1 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ الْحَامِلِ إِذَا وَضَعَتْ ذَا...

حکم: صحیح

2101 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ قَالَ: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ كَانَتْ عِنْدَهُ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ، فَقَالَتْ لَهُ وَهِيَ حَامِلٌ: طَيِّبْ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَرَجَعَ وَقَدْ وَضَعَتْ، فَقَالَ: مَا لَهَا؟ خَدَعَتْنِي، خَدَعَهَا اللَّهُ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «سَبَقَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ، اخْطُبْهَا إِلَى نَفْسِهَا»...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

(باب: حاملہ مطلقہ جب بچہ جنے تو اس کی عدت ختم ہو جا...)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2101. حضرت زبیر بن عوام ؓ سے روایت ہے، حضرت ام کلثوم بنت عقبہ ؓ ان کے نکاح میں تھیں۔ ایام حمل میں انہوں نے اس (زبیر) سے کہا: ایک طلاق دے کر میرا دل خوش کر دیجئے۔ انہوں نے ایک طلاق دے دی۔ اس کے بعد وہ نماز کے لیے چلے گئے، واپس آئے تو ام کلثوم ؓ کے ہاں ولادت ہو چکی تھی۔ انہوں نے کہا: اس نے یہ کیوں کیا؟ اس نے مجھ سے دھوکا کیا ہے۔ اللہ اسے دھوکے کی سزا دے، پھر وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے (اور واقعہ بیان کیا) تو نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کے قانون کے مطابق مقرر وقت گزر چکا۔ (اب) اسے (دوبارہ) نکاح کا پیغام دے دو۔...


2 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ طَلَاقِ الْبَتَّةِ

حکم: ضعیف

2126 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَا أَرَدْتَ بِهَا قَالَ وَاحِدَةً قَالَ آللَّهِ مَا أَرَدْتَ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً قَالَ آللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً قَالَ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ قَالَ مُحَمَّد بْن مَاجَةَ سَمِعْت أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ يَقُولُ مَا أَشْرَفَ هَذ...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

(باب: طلاق بتہ کا بیان)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2126. حضرت یزید بن رکانہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی، پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس (لفظ) سے تیری نیت کیا تھی؟ انہوں نے کہا: ایک طلاق کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اللہ کی قسم اٹھا کر کہتے ہو کہ تمہاری نیت ایک ہی طلاق کی تھی؟ انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! میری نیت صرف ایک طلاق کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس خاتون کو دوبارہ ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔ (اور صحابی کو رجوع کرنے کی اجازت دے دی۔) امام ابن ماجہ ؓ نے فرمایا: میں نے ابوالحسن علی بن محمد طنافسی کو فرماتے ہوئے سنا: یہ حدیث کتنی ...


3 ‌مسند احمد وَمِنْ مُسْنَدِ بَنِي هَاشِمٍ مُسْنَدُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ...

حکم: إسناده ضعيف

2064 حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى أَبِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فِي مَمْلُوكٍ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ عَتَقَا هَلْ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَخْطُبَهَا قَالَ نَعَمْ قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ...

مسند احمد: بنوہاشم کی مسند (عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی مرویات)

مترجم: مولانا محمد ظفر اقبال

2064. عمربن معتب کہتے ہیں کہ ابو نوفل کے آزاد کرہ غلام ابو حسن نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی غلام کے نکاح میں کوئی باندھی ہو اور وہ اسے دو طلاقیں دے کر آزاد کر دے تو کیا وہ دوبارہ اس کے پاس پیغام نکاح بھیج سکتا ہے؟ فرمایا ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔...