1 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْأَيْمَانِ بَابُ إِطْعَامِ الْمَمْلُوكِ مِمَّا يَأْكُلُ، وَإِ...

حکم: صحیح

1663 وحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ، وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ، فَلْيَأْكُلْ، فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا، فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ»، قَالَ دَاوُدُ: «يَعْنِي لُقْمَةً، أَوْ لُقْمَتَيْنِ...

صحیح مسلم:

کتاب: قسموں کا بیان

(باب: غلام کو وہ وہی کھلانا جو وہ (مالک خود)کھائے ا...)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1663. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے لیے کھانا تیار کرے، پھر اس کے سامنے پیش کرے اور اسی نے (آگ کی) تپش اور دھواں برداشت کیا ہے تو وہ اسے اپنے ساتھ بٹھائے اور وہ (غلام بھی اس کے ساتھ) کھائے اور اگر کھانا بہت سے لوگوں نے کھانا لیا ہو، (یعنی) کم ہو تو اس کے ہاتھ میں ایک یا دو لقمے (ضرور) دے۔‘‘...


2 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابٌ فِي الْخَادِمِ يَأْكُلُ مَعَ الْمَوْلَى

حکم: صحیح

3846 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامًا ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ لِيَأْكُلَ فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أَكْلَةً أَوْ أَكْلَتَيْنِ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل

(باب: خادم اپنے مالک کسے ساتھ مل کر کھانا کھا سکتا ...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3846. سیدنا ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارا خادم تمہارے لیے کھانا تیار کر کے تمہیں پیش کرے، جبکہ وہ اس کی گرمی اور دھواں برداشت کرتا رہا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھلائے، اگر کھانا کم اور اس کے طلب گار زیادہ ہوں تو (بھی) مناسب ہے کہ ایک دو لقمے اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔“...


3 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الْأَطْعِمَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مَعَ الْمَمْلُوكِ وَا...

حکم: صحیح

1853 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يُخْبِرُهُمْ ذَاكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَفَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيَأْخُذْ بِيَدِهِ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيُطْعِمْهَا إِيَّاهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو خَالِدٍ وَالِدُ إِسْمَعِيلَ اسْمُهُ سَعْدٌ...

جامع ترمذی: كتاب: کھانے کے احکام ومسائل (باب: بال بچوں ، خادم اور غلام کے ساتھ کھانے کا بیا...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1853. ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کا خادم تمہارے کھانے کی گرمی اوردھواں برداشت کرے، تو(مالک کو چاہیے کہ کھاتے وقت) اس کا ہاتھ پکڑکر اپنے ساتھ بٹھا لے، اگروہ انکار کرے تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے کھلا دے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔...


4 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابٌ إِذَا أَتَاهُ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ فَلْيُنَ...

حکم: حسن صحیح

3291 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ، أَوْ لِيُنَاوِلْهُ مِنْهُ، فَإِنَّهُ هُوَ الَّذِي وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ»...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

(باب: جب خادم کھانا لائے تو اس کھانے میں سے اسے بھی...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

3291. حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کا خادم اس کا کھانا لائے تو اسے چاہیے کہ اسے اپنے ساتھ بٹھائے یا اسے تھوڑا سا کھانا دے دے کیونکہ اس نے اس کی گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے۔‘‘