1 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْأَحْكَامِ بَابُ الْحُكْمِ فِيمَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي

حکم: صحیح

2332 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ ابْنَ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ كَانَتْ ضَارِيَةً دَخَلَتْ فِي حَائِطِ قَوْمٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَكُلِّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الْأَمْوَالِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي مَا أَصَابَتْ مَوَاشِيهِمْ بِاللَّيْلِ....

سنن ابن ماجہ: کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل (باب: جانور جو (کھیتی ) خراب کر دیں اس کا فیصلہ)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2332. حضرت حرام بن سعد بن محیصہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت براء بن عازب بن حارث ؓ کی ایک اونٹنی لوگوں کے کھیت چر جایا کرتی تھی۔ وہ کچھ لوگوں کے باغ میں جا گھسی اور اسے خراب کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں واقعہ عرض کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ مال (باغ وغیرہ) کی حفاظت دن کے وقت (باغ کے) مالکوں کی ذمے داری ہے۔ اور رات کو جانور جو کچھ خراب کریں اس کی تلافی جانوروں کے مالکوں کے ذمے ہے۔...


2 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْأَحْكَامِ بَابُ الْحُكْمِ فِيمَنْ كَسَرَ شَيْئًا

حکم: صحیح

2332.01 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ بْنُ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ نَاقَةً لِآلِ الْبَرَاءِ أَفْسَدَتْ شَيْئًا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ....

سنن ابن ماجہ: کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل (باب: جو (کسی کی ) کوئی چیز توڑ ڈالے اس کا فیصلہ کی...)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2332.01. امام ابن ماجہ ؓ نے ایک دوسری سند سے یہ روایت براء بن عازب سے بیان فرمائی کہ آل براء کی ایک اونٹنی نے کسی کی کھیتی وغیرہ خراب کر دی تو آپ نے مذکورہ حدیث کی مثل ہی فیصلہ فرمایا۔