1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابٌ: مِنَ الكَبَائِرِ أَنْ لاَ يَسْتَتِرَ مِنْ ب...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

216. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ المَدِينَةِ، أَوْ مَكَّةَ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ» ثُمَّ قَالَ: «بَلَى، كَانَ أَحَدُهُمَا لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ الآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ». ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ، فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَ...

صحیح بخاری : کتاب: وضو کے بیان میں (باب: اس بارے میں کہ پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنا کبیرہ گناہ ہے )

مترجم: BukhariWriterName

216. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ مدینے یا مکے کے کسی باغ سے گزرے تو وہاں دو آدمیوں کی آواز سنی جن کو قبر میں عذاب ہو رہا تھا۔ اس وقت آپ نے فرمایا: ’’ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے لیکن یہ عذاب کسی بڑی بات پر نہیں دیا جا رہا۔‘‘ پھر فرمایا: ’’ ہاں (بڑی ہی ہے) ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کی عادت میں مبتلا تھا۔‘‘ پھر آپ نے ایک تر شاخ منگوائی، اس کے دو ٹکڑے کر کے ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ آپ سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرم...


2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابٌ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

218. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: «إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ» ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: «لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا....

صحیح بخاری : کتاب: وضو کے بیان میں (باب )

مترجم: BukhariWriterName

218. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ کا گزر دو قبروں سے ہوا، آپ نے فرمایا:’’ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور عذاب بھی کسی بڑی بات کے سلسلے میں نہیں ہے۔ ایک تو ان میں سے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا پھرتا تھا۔‘‘  پھر آپ نے ایک تازہ شاخ لی اور درمیان سے چیر کر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ ارشاد ہوا: ’’ جب تک یہ شاخیں خشک نہ ہوں، شاید ان کے عذاب میں تخفیف ہو جائے۔‘‘ ...


4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ : «يُعَذَّبُ المَيِّتُ ب...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1286. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: تُوُفِّيَتْ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَكَّةَ، وَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا - أَوْ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا، ثُمَّ جَاءَ الآخَرُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي - فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ: أَلاَ تَنْهَى عَنِ البُكَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ المَيّ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1286. حضرت عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے،انھوں نے کہا:حضرت عثمان ؓ  کی ایک صاحبزادی مکہ مکرمہ میں فوت ہوگئی تو ہم ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر اورحضرت عبداللہ بن عباس ؓ  بھی وہاں موجود تھے۔ اور میں ان کے درمیان بیٹھا ہوا تھا، یاکہا:میں ان میں سے کسی ایک کے پاس بیٹھا تھا، پھر دوسرے صاحب تشریف لائے اور وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ  نے حضرت عمرو بن عثمان ؓ  سے کہا:(ان عورتوں کو) رونے سے منع کیوں نہیں کرتے ہو؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:’’میت کو اس کے اہل خانہ کے اس پر رونے کی وجہ س...


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ : «يُعَذَّبُ المَيِّتُ ب...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1287. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: قَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ، ثُمَّ حَدَّثَ، قَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مَكَّةَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ، فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلاَءِ الرَّكْبُ، قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: ادْعُهُ لِي، فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالحَقْ أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي يَقُولُ: وَا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا صُهَيْبُ، أَتَبْكِي عَلَيَّ،...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1287. حضرت ابن عباس ؓ  نے فرمایا:حضرت عمر ؓ  بھی ایسا ہی فرمایا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے خبر دی کہ میں سیدنا عمر کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے آرہاتھا۔ جب ہم مقام بیداء پہنچے تو اچانک ایک قافلہ کیکر کے سائے تلے تھا۔ انھوں نےفرمایا:جاؤدیکھو یہ کون لوگ ہیں؟میں نے دیکھا تو وہ حضرت صہیب ؓ تھے۔ میں نے انھیں خبر دی تو انھوں نے فرمایا:انھیں میرے پاس بلالاؤ۔ میں حضرت صہیب ؓ  کے پاس گیا اور ان سے کہا:چلیں اور امیر المومنین سے ملاقات کریں۔ جب حضرت عمر زخمی کیے گئے تو صہيب آئے اور روتے ہوئے یہ کہنے لگے:ہائے میرے بھائی!ہائے میرے ساتھی!حضرت عمر ؓ  نے فرمایا:اے صہیب ؓ&n...


6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ : «يُعَذَّبُ المَيِّتُ ب...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1288. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ، وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَيُعَذِّبُ المُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ»، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ»، وَقَالَتْ: حَسْبُكُمُ القُرْآنُ: {وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «عِنْدَ ذَلِكَ وَاللَّهُ هُوَ أَضْحَك...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1288. حضرت ابن عباس ؓ  نے فرمایا کہ جب سیدناعمر ؓ  شہید ہوگئے تو میں نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ  سے یہ ذکر کیا۔انھوں نے فرمایا:اللہ تعالیٰ حضرت عمر ؓ  پر رحم کرے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ مومن کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تو یہ فرمایا تھا:’’اللہ تعالیٰ کافر کو اسکے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے مزید عذاب کرتا ہے۔‘‘ اور فرمایا کہ قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ تمہارے لیے کافی ہے:’’اور کوئی بوجھ اٹھانے والا ک...


7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ : «يُعَذَّبُ المَيِّتُ ب...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1290. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ وَهْوَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَعَلَ صُهَيْبٌ يَقُولُ وَا أَخَاهُ فَقَالَ عُمَرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1290. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ  سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر ؓ  زخمی کیے گئے تو حضرت صہیب ؓ  روتے ہوئے کہنے لگے:ہائے میرے بھائی! حضرت عمر ؓ  نے فرمایا:کیاتمھیں معلوم نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیاجاتا ہے۔‘‘ ...


8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ النِّيَاحَةِ عَلَى المَيِّ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1291. حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: میت پر نوحہ کرنا مکروہ ہے )

مترجم: BukhariWriterName

1291. حضرت مغیرہ ؓ  سے روایت ہے،انھوں نے کہا:میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:’’میری طرف جھوٹ منسوب کرنا دوسرے لوگوں کی طرف جھوٹ منسوب کرنے کی طرح نہیں۔ جس نے دانستہ میری طرف جھوٹ منسوب کیا وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔‘‘ اور میں نے نبی کریم ﷺ سے یہ بھی سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:’’جس شخص پر نوحہ کیاجاتاہے اسے اس نوحے کیوجہ سے عذاب دیاجاتا ہے۔‘‘ ...


9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ النِّيَاحَةِ عَلَى المَيِّ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1292. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ تَابَعَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَقَالَ آدَمُ عَنْ شُعْبَةَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: میت پر نوحہ کرنا مکروہ ہے )

مترجم: BukhariWriterName

1292. حضرت ابن عمر ؓ  سے روایت ہے ،وہ اپنے والد محترم حضرت عمر ؓ  سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرمایا:’’میت کو اپنی قبر میں اس پر نوحہ کیے جانے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔‘‘ عبدان کی عبدالاعلیٰ نے متابعت کی ہے اور آدم ؑ نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ بیان کیے:’’میت کو زندوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیاجاتا ہے۔‘‘ ...


10 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ البُكَاءِ عِنْدَ المَرِيضِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1304. حَدَّثَنَا أَصْبَغُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي غَاشِيَةِ أَهْلِهِ فَقَالَ قَدْ قَضَى قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَي...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: مریض کے پاس رونا کیسا ہے؟ )

مترجم: BukhariWriterName

1304. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ  سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: حضرت سعد بن عبادہ ؓ  بیمار ہوئے تو نبی ﷺ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ؓ ، سعد بن ابی وقاص اور عبد اللہ بن مسعود ؓ  کی معیت میں ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ جب آپ وہاں پہنچے تو اسے اپنے اہل خانہ کے درمیان پایا تو آپ نے دریافت فرمایا:’’آیا انتقال ہو گیا ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا:اللہ کے رسول اللہ ﷺ !نہیں پھر نبی ﷺ روپڑے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کو روتا دیکھ کر دوسرے لوگ بھی رونے لگے۔ پھر اس کے بعد آپ نے فرمایا:’’کیا تم سنتے نہیں ہو؟اللہ تعالیٰ آنکھ کے رونے اور دل کے غم...