1 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ بَابُ ثَوَابِ الْأُضْحِيَّةِ

حکم: ضعیف جداً

3127 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَائِذُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: «سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ» قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ شَعَرَةٍ، حَسَنَةٌ» قَالُوا: فَالصُّوفُ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ، حَسَنَةٌ»...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: قربانی سے متعلق احکام ومسائل

(باب: قربانی کا ثواب)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3127. حضر ت زيد بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ کے اصحاب نے کہا: اے اللہ کے رسو لﷺ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا: اس میں ہمارے لیے کیا (ثواب) ہے؟ آپ نے فرمایا: ہربال کے بدلے نیکی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا: اےاللہ کے رسولﷺ! اور اون؟ فرمایا: ’’اون کے بھی ہر بال کے بدلے نیکی ہے ۔‘‘...