1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ الدُّخُولِ عَلَى المَيِّتِ بَعْدَ المَوْتِ إ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1241. حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى فَرَسِهِ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يُكَلِّمْ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَتَيَمَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ ثُمَّ بَكَى فَقَالَ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: میت کو جب کفن میں لپیٹا جا چکا ہو تو اس کے پاس جانا (جائز ہے)۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1241. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے مقام سخ والے گھر سے گھوڑے پر سوار ہوکر آئے اور سواری سے اتر کر مسجد میں داخل ہوئے،لوگوں سے کوئی بات نہ کی حتیٰ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور نبی کریم ﷺ کا قصد کیا۔آپ کو دھاری دار یمنی چادر میں لپیٹا گیا تھا۔انھوں نے چادر ہٹا کر چہرہ کھولا اور جھک کر آپ کو بوسہ دیا،پھر روپڑے اورفرمایا:اللہ کے نبی!( ﷺ ) میرے ماں باپ آپ پر قربان!اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔بہرحال ایک دفعہ جو موت آپ کے مقدر میں تھی وہ تو آچکی ہے۔ ...


2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ الدُّخُولِ عَلَى المَيِّتِ بَعْدَ المَوْتِ إ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1241.01. قَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ اجْلِسْ فَأَبَى فَقَالَ اجْلِسْ فَأَبَى فَتَشَهَّدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَالَ إِلَيْهِ النَّاسُ وَتَرَكُوا عُمَرَ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: میت کو جب کفن میں لپیٹا جا چکا ہو تو اس کے پاس جانا (جائز ہے)۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1241.01. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے مقام سخ والے گھر سے گھوڑے پر سوار ہوکر آئے اور سواری سے اتر کر مسجد میں داخل ہوئے،لوگوں سے کوئی بات نہ کی حتیٰ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور نبی کریم ﷺ کا قصد کیا۔آپ کو دھاری دار یمنی چادر میں لپیٹا گیا تھا۔انھوں نے چادر ہٹا کر چہرہ کھولا اور جھک کر آپ کو بوسہ دیا،پھر روپڑے اورفرمایا:اللہ کے نبی!( ﷺ ) میرے ماں باپ آپ پر قربان!اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔بہرحال ایک دفعہ جو موت آپ کے مقدر میں تھی وہ تو آچکی ہے۔ راوی ابو سلمہ کہتے ہیں :مجھے حضرت...


3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ الدُّخُولِ عَلَى المَيِّتِ بَعْدَ المَوْتِ إ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1244. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا قُتِلَ أَبِي جَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ أَبْكِي وَيَنْهَوْنِي عَنْهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ تَبْكِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْكِينَ أَوْ لَا تَبْكِينَ مَا زَالَتْ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ تَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: میت کو جب کفن میں لپیٹا جا چکا ہو تو اس کے پاس جانا (جائز ہے)۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1244. حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،انھوں ن فرمایا:میرے والد جب(غزوہ احد میں)شہید ہوئے تو میں بار بار ان کے چہرے سے پردہ ہٹاتا اور روتا تھا ۔لوگ مجھے اس سے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم ﷺ مجھے منع نہیں فرماتے تھے۔پھر میری پھوپھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی رونے لگی تو نبی کریم ﷺ نےفرمایا:"تو رویا نہ رو،فرشتے تو ان پر اپنے پروں کاسایہ کیے رہے حتیٰ کہ تم نے انھیں اٹھالیا۔" ابن جریج نے شعبہ کی متابعت کی ہے۔انھوں نے کہا:مجھے محمد بن منکدر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے۔...


4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابٌ:)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1293. بَاب حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ قَدْ مُثِّلَ بِهِ حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُجِّيَ ثَوْبًا فَذَهَبْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي ثُمَّ ذَهَبْتُ أَكْشِفُ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُفِعَ فَسَمِعَ صَوْتَ صَائِحَةٍ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقَالُوا ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو قَالَ فَلِمَ تَبْكِي أَوْ لَا تَبْكِي فَمَا...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: )

مترجم: BukhariWriterName

1293. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،انھوں نے فرمایا:میرے والد گرامی کو احد کے دن اس حالت میں لایاگیا کہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔انھیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ کر کپڑے سے ڈھانپ دیاگیا۔میں اس ارادے سے ان کے قریب گیا کہ ان کے چہرے سے کپڑا ہٹاؤں لیکن میری قوم نے مجھے منع کردیا۔میں دوبارہ ان کے پاس گیا تاکہ کپڑا اٹھاؤں مجھے پھرلوگوں نے منع کردیا۔اتنے میں رسول اللہ ﷺ نے ان کی میت کواٹھانے کا حکم دیا تو آپ نے چیخ مارنے والی عورت کی آواز سنی۔آپ نے فرمایا؛"یہ کون ہے؟"لوگوں نےبتایا کہ عمرو کی بیٹی یا ان کی بہن ہے۔آپ نے فرمایا:"یہ کیوں روتی ہے؟"یافرمایا:...


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ ظِلِّ المَلاَئِكَةِ عَلَى الشَّهِيدِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2816. حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الفَضْلِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ المُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: جِيءَ بِأَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، وَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَذَهَبْتُ أَكْشِفُ عَنْ وَجْهِهِ، فَنَهَانِي قَوْمِي فَسَمِعَ صَوْتَ صَائِحَةٍ، فَقِيلَ: ابْنَةُ عَمْرٍو - أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو - فَقَالَ: «لِمَ تَبْكِي - أَوْ لاَ تَبْكِي - مَا زَالَتِ المَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا» قُلْتُ لِصَدَقَةَ: أَفِيهِ «حَتَّى رُفِعَ» قَالَ: رُبَّمَا قَالَهُ...

صحیح بخاری : کتاب: جہاد کا بیان (باب : شہیدوں پر فرشتوں کا سایہ کرنا )

مترجم: BukhariWriterName

2816. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میرے والد گرامی کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس حالت میں لایا گیا کہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔ میں نے ان کے چہرے سے کپڑا اٹھانا چاہا تو میری قوم نے مجھے منع کردیا۔ اس دوران میں آپ ﷺ نے ایک چلانے والی عورت کی آوازسنی اور کہا گیا کہ یہ عمرو کی بیٹی یا اس کی بہن ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم کیوں روتی ہو؟یا فرمایاتم اس پر مت رؤو، اس پر تو فرشتوں نے برابر اپنے پروں سے سایہ کررکھا ہے۔ "(امام بخاری ؓ کہتے ہیں کہ) میں نے(اپنے شیخ) صدقہ(راوی) سے دریافت کیا: اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں: "حتیٰ کہ اس کو اٹھا لی...


6 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3667. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ بِالسُّنْحِ، - قَالَ: إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي بِالعَالِيَةِ - فَقَامَ عُمَرُ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ مَا كَانَ يَقَعُ فِي نَفْسِي إِلَّا ذَاكَ، وَلَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ، فَلَيَقْطَعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ، ف...

صحیح بخاری : کتاب: نبی کریمﷺ کے اصحاب کی فضیلت (باب: فرمان مبارک کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکرؓکو بناتا )

مترجم: BukhariWriterName

3667. نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی جاگیر سنح یعنی مدینہ کے بالائی حصے میں تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوئے: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے وفات نہیں پائی۔ مزید فرمایا: واللہ! میرے دل میں یہی بات آئی ہے کہ آپ نے وفات نہیں پائی اور اللہ تعالیٰ آپ کو(صحت یابی کے بعد) اٹھائے گا تو آپ(موت کی باتیں کر نے والے) لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے۔ اتنے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ انور ...


7 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3668. فَحَمِدَ اللَّهَ أَبُو بَكْرٍ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: أَلا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لاَ يَمُوتُ، وَقَالَ: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} [الزمر: 30]، وَقَالَ: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ} [آل عمران: 144]، قَالَ: فَنَشَجَ النَّاسُ يَبْكُونَ، قَالَ: وَاجْتَمَعَتِ الأَنْصَارُ إِلَى سَعْدِ بْنِ ...

صحیح بخاری : کتاب: نبی کریمﷺ کے اصحاب کی فضیلت (باب: فرمان مبارک کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکرؓکو بناتا )

مترجم: BukhariWriterName

3668. حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی، پھر فرمایا: توجہ سے سنو!جو شخص حضرت محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت محمد ﷺ کی وفات ہوچکی ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتاتھا تو بے شک اللہ تعالیٰ زندہ جاویدہے اور اس پرکبھی موت نہیں آئے گی، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی؛ "بے شک آپ مرنے والے ہیں اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔ "نیز یہ آیت بھی تلاوت فرمائی: "حضرت محمد ﷺ صرف رسول ہیں۔ آپ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ اگرآپ وفات پاجائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیاتم سب اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟اور جو کوئی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائ...


8 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3669. وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ القَاسِمِ، أَخْبَرَنِي القَاسِمُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: شَخَصَ بَصَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ثَلاَثًا، وَقَصَّ الحَدِيثَ، قَالَتْ: فَمَا كَانَتْ مِنْ خُطْبَتِهِمَا مِنْ خُطْبَةٍ إِلَّا نَفَعَ اللَّهُ بِهَا لَقَدْ خَوَّفَ عُمَرُ النَّاسَ، وَإِنَّ فِيهِمْ لَنِفَاقًا فَرَدَّهُمُ اللَّهُ بِذَلِكَ،...

صحیح بخاری : کتاب: نبی کریمﷺ کے اصحاب کی فضیلت (باب: فرمان مبارک کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکرؓکو بناتا )

مترجم: BukhariWriterName

3669. ایک دوسری سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے اپنی آنکھیں اوپر اٹھائیں، پھر تین مرتبہ فرمایا: "(اے اللہ!) مجھے ملا اعلیٰ میں داخل کردے۔ "اور بقیہ حدیث بیان کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حضرات کے خطاب سے بہت فائدہ پہنچایا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو ڈراتے تھے تاکہ لوگوں میں کہیں نفاق نہ پھوٹ پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی وجہ سے اس نفاق کو دورکردیا۔ ...


9 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3670. ثُمَّ لَقَدْ بَصَّرَ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ الهُدَى، وَعَرَّفَهُمُ الحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ وَخَرَجُوا بِهِ، يَتْلُونَ {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ، قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ} [آل عمران: 144] إِلَى {الشَّاكِرِينَ} [آل عمران: 144]

صحیح بخاری : کتاب: نبی کریمﷺ کے اصحاب کی فضیلت (باب: فرمان مبارک کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکرؓکو بناتا )

مترجم: BukhariWriterName

3670. حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی خوب رہنمائی فرمائی اور جو ان کی ذمہ داری تھی وہ ان پر واضح کی، چنانچہ جب لوگ وہاں سے نکلے تو یہ آیت کریمہ تلاوت کررہے تھے: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌّ۔ ۔ ۔ الشَّاكِرِينَ تک۔


10 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ مَنْ قُتِلَ مِنَ المُسْلِمِينَ يَوْمَ أُحُدٍ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4079. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُولُ: «أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ» فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدٍ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: «أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاَءِ يَوْمَ القِيَامَةِ» وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا...

صحیح بخاری : کتاب: غزوات کے بیان میں (باب: جن مسلمانوں نے غزوئہ احد میں شہادت پائی ان کا بیان۔ )

مترجم: BukhariWriterName

4079. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ شہدائے اُحد میں سے دو، دو کو ایک کفن میں لپیٹتے، پھر دریافت فرماتے: "ان میں سے کس کو زیادہ قرآن یاد ہے؟" جب کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو اسے لحد میں قبلے کی طرف آگے کرتے اور فرماتے: "میں قیامت کے دن ان کے حق میں گواہی دوں گا۔" پھر آپ نے تمام شہداء کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا۔ آپ نے ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی اور نہ انہیں غسل ہی دیا گیا۔ ...