2 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ

حکم: صحیح

2578 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ...

صحیح مسلم:

کتاب: حسن سلوک،صلہ رحمی اور ادب

(باب: ظلم کرنے کی حرمت)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2578. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن (دلوں پر چھانے والی) ظلمتیں ہوں گی۔ بخل اور ہوس سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو بخل و ہوس نے ہلاک کر دیا، اسی نے ان کو اکسایا تو انہوں نے اپنے (ایک دوسرے کے) خون بہائے اور اپنی حرمت والی چیزوں کو حلال کر لیا۔‘‘...


4 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي الظُّلْمِ​

حکم: صحیح

2030 حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَائِشَةَ وَأَبِي مُوسَى وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ...

جامع ترمذی: كتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں (باب: ظلم کا بیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2030. عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ظلم کرنا قیامت کے دن تاریکیوں کا سبب ہے‘‘۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث ابن عمرکی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔۲۔ اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عائشہ، ابوموسیٰ، ابوہریرہ، اورجابر‬ ؓ س‬ے بھی احادیث آئی ہیں۔...