1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ فَضْلِ التَّأْذِينِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

608. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ، وَلَهُ ضُرَاطٌ، حَتَّى لاَ يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قَضَى النِّدَاءَ أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قَضَى التَّثْوِيبَ أَقْبَلَ، حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ المَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى ...

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب: اذان دینے کی فضیلت کے بیان میں۔ )

مترجم: BukhariWriterName

608. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے۔ جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے۔ پھر جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو دوبارہ پیٹھ دے کر بھاگ نکلتا ہے۔ اور جب اقامت ختم ہو جاتی ہے تو پھر سامنے آتا ہے تاکہ نمازی اور اس کے دل میں وسوسہ ڈالے۔ اور کہتا ہے: یہ بات یاد کر، وہ بات یاد کر، یعنی وہ باتیں جو نمازی بھول گیا تھا (انہیں یاد دلاتا ہے) حتی کہ نمازی بھول جاتا ہے کہ اس نے کس قدر نماز پڑھی ہے۔"...


2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالنِّدَاءِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

609. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ المَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ، قَالَ لَهُ: إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الغَنَمَ وَالبَادِيَةَ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ، أَوْ بَادِيَتِكَ، فَأَذَّنْتَ بِالصَّلاَةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ، فَإِنَّهُ: «لاَ يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ المُؤَذِّنِ، جِنٌّ وَلاَ إِنْسٌ وَلاَ شَيْءٌ، إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ القِيَامَةِ»، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلّ...

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب:اس بیان میں کہ اذان بلند آواز سے ہونی چاہیے )

مترجم: BukhariWriterName

609. حضرت عبداللہ بن عبدالرحمٰن ؓ سے روایت ہے، ان سے حضرت ابوسعید خدری ؓ نے کہا تھا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں بکریوں اور جنگل میں رہنا پسند ہے، اس لیے تم جب اپنی بکریوں کے ہمراہ جنگل میں رہو اور نماز کے لیے اذان دو تو بلند آواز سے اذان دیا کرو، اس لیے کہ مؤذن کی آواز کو جو کوئی جن و انس یا اور کوئی سنے گا تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن گواہی دے گا۔ حضڑت ابوسعید خدری ؓ نے فرمایا: میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔...


3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ الِاسْتِهَامِ فِي الأَذَانِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

615. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي العَتَمَةِ وَالصُّبْحِ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا»...

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب: اذان کے لئے قرعہ ڈالنے کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

615. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان اور صف اول میں کیا ثواب ہے، پھر وہ اپنے لیے قرعہ ڈالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ پائیں تو ضرور قرعہ اندازی کریں۔ اور اگر لوگوں کو علم ہو کہ نماز ظہر کے لیے جلدی آنے کا کتنا ثواب ہے تو ضرور سبقت کریں۔ اور اگر وہ جان لیں کہ عشاء اور فجر باجماعت ادا کرنے میں کتنا ثواب ہے تو ان دونوں (کی جماعت) میں ضرور آئیں اگرچہ انہیں سرینوں کے بل چل کر آنا پڑے۔"...


4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بابُ فَضْلِ التَّهْجِيرِ إِلَى الظُّهْرِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

652. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ»...

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب: ظہر کی نماز کے لئے سویرے جانے کی فضیلت کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

652. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایک شخص راستے میں جا رہا تھا، اس نے وہاں خاردار ٹہنی دیکھی تو اسے ایک طرف ہٹا دیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی قدردانی کرتے ہوئے اسے معاف کر دیا۔"


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بابُ فَضْلِ التَّهْجِيرِ إِلَى الظُّهْرِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

653. ثُمَّ قَالَ: الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ: المَطْعُونُ، وَالمَبْطُونُ، وَالغَرِيقُ، وَصَاحِبُ الهَدْمِ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا لاَسْتَهَمُوا عَلَيْهِ

صحیح بخاری : کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں (باب: ظہر کی نماز کے لئے سویرے جانے کی فضیلت کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

653. پھر آپ ﷺ نے فرمایا: "شہداء پانچ قسم کے ہیں: طاعون میں مرنے والے، پیٹ کے عارضے سے مرنے والے، ڈوب کر مرنے والے، دب کر مرنے والے اور اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے شہید ہونے والے۔" اس کے بعد آپ نے فرمایا: "اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان اور صف اول میں کیا ثواب ہے تو پھر اپنے لیے قرعہ ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہ پائیں تو ضرور قرعہ اندازی کریں۔" ...


7 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ العَمَلِ فِي الصَّلاَةِ (بَابُ يُفْكِرُ الرَّجُلُ الشَّيْءَ فِي الصَّلاَةِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1222. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُذِّنَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا سَكَتَ المُؤَذِّنُ أَقْبَلَ، فَإِذَا ثُوِّبَ أَدْبَرَ، فَإِذَا سَكَتَ أَقْبَلَ، فَلاَ يَزَالُ، بِالْمَرْءِ يَقُولُ لَهُ: اذْكُرْ مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى لاَ يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: «إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ»، وَسَمِعَهُ أَبُو ...

صحیح بخاری : کتاب: نماز کے کام کے بارے میں (باب:آدمی نماز میں کسی بات کا فکر کرے تو کیسا ہے؟ )

مترجم: BukhariWriterName

1222. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اسے اذان کی آواز نہ سنائی دے۔ اور جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو وہ واپس آ جاتا ہے۔ پھر جب اقامت کہی جاتی ہے تو بھاگ نکلتا ہے۔ جب مؤذن تکبیر سے خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آ جاتا ہے اور نمازی سے کہتا رہتا ہے کہ فلاں چیز یاد کرو، فلاں چیز یاد کرو جو اسے یاد نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں۔" ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: جب نمازی ایسی حالت سے دوچار ہو تو وہ بیٹھ کر دو سجدے (بطور سہو) کرے۔ اسے ابوسلمہ نے ...


8 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ مَا جَاءَ فِي السَّهْوِ (بَابُ إِذَا لَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلاَثًا أَوْ ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1231. حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الْأَذَانَ فَإِذَا قُضِيَ الْأَذَانُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُك...

صحیح بخاری : کتاب: سجدہ سہو کا بیان (باب: اگر کسی نمازی کو یہ یاد نہ رہے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کر لے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1231. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے اور (اتنی دور چلا جاتا ہے کہ) اذان کی آواز نہیں سن پاتا۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے اور جب تکبیر کہی جاتی ہے تو پھر بھاگتا ہے۔ جب تکبیر پوری ہو جاتی ہے تو پھر واپس آ کر نمازی اور اس کے دل میں وسوسہ اندازی کرتا ہے اور کہتا ہے: فلاں فلاں چیز یاد کرو، جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتی، حتی کہ نماز ایسا ہو جاتا ہے کہ نہیں جانتا اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں، اس لیے اگر تم میں سے کسی کو معلوم نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں، تین یا چ...


9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الشَّهَادَاتِ (بَابُ القُرْعَةِ فِي المُشْكِلاَتِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2689. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي العَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا»...

صحیح بخاری : کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان (باب : مشکلات کے وقت قرعہ اندازی کرنا )

مترجم: BukhariWriterName

2689. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اگر لوگوں کو اذان دینے اور صف اول میں کھڑے ہونے کا ثواب علم ہوجائے تو اس کے حصول کے لیے انھیں قرعہ اندازی بھی کرنی پڑے تو وہ اس کا بھی سہارا لیں۔ اگر انھیں معلوم ہو جائے کہ جلدی بروقت نماز پڑھنے میں کیا ثواب ہے تو ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگیں۔ اور اگر انھیں معلوم ہوجائے کہ عشاء اور فجر کی نماز میں کیا ثواب ہے تو ان نمازوں میں ضرور شریک ہوں اگرچہ انھیں گھٹنوں کے بل آنا پڑے۔ "...


10 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ (بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3285. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا نُودِيَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ، فَإِذَا قُضِيَ أَقْبَلَ، فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ، فَإِذَا قُضِيَ أَقْبَلَ، حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الإِنْسَانِ وَقَلْبِهِ، فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا، حَتَّى لاَ يَدْرِيَ أَثَلاَثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ ثَلاَثًا صَلَّى أَوْ أَرْبَعًا، سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ...

صحیح بخاری : کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی (باب : ابلیس اور اس کی فوج کا بیان۔ )

مترجم: BukhariWriterName

3285. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے روایت ہے، انھوں نے کہا: کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب نمازکےلیے اذان کہی جاتی ہے توشیطان گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے۔ جب اذان پوری ہوجائے تو واپس آجاتا ہے۔ پھر جب اقامت کہی جاتی ہے تو پھر دم دباکر بھاگ نکلتا ہے۔ جب وہ ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے اور نمازی کے دل میں وسوسے اور خیالات ڈالنے شروع کردیتا ہے اور کہتا ہے: فلاں کام یاد کر، فلاں چیز یاد کروحتیٰ کہ نمازی کو یاد نہیں رہتا کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے کہ اسے تین یار چار رکعتیں پڑھنے کا پتہ نہ چلے تو سہو کے دو سجدے کرلے۔ "...