3 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فِي الْبَوْلِ فِي الْمُسْتَحَمِّ

حکم: صحیح

27 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ وَقَالَ الْحَسَنُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ قَالَ أَحْمَدُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فِيهِ فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: طہارت کے مسائل

(باب: غسل خانے میں پیشاب کا مسئلہ)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

27. سیدنا عبداللہ بن مغفل ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص غسل خانے میں ہرگز پیشاب نہ کرے۔ کہ بعد میں وہ وہیں نہائے گا۔‘‘ احمد روایت کرتے ہیں: پھر وہ وہیں وضو کرے گا، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔


4 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فِي الْبَوْلِ فِي الْمُسْتَحَمِّ

حکم: صحیح

28 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: طہارت کے مسائل

(باب: غسل خانے میں پیشاب کا مسئلہ)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

28. حمید حمیری، عبدالرحمٰن کے صاحب زادے کہتے ہیں کہ میں ایک صاحب سے ملا جو رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے فیض یافتہ تھے جیسے کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ آپ ﷺ کی صحبت میں رہے تھے، انہوں نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہمارا کوئی شخص ہر روز کنگھی کرے پا اپنے غسل خانے میں پیشاب کرے۔


5 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الطَّهَارَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْبَوْلِ فِي الْم...

حکم: صحیح

21 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى مَرْدَوَيْهِ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ فِي مُسْتَحَمِّهِ وَقَالَ إِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَيُقَالُ لَهُ أَشْعَثُ الْأَعْمَى وَقَدْ كَرِهَ...

جامع ترمذی: كتاب: طہارت کے احکام ومسائل (باب: غسل خانے میں پیشاب کرنے کی کراہت)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

21. عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے۱؎ اور فرمایا: ’’زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- اس باب میں ایک اور صحابی سے بھی روایت ہے۔۲- یہ حدیث غریب ہے۲؎ ہم اسے صرف اشعث بن عبداللہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، انہیں اشعث اعمی بھی کہا جاتا ہے۔۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے غسل خانے میں پیشاب کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر وسوسے اسی سے جنم لیتے ہیں۔۴- بعض اہل علم نے اس کی رخصت دی ہے...


7 ‌سنن النسائي کِتَابُ ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ بَابُ ذِكْرِ النَّهْيِ عَنْ الِاغْتِسَالِ بِفَضْلِ...

حکم: صحیح

238 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعَ سِنِينَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ وَالْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا...

سنن نسائی: کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ (باب: جنبی کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی م...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

238. حمید بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ میں ایک ایسے آدمی سے ملا جو نبی ﷺ کے ساتھ رہا ہے، جس طرح حضرت ابوہریرہ ؓ چار سال تک نبی ﷺ کے ساتھ رہے ہیں۔ اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی آدمی ہر روز کنگھی کرے یا اپنے غسل خانے میں پیشاب کرے یا مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے بلکہ دونوں اکٹھے چلو بھریں۔...