1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ غُسْلِ المَيِّتِ وَوُضُوئِهِ بِالْمَاءِ وَال...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1253. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتْ ابْنَتُهُ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ فَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ تَعْنِي إِزَارَهُ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینا اور وضو کرانا۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1253. حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے،انھوں نے کہا:جب آپ کی صاحبزادی فوت ہوئیں تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: "اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دو۔ اگر مناسب خیال کرو تو اس سے زیادہ بار بھی دے سکتی ہو۔ غسل کے پانی میں بیری کے پتے ملا لو اور آخر میں کچھ کافور بھی استعمال کر، پھر جب غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا "چنانچہ جب ہم اسے غسل دے کر فارغ ہوئیں تو آپ کو اطلاع دی۔آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا:"اس میں پورا بدن لپیٹ دو۔" حدیث میں حقو سے مراد تہبند ہے۔...


2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُغْسَلَ وِتْرًا)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1254. حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ فَقَالَ أَيُّوبُ وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُحَمَّدٍ وَكَانَ فِي حَدِيثِ حَفْصَةَ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا وَكَانَ فِيهِ ثَلَاثًا أَوْ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: میت کو طاق مرتبہ غسل دینا مستحب ہے )

مترجم: BukhariWriterName

1254. حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا:"اسے تین یا پانچ یا اس سے زیادہ بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری مرتبہ کافور شامل کرلو۔جب تم غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔ "چنانچہ ہم نے فارغ ہوکر آپ کو اطلاع دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: "اسے اس میں لپیٹ دو۔" ایوب راوی کہتے ہیں کہ مجھے حفصہ بن سیرین نے محمد بن سیرین کی طرح حدیث بیان کی۔حفصہ کی حدیث میں ہے: "اسے طاق عدد میں غسل دو۔" اور اس میں یہ بھی ہے: "اسے تین، پانچ یاسات م...


3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ يُجْعَلُ الكَافُورُ فِي آخِرِهِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1258. - حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا، أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا - أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ - فَإِذَا فَرَغْتُنَّ، فَآذِنَّنِي» قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ، فَقَالَ: «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ» وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللّ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: میت کے غسل میں کافور کا استعمال آخر میں ایک بار کیا جائے )

مترجم: BukhariWriterName

1258. حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیوں میں سے ایک صاحبزادی فوت ہوگئی تو آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا:"اسے تین بار یا پانچ بار اوراگر مناسب خیال کرو تو اس سے زیادہ بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو۔اورآخری بار پانی میں کافور ملادو۔جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دو۔"حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں:جب ہم فارغ ہوگئیں تو ہم نے آپ کومطلع کیا،آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا:"اسے اس میں لپیٹ دو۔"حضرت ایوب راوی نے حضرت حفصہ سے ،انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھی اسی طرح کی روایت کی۔


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابٌ: كَيْفَ الإِشْعَارُ لِلْمَيِّتِ؟)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1261. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ سِيرِينَ يَقُولُ جَاءَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ اللَّاتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَتْ الْبَصْرَةَ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ فَحَدَّثَتْنَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا فَإِذَا فَرَغ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: میت پر کپڑا کیونکر لپیٹنا چاہیے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1261. محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ انصار کی ان عورتوں میں سے ہیں جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت بھی کی تھی۔۔۔اپنے بیٹے سے ملاقت کے لیے بصرہ آئیں لیکن اسے وہاں نہ پایا۔انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں۔آپ نے فرمایا:"اسے تین بار یا پانچ بار یااگر ضرورت ہوتواس سے زیادہ بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری باراس میں کافور ملاؤ۔اور جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع کرو۔"حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:جب ہم فارغ ہوگئیں توآپ نے ہماری طرف اپنا تہب...


6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ الكَفَنِ فِي ثَوْبَيْنِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1265. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَوَقَصَتْهُ أَوْ قَالَ فَأَوْقَصَتْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: دو کپڑوں میں کفن دینا )

مترجم: BukhariWriterName

1265. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،انھوں نےفرمایا:ایک شخص مقام عرفہ میں ٹھہرا ہوا تھا کہ اچانک اپنی سواری سےگرا،جس سے اس کی گردن ٹوٹ گئی۔نبی کریم ﷺ نےفرمایا:" اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کردو کپڑوں میں کفن دو مگر حنوط(ایک خوشبو) نہ لگانا اور نہ اس کاسرڈھانپنا کیونکہ یہ قیامت کےدن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔"...


7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ الحَنُوطِ لِلْمَيِّتِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1266. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَأَقْصَعَتْهُ أَوْ قَالَ فَأَقْعَصَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: میت کو خوشبو لگانا )

مترجم: BukhariWriterName

1266. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،انھوں نے فرمایا:ایک شخص ر سول اللہ ﷺ کے ہمراہ مقام عرفہ میں ٹھہرا ہوا تھا کہ اچانک اپنی سواری سے گر پڑا جس سے اس کی گردن ٹوٹ گئی۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں میں کفن دو۔اسے خوشبو نہ لگاؤ اور نہ اس کے سر ہی کو ڈھانپو کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہوگا۔...


8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابٌ: كَيْفَ يُكَفَّنُ المُحْرِمُ؟)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1267. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا وفی نسخة ملبدا...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: محرم کو کیونکر کفن دیا جائے )

مترجم: BukhariWriterName

1267. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،انھوں نےفرمایا:ایک شخص کے اونٹ نے اس کی گردن توڑ دی جبکہ ہم سب نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے۔اور وہ شخص محرم تھا۔نبی کریم ﷺ نےفرمایا:"اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور کفن کےلیے دو کپڑے پہناؤ،نیز اسے خوشبو نہ لگاؤ اور نہ اس کا سر ہی ڈھانپو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حالت میں اٹھائےگا کہ یہ تلبیہ کہہ رہاہوگا۔"...


9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابٌ: كَيْفَ يُكَفَّنُ المُحْرِمُ؟)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1268. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو وَأَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ كَانَ رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَوَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ قَالَ أَيُّوبُ فَوَقَصَتْهُ وَقَالَ عَمْرٌو فَأَقْصَعَتْهُ فَمَاتَ فَقَالَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَيُّوبُ يُلَبِّي وَقَالَ عَمْرٌو مُلَبِّيًا...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: محرم کو کیونکر کفن دیا جائے )

مترجم: BukhariWriterName

1268. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے رویت ہے،انھوں نے فرمایا:ایک شخص نبی کریم ﷺ کے ہمراہ مقام عرفہ میں ٹھہرا ہواتھا۔وہ ا پنی سواری سے گرگیا۔ایوب راوی نےکہا:فوقصته اور عمرو نے کہا: فاقصعته،یعنی سواری نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ مرگیا۔رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: "اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفناؤ۔اسے خوشبو نہ لگاؤ اور نہ اس کاسر ہی ڈھانپو کیونکہ یہ قیامت کے دن اٹھے گا تو تلبیہ پکاررہا ہوگا۔" ایوب راوی نے (مضارع) يلبي اور عمرو نے(اسم فاعل) ملبياکے الفاظ بیان کیے ہیں۔...


10 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ جَزَاءِ الصَّيْدِ (بَابُ المُحْرِمِ يَمُوتُ بِعَرَفَةَ،)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1849. حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَوَقَصَتْهُ أَوْ قَالَ فَأَقْعَصَتْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ أَوْ قَالَ ثَوْبَيْهِ وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي...

صحیح بخاری : کتاب: شکار کے بدلے کا بیان (باب : اگر محرم عرفات میں مر جائے )

مترجم: BukhariWriterName

1849. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک شخص نبی ﷺ کے ہمراہ میدان عرفات میں ٹھہراہوا تھا کہ اچانک وہ اپنی اونٹنی سے گر گیا تو اس نے اس کی گردن توڑدی۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا: "اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو۔ اسی کے دو کپڑوں میں اسے کفناؤ۔ اس کے سر کو مت ڈھانپو اور نہ اسے خوشبو ہی لگاؤ۔ کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اٹھائے گا تو وہ تلبیہ کہہ رہا ہوگا۔ "...