1 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الوُضُوءِ بَابُ أَبْوَالِ الإِبِلِ، وَالدَّوَابِّ، وَالغَنَم...

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

233 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَدِمَ أُنَاسٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ، فَاجْتَوَوْا المَدِينَةَ «فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِلِقَاحٍ، وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا» فَانْطَلَقُوا، فَلَمَّا صَحُّوا، قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَجَاءَ الخَبَرُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ جِيءَ بِهِمْ، «فَأَمَرَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسُمِرَتْ أَعْيُ...

صحیح بخاری:

کتاب: وضو کے بیان میں

(

باب: اونٹ، بکری اور چوپایوں کا پیشاب اور ان کے ...)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

233. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے اور انہیں یہاں کی آب و ہوا موافق نہ آئی تو نبی ﷺ نے انہیں دودھ والی اونٹنیوں میں جانے کا حکم دیا کہ وہاں جا کر ان کا دودھ اور پیشاب استعماال کریں، چنانچہ وہ لوگ چلے گئے۔ اور جب وہ صحت مند ہو گئے تو انھوں نے نبی ﷺ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا اور جانور ہانک کر لے گئے۔ صبح کے وقت (رسول اللہ ﷺ کو جب) یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان کے تعاقب میں چند آدمی روانہ کیے، چنانچہ سورج بلند ہوتے ہی ان سب کو گرفتار کر لیا گیا۔ پھر آپ کے حکم سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے گئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں، ...


2 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ التَّيَمُّمِ بَابٌ التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

347 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ المَاءَ شَهْرًا، أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ وَيُصَلِّي، فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فِي سُورَةِ المَائِدَةِ: {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: 43] فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لَأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ المَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا الصَّعِيدَ. قُلْتُ: وَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ أ...

صحیح بخاری:

کتاب: تیمم کے احکام و مسائل

(باب: تیمم میں ایک ہی دفعہ مٹی پر ہاتھ مارنا کافی ہ...)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

347. حضرت شقیق بن سلمہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ  اور حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کے پاس بیٹھا تھا، حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے کہا: اگر کسی کو جنابت لاحق ہو جائے اور اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے تو کیا وہ تیمم نہ کر لے اور نماز پڑھے؟ (حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا: نہیں، خواہ اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے۔) حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے فرمایا: آپ سورہ مائدہ کی اس آیت کے متعلق کیا کہیں گے: ’’اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن م...


3 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ اسْتِعْمَالِ إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَأَلْبَانِه...

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1501 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ اجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَرَخَّصَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ بِالْحَرَّةِ يَعَضُّونَ الْحِجَارَةَ تَابَعَهُ أَبُو قِلَابَةَ وَحُمَيْدٌ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ...

صحیح بخاری:

کتاب: زکوٰۃ کے مسائل کا بیان

(باب: زکوٰۃ کے اونٹوں سے مسافر لوگ کام لے سکتے ہیں ...)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1501. حضرت انس ؓ  سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے چند لوگ مدینہ طیبہ آئے تو اس کی آب وہوا ان کے موافق نہ آئی۔ رسول اللہ ﷺ نےانھیں اجازت دی کہ وہ صدقے کے اونٹوں میں جاکر ان کاد ودھ اور پیشاب نوش کریں۔ انھوں نے چرواہے کوقتل کردیا اور اونٹ لے کر بھاگ نکلے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی روانہ کیے، چنانچہ انھیں گرفتار کرکے لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کاحکم دیا، نیزان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنے کوکہا، پھر انھیں گرم پتھریلی زمین پر پھینک دیا، چنانچہ وہ پیاس کے مارے پتھروں کو چباتے تھے۔ ابوقلابہ، حمید اور ثابت نے حضرت انس ؓ  سے روایت کرنے میں ...


4 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الصُّلْحِ بَابُ الصُّلْحِ فِي الدِّيَةِ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2703 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ: أَنَّ الرُّبَيِّعَ وَهِيَ ابْنَةُ النَّضْرِ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَطَلَبُوا الأَرْشَ، وَطَلَبُوا العَفْوَ، فَأَبَوْا، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمْ بِالقِصَاصِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالحَقِّ، لاَ تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا، فَقَالَ: «يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ القِصَاصُ»، فَرَضِيَ القَوْمُ وَعَفَوْا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ...

صحیح بخاری:

کتاب: صلح کے مسائل کا بیان

(باب : دیت پر صلح کرنا ( یعنی قصاص معاف کرکے دیت پر...)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2703. حضرت انس  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ حضرت ربیع  ؓ جونضر کی دختر تھیں، انھوں نے کسی نوجوان لڑکی کا اگلا دانت توڑ دیا تو لڑکی کے ورثاء نے تاوان کا مطالبہ کردیا۔ ربیع کے خاندان نے معافی کی درخواست کی تو انھوں نے انکار کردیا اور وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے قصاص لینے کا حکم دیا۔ حضرت انس بن نضر  ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ربیع کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے انس  ؓ ! کتاب اللہ کا فیصلہ تو قصاص ہی ہے۔‘&ls...


5 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَاتَّخَذَ اللَّهُ ...

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3349 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا المُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا، ثُمَّ قَرَأَ: {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ} [الأنبياء: 104]، وَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ القِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ أَصْحَابِي أَصْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَاب...

صحیح بخاری:

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں

(

سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ اور ا...)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3349. حضرت ابن عباس  ؓسے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن تم لوگ ننگے پاؤں، برہنہ بدن اور بغیر ختنہ جمع کیے جاؤ گے۔‘‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : ’’جیسے ہم نے پہلی بار پیدا کیا، اسی طرح ہم دوبارہ لوٹائیں گے۔ یہ وعدہ ہمارے ذمے ہے۔ یقیناً (اسے)ہم پورا کریں گے۔‘‘ (پھر فرمایا:)’’قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کو لباس پہنایا جائے گا۔ پھر ایسا ہو گا کہ میرے چند اصحاب بائیں طرف کھینچ لیے جائیں گے۔ میں کہوں گا: یہ تو میرے اص...


6 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ {وَاذْكُرْ فِي الكِتَابِ مَرْ...

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3447 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ يُؤْخَذُ بِرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِي ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ عِيسَ...

صحیح بخاری:

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں

(

باب : سورۃ مریم میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ( اس...)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3447. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’(قیامت کے دن) تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور ختنے کے بغیر اٹھائے جاؤ گے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’جس طرح ہم نے انھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی طرح ہم دوبارہ بھی پیدا کریں گے۔ یہ ہمارا وعدہ ہ جسے ہم ضرور پورا کریں گے۔‘‘ سب سے پہلے سیدنا ابراہیم ؑ کو لباس پہنایا جائے گا۔ پھر میرے اصحاب ؓ میں سے کچھ لوگوں کو دائیں (جنت کی) جانب لے جایا جائے گا۔ لیکن کچھ کو بائیں (جہنم کی) جانب لے جایا...


7 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ المَنَاقِبِ بَابُ قِصَّةِ خُزَاعَةَ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3523.06 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ الْبَحِيرَةُ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ وَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ وَالسَّائِبَةُ الَّتِي كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ فَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ قَالَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرِ بْنِ لُحَيٍّ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ...

صحیح بخاری:

کتاب: فضیلتوں کے بیان میں

(

باب: قبیلہ خزاعہ کا بیان

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3523.06. حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ بحیرہ وہ اونٹنی ہے جس کا دودھ بتوں کے لیے روکا جاتا اور وہ بتوں کے لیے وقف ہوتی، اس لیے اس کا دودھ کوئی شخص نہیں دوہتا تھا۔ سائبہ وہ اونٹنی ہے جسے وہ اپنے معبودوں کے لیے وقف کرتے، اس پر کوئی بوجھ نہ لادا جاتا اور نہ کوئی اس پر سواری ہی کرتا۔ انھوں نے حضرت ابوہریرہ  ؓسے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے عمروبن عامر بن لحی خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا۔ یہی وہ پہلا شخص ہے جس نے عرب میں سائبہ کی رسم کو ایجاد کیا۔‘‘...


8 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ المَغَازِي بَابُ قِصَّةِ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4192 حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَاسًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَهْلَ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا نَاحِيَةَ الْحَرَّ...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

(باب: قبائل عکل اور عرینہ کا قصہ)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4192. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ قبیلہ عکل اور عرینہ کے چند لوگ مدینہ طیبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کلمہ توحید پڑھ کر اظہار اسلام کیا اور عرض کرنے لگے: اللہ کے نبی! ہم لوگ مویشی رکھتے ہیں، زرعی زمینوں والے نہیں ہیں۔ انہیں مدینہ طیبہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی تو رسول اللہ ﷺ نے کچھ اونٹ اور ایک چرواہا ان کے ساتھ کر دیا اور حکم دیا کہ شہر سے باہر کھلی فضا میں نکل جائیں اور ان اونٹوں کا دودھ اور پیشاب نوش کریں۔ وہ روانہ ہوئے لیکن حرہ کے کنارے پہنچتے ہی وہ اسلام سے برگشتہ ہو گئے اور نبی ﷺ کے چرواہے کو قتل کر کے اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ نبی ﷺ کو جب...


10 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ بَابُ قَوْلِهِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُت...

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4500 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ السَّهْمِيَّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الرُّبَيِّعَ عَمَّتَهُ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَطَلَبُوا إِلَيْهَا الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَعَرَضُوا الْأَرْشَ فَأَبَوْا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَوْا إِلَّا الْقِصَاصَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِصَاصِ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ كِتَابُ ...

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

(

باب: آیت (( یاا یھاالذین اٰمنوا کتب علیکم القصا...)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4500. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی حضرت ربیع‬ ؓ ن‬ے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے۔ پھر کچھ لوگوں نے لڑکی سے معافی کی درخواست کی لیکن اس کے ورثاء معافی کے لیے تیار نہ ہوئے۔ پھر انہوں نے دیت کی پیش کش کی تو لڑکی کے ورثاء نے دیت لینے سے انکار کر دیا۔ پھر وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بایں حالت پیش ہوئے کہ قصاص کے علاوہ کسی اور چیز پر راضی نہ تھے، چنانچہ آپ نے قصاص کا حکم دے دیا۔ اس پر حضرت انس بن نضر ؓ نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا ربیع ؓا کے دانت توڑ دیے جائیں گے؟ ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! اس کے دانت نہیں توڑے جائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ ن...