1 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الطِّبِّ بَابٌ فِي أَيِّ الْأَيَّامِ يُحْتَجَمُ

حکم: حسن

3487 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: يَا نَافِعُ قَدْ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ فَالْتَمِسْ لِي حَجَّامًا وَاجْعَلْهُ رَفِيقًا، إِنِ اسْتَطَعْتَ، وَلَا تَجْعَلْهُ شَيْخًا كَبِيرًا، وَلَا صَبِيًّا صَغِيرًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ، أَمْثَلُ وَفِيهِ شِفَاءٌ، وَبَرَكَةٌ، وَتَزِيدُ فِي الْعَقْلِ، وَفِي الْحِفْظِ، فَاحْتَجِمُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ، يَوْمَ الْخَمِيسِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ، يَوْمَ الْأَ...

سنن ابن ماجہ: کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل (باب: کن دنوں میں سینگی لگوانی چاہیے؟)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3487. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت نافع ؓ سے فرمایا: میرے خون میں جوش (اور حرارت) کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، لہذا میرے لیے سینگی لگانے والا تلاش کرو۔ ہو سکے تو نرم مزاج آدمی لانا، اور بہت بوڑھا یا بہت کم سن نہ لانا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپﷺ نے فرمایا:’’نہارمنہ سینگی لگوانا زیادہ مفید ہے۔ اس میں شفا اور برکت ہے۔ اس سے عقل اور حافظے میں ترقی ہوتی ہے، اس لیے اللہ کا نام لے کر جمعرات کو سینگی لگوانے سے پرہیز کرو۔ پیر اور منگل کے دن سینگی لگوا لیا کرو۔ اللہ تعالی نے حضرت ایوب کو بیماری سےاسی دن شفا دی تھی اور آپ کی آزمائش (اور بیماری...


2 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الطِّبِّ بَابٌ فِي أَيِّ الْأَيَّامِ يُحْتَجَمُ

حکم: حسن

3488 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ، يَا نَافِعُ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ فَأْتِنِي بِحَجَّامٍ، وَاجْعَلْهُ شَابًّا، وَلَا تَجْعَلْهُ شَيْخًا، وَلَا صَبِيًّا، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ، وَهِيَ تَزِيدُ فِي الْعَقْلِ، وَتَزِيدُ فِي الْحِفْظِ، وَتَزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا، فَمَنْ كَانَ مُحْتَجِمًا، فَيَوْمَ الْخَمِيسِ، عَلَى اسْمِ اللَّهِ، ...

سنن ابن ماجہ: کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل (باب: کن دنوں میں سینگی لگوانی چاہیے؟)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3488. حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا: نافع! میرے خون میں جوش پیدا ہوگیا ہے، لہٰذا میرے پاس سینگی لگانے والا لاؤ۔ جوان آدمی لانا، بوڑھا یا بچہ نہ لانا۔حضرت ابن عمر نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپﷺ نے فرمایا: ’’نہار منہ سینگی لگوانازیادہ مفید ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے، اور حافظہ تیز ہوتا ہے، اور اچھی یادداشت والے کی یادداشت بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ تو جس نے سینگی لگوانی ہو وہ اللہ کانام لے کر جمعرات کو لگوالے۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو سینگی لگوانے سے اجتناب کرو۔ اور سوموار اورمنگل کو سینگی لگوا لیا کرو۔ اور بدھ کو بھی سینگی لگوا...