1 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالمُزَارَعَةِ بَابُ الشُّفْعَةِ

حکم: صحیح

4217 وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ، فِي أَرْضٍ، أَوْ رَبْعٍ، أَوْ حَائِطٍ، لَا يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يَعْرِضَ عَلَى شَرِيكِهِ، فَيَأْخُذَ أَوْ يَدَعَ، فَإِنْ أَبَى، فَشَرِيكُهُ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ»...

صحیح مسلم:

کتاب: سیرابی کے عوض پیدوار میں حصہ داری اور مزارعت

(

باب: شفعہ

)

مترجم: ١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

4217. ابن وہب نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہ انہیں ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہر مشترک جائیداد، زمین، گھر یا باغ میں شفعہ ہے۔ (کسی ایک شریک کے لیے) اسے فروخت کرنا درست نہیں جب تک کہ وہ اپنے شریک کو پیشکش (نہ) کرے وہ (چاہے تو) اسے لے لے یا چھوڑ دے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا شریک ہی اس کا زیادہ حقدار ہے جب تک کہ اسے بتا نہ دے۔‘‘...


2 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ التِّجَارَاتِ بَابُ الشَّرِكَةِ وَالْمُضَارَبَةِ

حکم: صحیح

2372 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ عَنْ السَّائِبِ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتَ شَرِيكِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكُنْتَ خَيْرَ شَرِيكٍ لَا تُدَارِينِي وَلَا تُمَارِينِي...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

(

باب: شراکت اور مضاربت کا بیان

)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2372. حضرت سائب بن صیفی مخزومی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے کہا: آپ زمانہ جاہلیت میں میرے شریک تھے تو آپ بہترین شریک تھے۔ آپ نہ مجھ سے مقابلہ کرتے تھے، نہ جھگڑا کرتے تھے۔


6 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الشُّفْعَةِ بَابُ الشُّفْعَةِ بِالْجِوَارِ

حکم: حسن صحیح

2585 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ لَيْسَ فِيهَا لِأَحَدٍ قِسْمٌ وَلَا شِرْكٌ إِلَّا الْجِوَارُ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: شفعہ سے متعلق احکام ومسائل

(باب: ہمسائیگی کی وجہ سے شفعے کا حق)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2585. حضرت شرید بن سوید ثقفی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! وہ زمین جس میں کسی کا حصہ یا شراکت نہیں، صرف ہمسائیگی ہے (اس کا کیا حکم ہے؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمسایہ اپنے قریب کی جگہ کا زیادہ حق دار ہے۔


8 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الشُّفْعَةِ بَابُ طَلَبِ الشُّفْعَةِ

حکم: ضعیف جداً

2590 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةُ كَحَلِّ الْعِقَالِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: شفعہ سے متعلق احکام ومسائل

(باب: حق شفعہ کا مطالبہ)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2590. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شفعہ اونٹ کی رسی کھولنے کی طرح ہے۔ (جس طرح رسی کھلنے سے اونٹ فوراً آزاد ہو جاتا ہے، اسی طرح شفعے کا دعویٰ فوری طور پر قابل قبول ہے۔ جونہی زمین یا مکان کی فروخت کی خبر ملے تو دعویٰ کرے، بعد یہ میں دعویٰ قابل قبول نہیں ہے۔)...