1 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ السُّنَّةِ بَابُ فَضَائِلِ الْعَشَرَةِؓ

حکم: صحیح

133 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ، عَنْ جَدِّهِ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ، فَقَالَ: «أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ» فَقِيلَ لَهُ: مَنِ التَّاسِعُ؟ قَالَ: «أَنَا»...

سنن ابن ماجہ: کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت (باب: عشرۂ مبشرہ کے فضائل و مناقب)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

133. حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ دس افراد کی ایک مجلس میں دسویں فرد کی حیثیت سے تشریف فرما تھے (آپ ﷺکے ساتھ نو صحابی تھے)۔ آپ نے فرمایا: ’’ابو بکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، سعد جنتی ہیں، عبدالرحمن جنتی ہیں۔‘‘ ان سے پوچھا گیا:(آپ نے آٹھ افراد کے نام لیے ہیں) نویں صاحب کون ہیں؟ فرمایا: ’’میں‘‘۔...


2 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ السُّنَّةِ بَابُ فَضَائِلِ الْعَشَرَةِؓ

حکم: صحیح

134 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اثْبُتْ حِرَاءُ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ» وَعَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَابْنُ عَوْفٍ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ»...

سنن ابن ماجہ: کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت (باب: عشرۂ مبشرہ کے فضائل و مناقب)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

134. حضرت سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ’’حراء (پہاڑ)! ٹھہر جا، تجھ پر صرف نبی، صدیق اور شہید ہیں۔‘‘ راوی نے ان حضرات کو شمار کیا (جو پہاڑ پر تھے، اور کہا): اللہ کے رسول ﷺ، ابو بکر، عمر، عثمان، علی طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمن بن عوف اور سعید بن زید ؓ...


3 ‌مسند احمد مُسْنَدُ الْعَشْرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ مُسْنَدُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْ...

حکم: صحيح

420 حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَشْرَفَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ الْقَصْرِ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حِرَاءٍ إِذْ اهْتَزَّ الْجَبَلُ فَرَكَلَهُ بِقَدَمِهِ ثُمَّ قَالَ اسْكُنْ حِرَاءُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ وَأَنَا مَعَهُ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ قَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ إِذْ بَعَثَنِي إِلَى الْمُشْ...

مسند احمد: جنت کی بشارت پانےوالےدس صحابہ کی مسند (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مرویات)

مترجم: مولانا محمد ظفر اقبال

420. ابوسلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ جن دنوں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ محصور تھے، ایک مرتبہ انہوں نے اپنے گھر کے بالاخانے سے جھانک کر فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والوں کو اللہ کا واسطہ دے کر " یوم حراء " کے حوالے سے پوچھتا ہوں کہ جب جبل حراء ہلنے لگا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا پاؤں مار کر فرمایا اے جبل حراء! ٹھہرجا، کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید کے کوئی نہیں ہے، اس موقع پر میں موجود تھا؟ اس پر کئی لوگوں نے ان کی تائید کی۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والوں کو اللہ کا...


4 ‌مسند احمد مُسْنَدُ الْعَشْرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ وَمِنْ أَخْبَارِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ ال...

حکم: إسناده ضعيف

552 حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ حُوصِرَ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ وَلَوْ أُلْقِيَ حَجَرٌ لَمْ يَقَعْ إِلَّا عَلَى رَأْسِ رَجُلٍ فَرَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْرَفَ مِنْ الْخَوْخَةِ الَّتِي تَلِي مَقَامَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَفِيكُمْ طَلْحَةُ فَسَكَتُوا ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَفِيك...

مسند احمد: جنت کی بشارت پانےوالےدس صحابہ کی مسند (حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حالات سے متعلق احاد...)

مترجم: مولانا محمد ظفر اقبال

552. اسلم کہتے ہیں کہ جس دن موضع الجنائز میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا ، میں اس وقت وہاں موجود تھا، باغی اتنی بڑی تعداد میں تھے کہ اگر کوئی پتھر پھینکاجاتا تو یقینا وہ کسی نہ کسی آدمی کے سر پر ہی گرتا، میں نے دیکھا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس بالاخانے سے جو مقام جبرئیل کے قریب تھا جھانک کر نیچے دیکھا اور فرمایا کہ تم میں اے لوگو! طلحۃ موجود ہیں؟ لوگ خاموش رہے، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، بالآخر حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر سامنے آگئے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر فرمایا میرا خیال نہ تھا کہ آپ یہاں موجود ہوں گے، میں یہ سمجھت...