1 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الإِيمَانِ بَابُ مَنْ قَالَ إِنَّ الإِيمَانَ هُوَ العَمَلُ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

26 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ العَمَلِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ». قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «حَجٌّ مَبْرُورٌ.»...

صحیح بخاری:

کتاب: ایمان کے بیان میں

(

باب:اس شخص کے قول کی تصدیق میں جس نے کہا ہے کہ ...)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

26. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا۔‘‘ سوال کیا گیا: پھر کون سا؟ فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔‘‘ پوچھا گیا: پھر کون سا؟ فرمایا: ’’وہ حج جو قبول ہو۔‘‘...


2 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الإِيمَانِ بَابُ :الجِهَادِ مِنَ الإِيمَانِ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

36 حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لاَ يُخْرِجُهُ إِلَّا إِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي، أَنْ أُرْجِعَهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، أَوْ أُدْخِلَهُ الجَنَّةَ، وَلَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ.»...

صحیح بخاری:

کتاب: ایمان کے بیان میں

(باب:جہادبھی جزوایمان سے ہے)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

36. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے ذمے داری لیتا ہے جو اس کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلے۔ اسے گھر سے صرف اس بات نے نکالا کہ وہ مجھ (اللہ) پر ایمان رکھتا ہے اور میرے رسولوں کی تصدیق کرتا ہے، تو میں اسے اس ثواب یا مال غنیمت کے ساتھ واپس کروں گا جو اس نے جہاد میں پایا، یا اسے (شہید بنا کر) جنت میں داخل کروں گا۔ اور (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) اگر میں اپنی امت کے لیے اسے دشوار نہ سمجھتا تو کبھی چھوٹے سے چھوٹے لشکر سے بھی پیچھے نہ بیٹھ رہتا۔ اور میری یہ آرزو ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر ...


3 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ بَابُ فَضْلِ الصَّلاَةِ لِوَقْتِهَا

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

527 حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ المَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ الوَلِيدُ بْنُ العَيْزَارِ: أَخْبَرَنِي قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا صَاحِبُ - هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ - عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ العَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: «الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا»، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ بِرُّ الوَالِدَيْنِ» قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» قَالَ: حَدَّثَنِي بِهِنَّ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي...

صحیح بخاری:

کتاب: اوقات نماز کے بیان میں

(باب: نماز وقت پر پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

527. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا: اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’نماز کی بروقت ادائیگی۔‘‘ انھوں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: ’’والدین سے حسن سلوک۔‘‘ انھوں نے عرض کیا: اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺ  نے فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ  کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے اسی قدر بیان کیا، اگر میں مزید پوچھتا تو آپ اور بیان فرماتے۔...


4 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الجُمُعَةِ بَابُ المَشْيِ إِلَى الجُمُعَةِ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

907 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ قَالَ أَدْرَكَنِي أَبُو عَبْسٍ وَأَنَا أَذْهَبُ إِلَى الْجُمُعَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ...

صحیح بخاری:

کتاب: جمعہ کے بیان میں

(

باب: جمعہ کی نماز کے لئے چلنے کا بیان

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

907. حضرت عبایہ بن رفاعہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نماز جمعہ کے لیے جا رہا تھا کہ مجھے پیچھے سے حضرت ابوعبس (عبدالرحمٰن بن جبر) ؓ  کر ملے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جس شخص کے قدم اللہ کے راستے میں غبار آلود ہو گئے اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا۔‘‘...


5 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الحَجِّ بَابُ فَضْلِ الحَجِّ المَبْرُورِ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1519 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ حَجٌّ مَبْرُورٌ...

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

(باب: حج مبرور کی فضلیت کا بیان)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1519. حضرت ابو ہریرہ ؓ  سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ سے دریافت کیا گیا : کون سا عمل افضل ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔‘‘ عرض کیا گیا : پھر کون سا؟آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔‘‘ پھر دریافت کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺ نےفرمایا: ’’حج مبرور۔‘‘...


6 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الحَجِّ بَابُ فَضْلِ الحَجِّ المَبْرُورِ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1520 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ أَخْبَرَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ أَفَلَا نُجَاهِدُ قَالَ لَا لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ...

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

(باب: حج مبرور کی فضلیت کا بیان)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1520. اُم المنومنین حضرت عائشہ ؓ  سے روایت ہے، انھوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ !ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد سب نیک اعمال سے بڑھ کر ہے تو کیا ہم جہاد نہ کریں؟آپ ﷺ نے فرمایا: ’’(نہیں) بلکہ (تمھارے لیے) عمدہ جہاد حج مبرورہے۔‘‘


7 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الحَجِّ بَابُ فَضْلِ الحَجِّ المَبْرُورِ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1520 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ أَخْبَرَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ أَفَلَا نُجَاهِدُ قَالَ لَا لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ...

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

(باب: حج مبرور کی فضلیت کا بیان)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1520. اُم المنومنین حضرت عائشہ ؓ  سے روایت ہے، انھوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ !ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد سب نیک اعمال سے بڑھ کر ہے تو کیا ہم جہاد نہ کریں؟آپ ﷺ نے فرمایا: ’’(نہیں) بلکہ (تمھارے لیے) عمدہ جہاد حج مبرورہے۔‘‘


8 ‌‌صحيح البخاري کِتَابُ جَزَاءِ الصَّيْدِ بَابُ حَجِّ النِّسَاءِ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1861 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَغْزُو وَنُجَاهِدُ مَعَكُمْ فَقَالَ لَكِنَّ أَحْسَنَ الْجِهَادِ وَأَجْمَلَهُ الْحَجُّ حَجٌّ مَبْرُورٌ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَلَا أَدَعُ الْحَجَّ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ...

صحیح بخاری:

کتاب: شکار کے بدلے کا بیان

(باب : عورتوں کا حج کرنا)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1861. اُم المومنین سیدہ عائشہ  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ !کیا ہم آپ کے ساتھ مل کر جہاد نہ کریں؟آپ نے فرمایا: ’’لیکن تمھارا اچھا اور خوبصورت جہاد حج مقبول ہے۔‘‘ حضرت عائشہ  ؓ نے فرمایا کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے، اس کے بعد میں کبھی حج نہیں چھوڑتی۔...


9 ‌‌صحيح البخاري کِتَابُ جَزَاءِ الصَّيْدِ بَابُ حَجِّ النِّسَاءِ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1861 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَغْزُو وَنُجَاهِدُ مَعَكُمْ فَقَالَ لَكِنَّ أَحْسَنَ الْجِهَادِ وَأَجْمَلَهُ الْحَجُّ حَجٌّ مَبْرُورٌ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَلَا أَدَعُ الْحَجَّ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ...

صحیح بخاری:

کتاب: شکار کے بدلے کا بیان

(باب : عورتوں کا حج کرنا)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1861. اُم المومنین سیدہ عائشہ  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ !کیا ہم آپ کے ساتھ مل کر جہاد نہ کریں؟آپ نے فرمایا: ’’لیکن تمھارا اچھا اور خوبصورت جہاد حج مقبول ہے۔‘‘ حضرت عائشہ  ؓ نے فرمایا کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے، اس کے بعد میں کبھی حج نہیں چھوڑتی۔...


10 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الصَّوْمِ بَابٌ: الرَّيَّانُ لِلصَّائِمِينَ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1897 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنِي مَعْنٌ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ فَ...

صحیح بخاری:

کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

(باب : روزہ داروں کے لیے ریان (نامی ایک دروازہ جنت ...)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1897. حضرت ابوہریرۃ  ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ کی راہ میں ایک جوڑا خرچ کرے گا تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا۔ اسے کہا جائے گا: اللہ کے بندے!یہ دروازہ بہتر ہے پھر نمازیوں کو نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا اور مجاہدین کو جہاد کے دروازے سے آواز دی جائے گی اور روزہ داروں کو باب ریان سے پکارا جائے گا اور صدقہ کرنے والوں کو صدقے کے دروازے سے اندر آنے کی دعوت دی جائے گی۔‘‘ حضرت ابو بکر  ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ جو شخص ان سب دروازوں سے پکارا جائے گا اسے تو کوئی ضرورت ن...