2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ مَنْ جَعَلَ لِأَهْلِ العِلْمِ أَيَّامًا مَعْ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

70. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ؟ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، وَإِنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ، كَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِهَا، مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا ...

صحیح بخاری : کتاب: علم کے بیان میں (باب:اس بارے میں کہ کوئی شخص اہل علم کے لئے کچھ دن مقرر کردے (تویہ جائز ہے)یعنی استاد اپنے شاگردوں کے لئے اوقات مقرر کر سکتاہے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

70. حضرت ابو وائل سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن مسعود ؓ ہر جمعرات لوگوں کو وعظ کیا کرتے تھے۔ ایک شخص نے ان سے عرض کیا: اے عبدالرحمٰن! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ و نصیحت فرمایا کریں۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس کام سے یہ چیز مانع ہے کہ میں تمہیں اکتاہٹ میں نہیں ڈالنا چاہتا اور میں پندونصیحت میں تمہارے جذبات کا خیال رکھتا ہوں جس طرح نبی ﷺ وعظ کرتے وقت ہمارے جذبات کا خیال رکھتے تھے تاکہ ہم اُکتا نہ جائیں۔...


3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الدَّعَوَاتِ (بَابُ المَوْعِظَةِ سَاعَةً بَعْدَ سَاعَةٍ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6411. حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، قَالَ: كُنَّا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ، إِذْ جَاءَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، فَقُلْنَا: أَلاَ تَجْلِسُ؟ قَالَ: لاَ، وَلَكِنْ أَدْخُلُ فَأُخْرِجُ إِلَيْكُمْ صَاحِبَكُمْ وَإِلَّا جِئْتُ أَنَا فَجَلَسْتُ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِهِ، فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ: أَمَا إِنِّي أُخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ، وَلَكِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنَ الخُرُوجِ إِلَيْكُمْ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الأَيَّامِ، كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا»...

صحیح بخاری : کتاب: دعاؤں کے بیان میں (باب: ٹھہر ٹھہر کر فاصلے سے وعظ و نصیحت کرنا )

مترجم: BukhariWriterName

6411. حضرت شقیق سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کررہے تھے کہ یزید بن معاویہ تشریف لائے۔ ہم نے عرض کی: آپ تشریف رکھیں، انہوں نے جواب دیا: بلکہ میں اندر جاتا ہوں تاکہ تمہارے ساتھی، یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو باہر لاؤں۔ اگر وہ نہ آئے تو میں تنہا ہی آجاؤں گا اور تمہارے ساتھ بیٹھ جاؤں گا اس دوران میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے جبکہ وہ ان (یزید بن معاویہ) کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، پھر وہ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور فرمایا: مجھے تمہارے بیٹھنے کی خبر پہنچی تھی لیکن مجھے تمہارے پاس آنے سے اس امر نے...


4 صحيح مسلم: كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ (بَابُ الِاقْتِصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

2821. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ بَابِ عَبْدِ اللَّهِ نَنْتَظِرُهُ فَمَرَّ بِنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ فَقُلْنَا أَعْلِمْهُ بِمَكَانِنَا فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي أُخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَي...

صحیح مسلم : کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام (باب: وعظ و نصیحت میں اعتدال )

مترجم: MuslimWriterName

2821. ابو معاویہ نے اعمش سے اور انھوں نے شقیق سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتظار میں ان کے گھر کے دروازےپربیٹھےہوئے تھے کہ اتنے میں یزید بن معاویہ نخعی ہمارے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: ان (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کو ہمارے آنے کی اطلاع کردیں وہ ان کے پاس گئے تو تھوڑی ہی دیر میں حضرت عبد اللہ (بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) آگئے۔اور فرمایا :"مجھے تمھارے آنے کی اطلاع کردی گئی تھی اور مجھے تمھارے پاس آنے سے صرف یہ ناپسندیدگی مانع تھی کہ میں تمھاری اکتاہٹ کا سبب نہ بن جاؤں ۔بلاشبہ رسول اللہ ﷺ بھی ہمارے اکتا جانے کے ڈر...


5 صحيح مسلم: كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ (بَابُ الِاقْتِصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

2821.01. حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ مِنْجَابٌ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ ابْنِ مُسْهِرٍ قَالَ الْأَعْمَشُ وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ...

صحیح مسلم : کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام (باب: وعظ و نصیحت میں اعتدال )

مترجم: MuslimWriterName

2821.01. ابو سعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن ادریس نے حدیث بیان کی، نیز ہمیں منجانب بن حارث تمیمی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن مسہر نے خبر دی ،نیز ہمیں اسحٰق بن ابراہیم اور علی بن خشرم نے حدیث بیان کی ،دونوں نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، نیز ہمیں ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ،ان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق روایت کی۔اور منجانب نے اپنی روایت میں مزید یہ کہا:ابن مسہر سے روایت ہے اعمش نے کہا: اور مجھے عمرو بن مرہ نے شیقق سے اور انھوں نے عبد اللہ (بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اسی کے مانند حدیث ...


6 صحيح مسلم: كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ (بَابُ الِاقْتِصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

2821.02. و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ شَقِيقٍ أَبِي وَائِلٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُنَا كُلَّ يَوْمِ خَمِيسٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نُحِبُّ حَدِيثَكَ وَنَشْتَهِيهِ وَلَوَدِدْنَا أَنَّكَ حَدَّثْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا...

صحیح مسلم : کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام (باب: وعظ و نصیحت میں اعتدال )

مترجم: MuslimWriterName

2821.02. منصور نے شیقق ابو وائل سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ (بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ہمیں ہر جمعرات کے دن وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے تو ایک شخص نے کہا: ابو عبد الرحمٰن !ہمیں آپ کی باتیں (بہت) پسند ہیں اور ہم ان کی طرف شدید رغبت رکھتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہر روز ہمیں احادیث بیان فرمایا کریں ۔انھوں نے کہا: مجھے اس کے علاوہ تمھیں احادیث بیان کرنے سے صرف یہ ناپسندیدگی مانع ہے کہ میں تمھیں اکتاہٹ کا شکار نہ کردوں ۔رسول اللہ ﷺ اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ ہم پر اکتاہٹ طاری ہو جائے کچھ (خاص) دنوں میں ہی ہمیں وعظ و نصیحت سے نواازاکرتے تھے۔...