1 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ الْعُشْرِ وَالْخَرَاجِ

حکم: ضعیف

1831 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جُنَيْدٍ الدَّامَغَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ الْمُرْوَزِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ قَالَ: سَمِعْتُ مُغِيرَةَ الْأَزْدِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ حَيَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، أَوْ إِلَى هَجَرَ، فَكُنْتُ آتِي الْحَائِطَ يَكُونُ بَيْنَ الْإِخْوَةِ، يُسْلِمُ أَحَدُهُمْ، فَآخُذُ مِنَ الْمُسْلِمِ الْعُشْرَ، وَمِنَ الْمُشْرِكِ الْخَرَاجَ»...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل

(باب: عشر اور خراج کا بیان)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1831. حضرت علاء بن حضرمی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے بحرین یا ہجر (زکاۃ وصول کرنے کے لیے) بھیجا۔ (بعض اوقات) میں ایک باغ میں پہنچتا جو کئی بھائیوں کی مشترکہ ملکیت ہوتا جن میں ایک بھائی مسلمان ہوتا تو میں مسلمان سے عشر وصول کرتا اور مشرک سے خراج۔


2 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْجِهَادِ بَابُ وَصِيَّةِ الْإِمَامِ

حکم: صحیح

2858 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا فَقَالَ اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ اغْزُوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَمْثُلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا وَإِذَا أَنْتَ لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِلَالٍ أَ...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

(باب: اما م (خلیفہ ) کا (فوج کو روانہ کرتے وقت ) نص...)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2858. حضرت سلیمان بن بریدہ ؓ اپنے والد (حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی ؓ) سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ جب کسی شخص کولشکر کا امیر مقرر فرماتے تو اسے خود اپنی ذات کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی نصیحت فرماتے اور ساتھ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اچھا سلوک کرنےوالے نصیحت کرتے۔ رسول اللہﷺ (مجاہدین کو نصیحت کرتے ہوئے) فرماتے تھے: اللہ کے نام سے اللہ کی راہ جہاد کرو۔ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں کے ساتھ جنگ کرو۔ جہاد کرواور (جہا د کے دوران میں ) عہدشکنی نہ کرنا خیا نت نہ کرنا۔ (اور امیر لشکر کونصیحت فرماتے) جب تیرے مشرک دشمنوں سے تیرا سامنا ہو توانہیں تین باتوں کی دعوت دے۔...