1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ بَدْءِ الأَذَانِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

603. حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: ذَكَرُوا النَّارَ وَالنَّاقُوسَ، فَذَكَرُوا اليَهُودَ وَالنَّصَارَى «فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ، وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ»

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب:اس بیان میں کہ اذان کیونکر شروع ہوئی۔ )

مترجم: BukhariWriterName

603. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نماز کے اعلان کے لیے لوگوں نے آگ اور ناقوس کا ذکر کیا، اس سلسلے میں انہوں نے یہودونصاریٰ کا بھی تذکرہ کیا تو حضرت بلال ؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے ایک ایک مرتبہ کہے۔


2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابٌ: الأَذَانُ مَثْنَى مَثْنَى)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

606. حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ» قَالَ: «ذَكَرُوا أَنْ يَعْلَمُوا وَقْتَ الصَّلاَةِ بِشَيْءٍ يَعْرِفُونَهُ، فَذَكَرُوا أَنْ يُورُوا نَارًا، أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ، وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ»...

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب:اس بارے میں کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ دہرائے جائیں )

مترجم: BukhariWriterName

606. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب مسلمان (مدینہ طیبہ میں) زیادہ ہو گئے تو مشورہ ہوا کہ کسی ایسی چیز کے ذریعے سے نماز کے وقت کا اعلان ہو جسے سب لوگ سمجھ لیں۔ کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ آگ کا الاؤ روشن کر دیا جائے یا ناقوس کے ذریعے سے اعلان کر دیا جائے۔ آخرکار بلال ؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ کہے۔...


3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ (بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3457. حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرُوا النَّارَ وَالنَّاقُوسَ فَذَكَرُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ

صحیح بخاری : کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں (باب : بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان ۔ )

مترجم: BukhariWriterName

3457. حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: (نماز کے اعلان کے لیے)صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے آگ جلانےاور ناقوس بجانے کا مشورہ دیا۔ کچھ حضرات نے کہا: یہ تو یہود ونصاریٰ کا طریقہ ہے تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان میں کلمات دودوبار اور اقامت میں ایک ایک بار کہیں۔ ...


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ (بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3462. حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ...

صحیح بخاری : کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں (باب : بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان ۔ )

مترجم: BukhariWriterName

3462. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "یہود ونصاریٰ بالوں کو خضاب نہیں لگاتے، تم لوگ ان کے خلاف طریقہ اختیارکرو۔ "


6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ (بَابٌ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3468. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ وَكَانَتْ فِي يَدَيْ حَرَسِيٍّ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ...

صحیح بخاری : کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں (باب:: )

مترجم: BukhariWriterName

3468. حضرت حمید بن عبد الرحمٰن سے روایت ہے کہ جس سال امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج پر تشریف لے گئے تو انھوں نے منبر پر ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ انھوں نے مصنوعی بالوں کا گچھا لیا۔ جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھا۔ آپ نے فرمایا: اے اہل مدینہ! تمھارےعلماء کہاں ہیں؟میں نےنبی ﷺ کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "بنی اسرائیل کی عورتوں نے جب اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیے تو وہ ہلاک ہو گئے۔ "...


7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ (بَابٌ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3488. حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْمَدِينَةَ آخِرَ قَدْمَةٍ قَدِمَهَا فَخَطَبَنَا فَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا غَيْرَ الْيَهُودِ وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ الزُّورَ يَعْنِي الْوِصَالَ فِي الشَّعَرِ تَابَعَهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ...

صحیح بخاری : کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں (باب:: )

مترجم: BukhariWriterName

3488. حضرت سعید ن مسیب ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: حضرت امیر معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب آخری بار مدینہ طیبہ تشریف لائے تو انھوں نے ہمارے سامنے خطبہ پڑھا اورمصنوعی بالوں کی ایک لٹ نکالی، پھر فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہودیوں کے علاوہ کوئی اور یہ کام کرتا ہوگا۔ بے شک نبی کریم ﷺ نے اس کانام جھوٹ اور فریب رکھا ہے، یعنی زینت کے لیے اپنے اصلی بالوں میں مصنوعی بال ملانا۔ غندر نے شعبہ سے روایت کرنے میں آدم ؑ کی متابعت کی ہے۔ ...


8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَنَاقِبِ (بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ ﷺ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3558. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ شَعَرَهُ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ فَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ...

صحیح بخاری : کتاب: فضیلتوں کے بیان میں (باب: نبی کریم ﷺ کے حلیہ اوراخلاق فاضلہ کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

3558. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سر کے بال لٹکائے رکھتے جبکہ مشرکین اپنے سر کے بالوں کی مانگ نکالتے لیکن اہل کتاب اپنے سر کے بالوں کو لٹکاتے تھے۔ اوررسول اللہ ﷺ کو جس بات کے متعلق کوئی حکم نہ آتا تو آپ اس میں اہل کتاب کی موافقت پسند کرتے تھے۔ بعد میں رسول اللہ ﷺ بھی سر میں مانگ نکالنے لگے تھے۔ ...


9 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ مَنَاقِبِ الأَنْصَارِ (بَابُ إِتْيَانِ اليَهُودِ النَّبِيَّ ﷺ حِينَ قَدِم...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3944. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ شَعْرَهُ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ ثُمَّ فَرَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ...

صحیح بخاری : کتاب: انصار کے مناقب (جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

3944. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سر کے بال پیشانی پر لٹکاتے تھے جبکہ قریش مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بھی سر کے بال اپنی پیشانیوں پر لٹکائے رکھتے تھے۔ نبی ﷺ کے پاس جس معاملے کے متعلق اللہ کا حکم نہ آتا تھا آپ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے۔ بعد میں نبی ﷺ مانگ نکالنے لگے۔