیں گی اور کپڑا لگے گا تو مجھے تکلیف ہو گی اور مجھ پر بہت سخت (وقت) گزرے گا۔ جب سیدنا جابر ؓ ...


10 صحيح مسلم: كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ (بَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَ...)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

2570. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - قَالَ: إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا - جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: «مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَفِي رِوَايَةِ عُثْمَانَ - مَكَانَ الْوَجَعِ - وَجَعًا....

صحیح مسلم : کتاب: حسن سلوک،صلہ رحمی اور ادب (باب: مومن کو جو بیماری یا غم وغیرہ لاحق ہوتا ہے حتی کہ جو کانٹا چبھتا ہے اس پر (بھی) ثواب ملتا ہے )

مترجم: MuslimWriterName

2570. عثمان بن ابی شیبہ اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے مسروق سے روایت کی، کہا: حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے کہا: میں نے کوئی شخص نہیں دیکھا جسے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ عثمان کی روایت میں "سخت تکلیف کا سامنا" کے بجائے "جس کی تکلیف زیادہ سخت ہو" ہے۔...