1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ كِتَابَةِ العِلْمِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

111. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: هَلْ عِنْدَكُمْ كِتَابٌ؟ قَالَ: لاَ، إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ، أَوْ فَهْمٌ أُعْطِيَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ، أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ. قَالَ: قُلْتُ: فَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: العَقْلُ، وَفَكَاكُ الأَسِيرِ، وَلاَ يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ...

صحیح بخاری : کتاب: علم کے بیان میں (باب:(دینی)علم کوقلم بند کرنے کے جوازمیں )

مترجم: BukhariWriterName

111. حضرت ابو جحیفہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی ؓ سے دریافت کیا: آیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے؟ انہوں نے فرمایا: "نہیں، ہاں ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور وہ فہم ہے جو ایک مسلمان مرد کو دی جاتی ہے یا جو کچھ اس صحیفے میں موجود ہے۔ میں نے پوچھا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: دیت کے احکام، قیدی کو چھڑانے کا بیان اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔...


2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ كِتَابَةِ العِلْمِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

112. حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ - عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ - بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صلّى الله عليه وسلم، فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ القَتْلَ، أَوِ الفِيلَ» - قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ كَذَا، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ وَاجْعَلُوهُ عَلَى الشَّكِّ الفِيلَ أَوِ القَتْلَ وَغَيْرُهُ يَقُولُ الفِيلَ - وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالمُؤْمِنِينَ، أَلاَ وَإِنَّ...

صحیح بخاری : کتاب: علم کے بیان میں (باب:(دینی)علم کوقلم بند کرنے کے جوازمیں )

مترجم: BukhariWriterName

112. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے سال خزاعہ نے بنولیث کے ایک شخص کو اپنے اس مقتول کے بدلے میں قتل کر دیا جسے بنو لیث نے قتل کیا تھا۔ نبی ﷺ کو اس کی اطلاع دی گئی، آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور ایک خطبہ دیا: "اللہ تعالیٰ نے مکے سے قتل یا فیل (ہاتھی) کو روک دیا۔ امام بخاری نے کہا: ابو نعیم نے ایسے ہی (شک کے ساتھ) کہا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو ان (کافروں) پر غالب کر دیا گیا۔ خبردار! مکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ آگاہ رہو! یہ میرے لیے بھی دن میں ایک گھڑی کے لیے حلال ہوا تھا۔ خبردار! وہ اس وقت بھی ح...


3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ فِي اللُّقَطَةِ (بَابُ كَيْفَ تُعَرَّفُ لُقَطَةُ أَهْلِ مَكَّةَ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2433. وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زكَرِيَّاءُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يُعْضَدُ عِضَاهُهَا، وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلاَ تَحِلُّ لُقَطَتُهَا، إِلَّا لِمُنْشِدٍ، وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا» فَقَالَ عَبَّاسٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الإِذْخِرَ، فَقَالَ: «إِلَّا الإِذْخِرَ» ...

صحیح بخاری : کتاب: لقطہ یعنی گری پڑی چیزوں کے بارے (باب : اہل مکہ کے لقطہ کا کیا حکم ہے؟ )

مترجم: BukhariWriterName

2433. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " مکہ کی جھاڑیاں نہ کاٹی جائیں اور نہ اس کے شکار ہی کو بھگایاجائے، نیز اس کالقطہ صرف اس شخص کے لیے اٹھانا جائز ہے جو اس کی تشہیر کرنے والا ہو اور اس کی گھاس کو بھی نہ کاٹا جائے۔ "حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! اذخر کی اجازت دیجئے۔ آپ نے فرمایا: "اذخر گھاس کی اجازت ہے۔ " ...


4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ فِي اللُّقَطَةِ (بَابُ كَيْفَ تُعَرَّفُ لُقَطَةُ أَهْلِ مَكَّةَ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2434. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي فَلَ...

صحیح بخاری : کتاب: لقطہ یعنی گری پڑی چیزوں کے بارے (باب : اہل مکہ کے لقطہ کا کیا حکم ہے؟ )

مترجم: BukhariWriterName

2434. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ر سول ﷺ کے لیے مکہ فتح کردیا تو آپ لوگوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کرنے کے بعد فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مکہ سے قتل وغارت کو روک دیا اور اس پر اپنے رسول اور اہل ایمان کومسلط کردیا۔ آگاہ رہو کہ یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور میرے لیے بھی دن کی ایک گھڑی میں حلال ہوا اور میرے بعد کسی کے لیے بھی حلال نہیں ہوگا۔ خبردار!اس کے شکار کو نہ چھیڑا جائے اور نہ اس کی جھاڑیاں ہی کاٹی جائیں۔ اور یہاں کی گری پڑی چیز صرف اس کے لیے جائز ہے جو اس کا اعلان...


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ فَكَاكِ الأَسِيرِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3047. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، أَنَّ عَامِرًا، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِنَ الوَحْيِ إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: «لاَ وَالَّذِي فَلَقَ الحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، مَا أَعْلَمُهُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللَّهُ رَجُلًا فِي القُرْآنِ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ»، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: «العَقْلُ، وَفَكَاكُ الأَسِيرِ، وَأَنْ لاَ يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ»...

صحیح بخاری : کتاب: جہاد کا بیان (باب : (مسلمان) قیدیوں کو آزاد کرانا )

مترجم: BukhariWriterName

3047. حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: کیا کتاب اللہ کے علاوہ بھی وحی کا کچھ حصہ تمھارے پاس موجود ہے؟انھوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا!مجھے تو کسی ایسی وحی کا علم نہیں، البتہ فہم وفراست ایک دوسری چیز ہے جو اللہ تعالیٰ قرآن فہمی کے لیے عطا کرتا ہے یا جو اس دستاویز میں ہے۔ میں نے عرض کیا: اس صحیفے میں کیا ہے؟انھوں نے فرمایا: اس میں دیت کے مسائل، قیدی کو رہائی دلانے کی فضلیت اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلےقتل نہ کیا جائے۔ ...


6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الطِّبِّ (بَابُ الكِهَانَةِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5758. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ اقْتَتَلَتَا، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَأَصَابَ بَطْنَهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَتَلَتْ وَلَدَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى: أَنَّ دِيَةَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، فَقَالَ وَلِيُّ المَرْأَةِ الَّتِي غَرِمَتْ: كَيْفَ أَغْرَمُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ لاَ شَرِبَ...

صحیح بخاری : کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں (باب: کہا نت کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

5758. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں فیصلہ کیا جنہوں نے آپس میں جھگڑا کیا تھا۔ ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا جو اس کے پیٹ پر کر لگا۔ یہ عورت حاملہ تھی، اس لیے اس کے پیٹ کا بچہ مرگیا۔ یہ معاملہ دونوں فریق نبی ﷺ کے پاس لے کر آئے تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ عورت کے پیٹ کی دیت ایک غلام یا لونڈی ادا کرنا ہے۔ جس عورت پر تاوان واجب ہوا تھا اس کے سرپرست نےکہا: میں اس کا تاوان ادا کروں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ بولا اور نہ چلایا؟ ایسی صورت میں تو کچھ بھی دیت واجب نہیں ہوسکتی۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: یہ تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ...


8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الطِّبِّ (بَابُ الكِهَانَةِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5760. وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ، أَوْ وَلِيدَةٍ، فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ: كَيْفَ أَغْرَمُ مَا لاَ أَكَلَ وَلاَ شَرِبَ، وَلاَ نَطَقَ وَلاَ اسْتَهَلَّ، وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الكُهَّانِ»...

صحیح بخاری : کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں (باب: کہا نت کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

5760. حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بچے کے متعلق جو ماں کے پیٹ میں مار ڈالا گیا ہو۔ فیصلہ فرمایا کہ ایک غلام یا لونڈی بطور دیت ادا کرنا ہے۔ جس نے تاوان ادا کرنا تھا اس نے کہا: میں ایسے بچے کی دیت کیوں کروں جس نے نہ کھایا نہ پیا، نہ بولا اور نہ چلایا، ایسی صورت میں تو دیت نہیں ہوسکتی؟ رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا: ”یہ تو کاہنوں کا بھائی ہے۔ ...


9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الفَرَائِضِ (بَابُ مِيرَاثِ الزَّوْجِ مَعَ الوَلَدِ وَغَيْرِهِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6740. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى لَهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا...

صحیح بخاری : کتاب: فرائض یعنی ترکہ کے حصول کے بیان میں (باب : اولاد کے ساتھ خاوند کو کیا ملے گا )

مترجم: BukhariWriterName

6740. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو لحیان کی ایک عورت کے جنین کے متعلق فیصلہ فرمایا جو مردہ پیدا ہوا تھا کہ مارنے والی عورت ایک غلام یا لونڈی خون بہا کے طور پر ادا کرے، پھر وہ عورت جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا مرگئی تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کی وراثت اس کے بیٹوں اور شوہر کے لیے ہے جبکہ دیت اسکے کنبے والوں کو ادا کرنا ہوگی۔...


10 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الدِّيَاتِ (بَابُ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ الن...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6880. حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ قَتَلَتْ خُزَاعَةُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي أَلَا وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ ...

صحیح بخاری : کتاب: دیتوں کے بیان میں (باب : جس کا کوئی قتل کردیاگیاہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

6880. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ خزاعہ نے بنو لیث کا ایک شخص اپنے جاہلیت کے مقتول کے بدلے میں قتل کردیا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھیوں کے لشکر کو روک دیاتھا اور وقتی طور پر اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر مسلط کیا۔ آگاہ ہو! مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال نہیں کیا گیا اور نہ میرے بعد ہی کسی کے لیے حلال ہوگا اور میرے لیے بھی صرف اس دن ایک حصے کے لیے حلال ہوا، اب اس وقت اس کی حرمت پھر قائم ہوگئی ہے۔ اس کا کانٹا نہ توڑا جائے اور نہ اس کا کوئی درخت ہی کاٹا جائے،اعلان کرنے والے علاوہ کوئی دوسرا اس کی گ...